’’سستا شاہ رخ ‘‘کہنے پر فیصل واوڈا نے عظمی بخاری کا شکریہ ادا کر دیا

جنہوں نے بات کرنی ہے وہ میرے منہ پر آ کر بات کریں میں گھر کی ’’ ماسیوں ‘‘ سے تو بات نہیں کروں گا

لاہور: سینیٹر جاوید واڈا نے وزیر اطلاعات عظمی بخاری کی جانب سے ذہنی مریض اور سستا شاہ رخ خان کہنے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ مہربانی ہے مجھے برینڈ کا لقب دیا لیکن میں سی ، ڈی کیٹگری کی چائنہ کی ماسیوں کی کاپی تو نہیں ہوں ۔ ایک انٹر ویو میں فیصل واڈا نے کہا کہ میں مالکوں سے بات کرتا ہوں ،میں نے زندگی میں کبھی نوکروں سے بات کی نہ کرتا ہوں ، یہ بات میںتکبر کے زمرے میں نہیں کر رہا ۔جنہوںنے بات کرنی ہے وہ میرے منہ پر آ کر بات کریں میں گھر کی ’’ ماسیوں ‘‘ سے تو بات نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کہیں کسی کا نام نہیں لیا صرف ایک تجویز دی کہ نوکروں کا، کنیزوں کا اور نوکرانیوں کا کوٹہ بنا دیں، انہیں بھی وزیر اور مشینر بنائیں ۔اگر کوئی خود سامنے آ کر ثابت کردے میں نوکر ہوں ، میں کنیز ہوں تو اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ۔ایک طرف وہ کہہ رہی ہیں میں کون ہوں ، پھر وہ کہہ رہی ہیں میں ذہنی مریض بھی ہوں ، ان کو میری ذاتی زندگی کا اتنا پتہ ہے ۔ مجھے ان کے بارے میں یہ پتہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں وہ نواز شریف کو مخاطب کر کے ’’ را‘‘ کا ایجنٹ کہتی تھیں ،وہ ان کو مودی کا یار کہتی تھیں ، وہ حدیبیہ پیپر ملز کا ذکر کرتی تھیں ۔

اگر ایسے کسی شخص نے میرے باپ کے بارے میں ایسی بات کی ہو تو میں ایسے آدمی کو پانی بھی نہ دوں ۔یہ توجنہوں نے سلیکشن کی ہے ایسے لوگوں کی ،جو ٹک ٹاک پر پنجاب حکومت چلا رہے ہیں انہیں پتہ ہوگا۔مہربانی ہے مجھے سستا شاہ رخ خان کہا میںشکر گزار ہوں ، مجھے تو برینڈ کا لقب دیا ہے لیکن میں سی گریڈ ،ڈی کیٹگری کی چائنہ کی ماسیوں کی کاپی تو نہیں ہوں ۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین