بھارت کی ایک بار پھر آبی دہشتگردی، کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم کا بہاؤ بند کر دیا گیا

موسم گرما میں عموماً جب گلیشئرز پگھلتے ہیں تو دریائے نیلم میں پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے

بھارت نے ایک بار پھر آبی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کے کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم کا پانی روک لیا ہے، جس کے باعث دریا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ گرمیوں میں جب گلیشئرز کے پگھلنے سے پانی کی سطح بلند ہونی چاہیے، تب بھارت کی اس چالاکی نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔

بھارت نے ایک بار پھر جنگ بندی کے باوجود آبی دہشتگردی کی کارروائی کرتے ہوئے کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم کا پانی روک لیا ہے۔ موسم گرما میں عموماً جب گلیشئرز پگھلتے ہیں تو دریائے نیلم میں پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے، لیکن اب بھارت کی اس حرکت سے دریا کا بہاؤ معمول سے 40 فیصد کم ہو گیا ہے۔

 بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم سے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے بعد دریا میں پانی کی روانی بہت کم ہو گئی ہے، جو کہ ماحولیاتی اور مقامی ضروریات کے لیے ایک خطرناک علامت ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت نے اسی ڈیم سے اضافی پانی چھوڑا تھا، جس سے دریا میں اچانک پانی کی سطح بلند ہو گئی تھی۔

گرمیوں میں جب گلیشئرز پگھلتے ہیں تو دریائے نیلم میں خود بخود پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، لیکن اگر بھارت چاہے تو وہ اچانک پانی چھوڑ کر یا روک کر دریا کی سطح کو غیرمعمولی حد تک کم یا زیادہ کر سکتا ہے، جس سے نیچے کے علاقوں میں یا تو خشک سالی یا سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے 26 اپریل کو آبی جارحیت کا آغاز کر دیا تھا۔ بھارت نے بغیر پیشگی اطلاع دیے مظفرآباد کے علاقے ہٹیاں بالا میں دریائے جہلم میں اچانک پانی چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد مظفرآباد انتظامیہ کو آبی ایمرجنسی نافذ کرنی پڑی تھی۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے نکلنے والا دریائے جہلم جب اڑی کے راستے چکوٹھی میں داخل ہوتا ہے تو بھارت کے چھوڑے گئے پانی سے اس میں شدید طغیانی آ گئی تھی۔ دریا کی سطح میں اچانک اضافہ ہونے سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، اور دریا کے کنارے واقع بستیوں کی مساجد میں مسلسل اعلانات شروع کر دیے گئے تھے۔

پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے سمیت کئی دیگر سخت فیصلوں کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جو نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین