’ہم قرض میں ڈوب گئے ہیں‘، کار میں زہر کھا کر ایک ہی خاندان کے 7 افراد نے زندگی کا خاتمہ کر لیا

خودکشی کے نوٹ میں خاندان نے اپنی معاشی بدحالی اور قرض کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے کی بات کی

بھارت کے شہر ڈہرادون سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے سات افراد نے ہریانہ کے پنچکولہ میں قرض کے بوجھ تلے دب کر کار میں زہر کھا کر اجتماعی خودکشی کر لی۔ خودکشی کے نوٹ میں خاندان نے اپنی معاشی بدحالی اور قرض کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے کی بات کی۔ یہ دلخراش واقعہ بھارت میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور غربت کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے، جو حکومتی دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

دلخراش واقعہ: خاندان کی اجتماعی خودکشی

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ڈہرادون سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے ہریانہ کے شہر پنچکولہ میں ایک ہولناک قدم اٹھاتے ہوئے اجتماعی خودکشی کر لی۔ اس خاندان کے سات افراد نے کار کے اندر زہر کھا کر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر لیا۔ مرنے والوں میں 42 سالہ پربین متل، ان کی اہلیہ، دو بیٹیاں، ایک بیٹا، اور والدین شامل ہیں۔

واقعہ کی تفصیلات: مذہبی پروگرام سے واپسی

بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ خاندان ایک مذہبی پروگرام میں شرکت کے بعد واپس اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ اس دوران انہوں نے راستے میں یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان نے ایک کار کے اندر زہر کھایا، جس کے نتیجے میں تمام افراد کی موت واقع ہو گئی۔ یہ واقعہ پنچکولہ کے سیکٹر 27 میں پیش آیا، جہاں خاندان گزشتہ دو سال سے مقیم تھا۔

عینی شاہد کا بیان: قرض کی پریشانی

عینی شاہد پنیت رانا نے بتایا کہ انہوں نے ایک کار میں کئی افراد کو بے حال حالت میں دیکھا اور فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ انہوں نے ایک مرد کو کار سے باہر نکالا جو شدید تکلیف میں تھا اور مسلسل الٹیاں کر رہا تھا۔ اس شخص نے مرنے سے قبل بتایا کہ وہ قرض کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے زہر کھا کر خودکشی کی ہے۔

پولیس کی کارروائی: خودکشی کا نوٹ برآمد

پولیس نے موقع پر پہنچ کر کار سے ایک خودکشی کا نوٹ برآمد کیا، جس میں خاندان نے اپنی معاشی بدحالی اور قرض کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے کا ذکر کیا۔ تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فارنزک ٹیم نے موقع سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ پولیس اس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ واقعے کے پس منظر کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔

معاشی ناہمواری: ایک بڑھتا ہوا بحران

یہ دلخراش واقعہ بھارت میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، غربت، اور حکومتی پالیسیوں کی ناکامی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پربین متل ایک سابق فیکٹری مالک تھے جو مالی مشکلات کے باعث ٹیکسی ڈرائیور بن گئے تھے اور ان پر 15 سے 20 کروڑ روپے کا قرض تھا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشی دباؤ کس طرح خاندانوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہا ہے۔

سماجی و معاشی مسائل پر غور کی ضرورت

یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی المناک کہانی ہے بلکہ بھارت کے سماجی و معاشی ڈھانچے میں موجود خامیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، قرضوں کا بوجھ، اور معاشی عدم استحکام لوگوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی دعوؤں کے برعکس، غریب اور متوسط طبقے کے لیے حالات بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین