اداکارہ ماہرہ خان نے بالی وڈ میں دوبارہ کام سے متعلق سوال پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ بائیکاٹ جیسے رویے پر یقین نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات جذباتی ضرور ہیں، مگر ہمیں اپنی انڈسٹری اور ملک پر توجہ دینی چاہیے، اور بیرونی تنازعات سے زیادہ خود میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
معروف پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے بالی وڈ میں دوبارہ کام کرنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بائیکاٹ جیسے رویے پر یقین نہیں رکھتیں۔
ان دنوں ماہرہ خان اپنی نئی مزاحیہ فلم ’لو گرو‘ کی عیدالاضحیٰ پر ہونے والی ریلیز کے لیے امریکا میں فلم کی بین الاقوامی پروموشن میں مصروف ہیں۔ وہ ہیوسٹن سمیت امریکا کے مختلف شہروں میں اپنی فلم کی تشہیر کرتی نظر آئیں گی۔
حال ہی میں انہیں ڈیلاس شہر میں فلم کی پروموشن کے موقع پر دیکھا گیا، جہاں ایک مداح نے ان سے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں جب بالی وڈ میں پاکستانی فنکاروں کا بائیکاٹ ہو رہا ہے، تو ایسے میں پاکستانی اداکاروں کا کیا مؤقف ہونا چاہیے؟
ماہرہ خان نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ میرے خیال میں ہمیں سب سے پہلے اپنی فلم انڈسٹری پر توجہ دینی چاہیے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو ثقافت کو منسوخ کرنے یا بائیکاٹ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اور میں یہ بات عمومی انداز میں کہہ رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک بائیکاٹ کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، البتہ موجودہ حالات میں ہم سب بہت جذباتی ہیں، اس لیے کسی سخت مؤقف کے بجائے ہمیں اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور اپنی ترقی پر کام کرنا چاہیے۔
ماہرہ خان نے مزید کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے، اور یہ ہماری اپنی محفوظ جگہ ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ پر اور پاکستان پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے، تب ہی ہم مضبوط بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستانی فنکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں، جب کہ ان کی تصاویر میوزک البمز سے بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ آن لائن میوزک پلیٹ فارمز سے بھی پاکستانی گانے ہٹائے جا چکے ہیں۔
ماہرہ خان کے اس جواب کو سراہا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے جذبات کے بجائے سمجھداری سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور امن، ترقی اور اندرونی استحکام پر زور دیا۔





















