مظفر آباد:آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے بلگراں میں شدید موسمی صورتحال کے باعث کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی سے تباہی پھیل گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس سانحہ میں ایک خاتون جاں بحق ہو گئی جبکہ متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
کئی مکانات تباہ
بلگراں کے مقام پر اچانک بادل پھٹنے سے زمین کھسکنے لگی، جس سے کئی مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ایک مسجد شہید ہو گئی۔ مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ علاقے میں مٹی کے تودے گرنے سے گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دشوار گزار راستوں اور خراب موسم کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
موسلادھار بارش
دوسری جانب وادی نیلم میں بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر اٹھ مقام، لوات، دواریاں، دودنیال، اور شاردہ سمیت متعدد علاقوں میں وقفے وقفے سے شدید بارشیں ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے۔
نقل و حرکت میں مشکلات
وادی کے بالائی علاقوں بشمول اڑنگ کیل، شونٹھر اور گریس میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے مقامی لوگوں کو نقل و حرکت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ٹریفک بند
کلاؤڈ برسٹ اور طغیانی کے باعث باڑیاں سے میرپورہ کے درمیان شاہراہ نیلم کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ لیسواہ اور بلگراں کے نالوں میں شدید طغیانی آنے سے کئی مکانات پانی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور سیلابی ریلوں سے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ضلعی انتظامیہ اور مقامی حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ندی نالوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔یہ واقعہ ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات کی یاد دہانی کراتا ہے، جو نہ صرف انسانی جانوں بلکہ املاک اور بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ جیسے مظاہر کی شدت اور تعداد میں اضافہ موسمیاتی نظام میں عدم توازن کا نتیجہ ہے، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کیا ہے
کلاؤڈ برسٹ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں تقریباً 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو، اور یہ سب کچھ عام طور پر 10 سے 30 منٹ کے اندر ہو جاتا ہے۔ یہ بارش کسی مخصوص چھوٹے علاقے میں مرتکز ہوتی ہے، اور اس کی شدت طوفانی ہوتی ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟
یہ اس وقت ہوتا ہے جب گرم اور مرطوب ہوا تیزی سے بلندی پر جاتی ہے اور ٹھنڈی ہو کر بادل بناتی ہے۔
جب بادلوں میں نمی کا اجتماع انتہائی حد تک بڑھ جائے، اور اس کا اخراج تیز ہو جائے، تو ایک مختصر مدت میں شدید بارش ہوتی ہے۔
عام بارش کے برعکس، کلاؤڈ برسٹ میں بارش کے قطرے زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اتنے زیادہ اور بھاری ہو جاتے ہیں کہ ایک ساتھ گرتے ہیں، جس سے زمین پر سیلاب کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کے اثرات
فلیش فلڈ (Flash Floods) اچانک اور تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ جاتی ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ (Landslides) خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں مٹی اور چٹانیں کھسکنے لگتی ہیں۔
انسانی جان و مال کا نقصان کلاؤڈ برسٹ اکثر آباد علاقوں میں آ جائے تو مکانات، سڑکیں اور پل تباہ ہو سکتے ہیں۔
زراعت کو نقصان فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور زمین کٹاؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔
پاکستان اور کلاؤڈ برسٹ
پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ کے واقعات اکثر گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اور آزاد کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ جولائی 2021 میں اسلام آباد کے سیکٹر ای-11 میں ایک کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں شدید شہری سیلاب (Urban Flooding) دیکھنے کو ملا تھا۔
کلاؤڈ برسٹ ایک خطرناک موسمیاتی عمل ہے جو موسمیاتی تبدیلی (climate change) اور ماحولیاتی عدم توازن کے اثرات کے طور پر زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت وارننگ سسٹم، شہری منصوبہ بندی، اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔





















