سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شہد کی مکھیوں کو اب صرف کیڑے مار ادویات یا موسمیاتی تبدیلیوں سے ہی نہیں بلکہ جنگ، پلاسٹک کی آلودگی اور مصنوعی روشنی جیسے نئے اور سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے۔ ایک تازہ تحقیق میں ان مکھیوں کے لیے 12 نئے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے جو ان کی بقا کو آئندہ برسوں میں مزید متاثر کر سکتے ہیں۔
سائنس دانوں نے اپنی تازہ ترین تحقیق میں بتایا ہے کہ شہد کی مکھیوں کو اب کئی نئے خطرات لاحق ہو چکے ہیں جو دنیا بھر میں ان کی آبادی کے لیے شدید چیلنج بن سکتے ہیں۔ ان خطرات میں جنگ زدہ علاقے، مائیکرو پلاسٹک، اور مصنوعی روشنیوں کی آلودگی شامل ہیں۔
تحقیق میں شہد کی مکھیوں کے ماہرین نے واضح کیا کہ انہوں نے ایسے 12 نئے عوامل کی نشان دہی کی ہے جو اگلی دہائی کے دوران شہد کی مکھیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔
سائنس دانوں نے بتایا کہ پہلے ہی شہد کی مکھیوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں ان کے قدرتی مسکن کا ختم ہونا، کیڑا مار ادویات کا زیادہ استعمال، موسمیاتی تبدیلیاں اور حملہ آور کیڑوں کا پھیلاؤ شامل ہے۔ ان مسائل کے باعث کئی اقسام کی شہد کی مکھیاں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے بھی شہد کی مکھیوں کی خوراک کو متاثر کیا ہے۔ ان جنگ زدہ علاقوں میں فصلوں کی کاشت میں کمی آئی ہے، جس کے باعث شہد کی مکھیاں پورے سیزن کے دوران متنوع غذا سے محروم رہتی ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق میں یورپ کے مختلف علاقوں میں شہد کی مکھیوں کے 315 چھتوں کا جائزہ لیا۔ ان میں سے زیادہ تر میں پی ای ٹی (PET) پلاسٹک سمیت مائیکرو پلاسٹک کے ذرات پائے گئے، جو کہ شہد کی مکھیوں کے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔
محققین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مصنوعی روشنیوں کی وجہ سے شہد کی مکھیاں پھولوں پر کم جا رہی ہیں، اور ان کی پھولوں کی طرف پرواز کرنے کی شرح 62 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی نے بھی مکھیوں کی افزائش، بقا اور نشوونما کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
یہ تحقیق شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قدرتی زرعی نظام اور فصلوں کی پیداوار پر بھی گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔





















