منہاج یونیورسٹی میں ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ پر سیمینار، ماہرین کا آبی تنازعات کے حل پر زور

وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے مقررین کو خوش آمدید کہا

لاہور : منہاج یونیورسٹی لاہور کے سنٹر آف ریسرچ اینڈ انوویشن آف میری ٹائم افیئرز (CRIMA) کے زیرِ اہتمام "سندھ طاس معاہدہ: تاریخی، قانونی اور تکنیکی پہلو” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ الفاربی آڈیٹوریم میںمنعقدہ تقریب میں ممتاز ماہرِ قانون ماحولیات اور حصار فاؤنڈیشن کے رکن احمد رافع عالم اورپروفیسرشعبۂ بین الاقوامی تعلقات لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مریم اعظم نے خطاب کیا۔

وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے مقررین کو خوش آمدید کہا ۔ احمد رافع عالم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک بین الاقوامی معاہدہ ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں پانی کی تقسیم کا ایک اہم قانونی دستاویز ہےجس کے قانونی نکات کو ازسرِنو سمجھنے اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو تکنیکی سطح پر مکمل تیاری کے ساتھ عالمی قوانین کی روشنی میں اپنے آبی حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر مریم اعظم نے معاہدے کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنگِ میل معاہدہ تھا جس نے تقسیمِ ہند کے بعد آبی تنازعے کو حل کرنے کی بنیاد رکھی، مگر بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات میں اس معاہدے پر نظرِ ثانی کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ علاقائی سطح پر سفارتی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے ایک نئے جامع فریم ورک کی تشکیل کی جانب قدم بڑھائے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار حل تلاش کیے جا سکیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ جیسے حساس معاملات پر علمی و تحقیقی سرگرمیاں نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں اور ایسی نشستیں پالیسی سازی میں راہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کاسیشن بھی منعقد ہوا جس میں مہمان مقررین نے شرکاء کے مختلف سوالوں کے جواب دئیے ۔تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر نے مہمان مقررین کو شیلڈز پیش کیں ۔ سیمینار میں ڈائریکٹر (CRIMA) ڈاکٹر محمد اشفاق ،ریسرچ ایسوسی ایٹ رابعہ شفیق سمیت منہاج یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی شعبہ جات کے اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین