عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکا میں یہودی میوزیم پر حملے کے ملزم کی شناخت 30 سالہ الیاس روڈریگیز کے طور پر کی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس کا ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں پایا گیا اور وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور علمی پس منظر رکھنے والا شخص ہے۔الیاس روڈریگیز نے یونیورسٹی آف الینوائے، شکاگو سے انگریزی ادب میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نہ صرف ایک مؤرخ اور محقق ہیں بلکہ ایک کہانی نویس بھی ہیں، اور امریکی تحقیقاتی ادارے "دی ہسٹری میکرز” سے بطور سوانح نگار وابستہ ہیں۔”دی ہسٹری میکرز” میں ان کا کام امریکی معاشرے کی نمایاں شخصیات کی زندگی پر تحقیق، انٹرویوز اور سوانحی پروفائلز تیار کرنا ہے۔ ادارے میں شمولیت سے قبل وہ مختلف کمپنیوں کے لیے تخلیقی مواد تخلیق کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق، انہیں بچپن سے ہی تخیلاتی ادب اور افسانوی کہانیوں میں دلچسپی رہی ہے۔اس حیران کن واقعے کے بعد سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ایسا باشعور اور علمی پس منظر رکھنے والا شخص کس ذہنی کیفیت یا ممکنہ نظریاتی محرک کے تحت اس سنگین اقدام کی طرف راغب ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے۔ ابھی واقعے کے محرک سے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔
البتہ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے، یہ کارروائی ملزم نے انفرادی طور پر اور غزہ کے حالات کے ردعمل میں کی ہے۔
ملزم نے ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔





















