مس ورلڈ 2025 کے مقابلے میں حصہ لینے والی برطانوی حسینہ ملا میگی نے بھارت میں ہونے والے شرمناک سلوک پر خاموشی توڑ دی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ’’طوائف‘‘ جیسا سلوک برداشت کرنا پڑا اور امیر، ادھیڑ عمر مردوں کے ساتھ زبردستی وقت گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ اخلاقی حدود کی خلاف ورزی اور توہین آمیز رویے کے باعث وہ مقابلہ ادھورا چھوڑ کر انگلینڈ واپس چلی گئیں۔ ان کے الزامات نے بھارتی معاشرے اور مس ورلڈ ایونٹ کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنه آیا ہے۔
مس ورلڈ 2025 میں شرمناک تجربہ
بھارت کے شہر حیدرآباد میں جاری مس ورلڈ 2025 کے مقابلے نے ایک سنگین تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے۔ برطانوی حسینہ اور مس انگلینڈ 2024 کی فاتح، 24 سالہ ملا میگی نے مقابلے کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے غیر اخلاقی سلوک پر خاموشی توڑ دی۔ برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ’’طوائف جیسا سلوک‘‘ برداشت کرنا پڑا اور وہ اس توہین آمیز ماحول میں مزید مقابلہ جاری نہ رکھ سکیں۔
’’امیر مردوں کے ساتھ زبردستی وقت گزارنا پڑا‘‘
ملا میگی نے بتایا کہ مقابلے کے منتظمین نے انہیں اور دیگر شرکا کو امیر اور ادھیڑ عمر مردوں کے ساتھ زبردستی وقت گزارنے پر مجبور کیا، جو ایونٹ کے مالی معاونین تھے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ان مردوں کے ساتھ پورا دن بیٹھنے اور ان کی تفریح کا سامان بننے کا دباؤ ڈالا گیا۔ یہ تجربہ نہ صرف ذلت آمیز تھا بلکہ میری اخلاقی اقدار کے بالکل منافی تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مس ورلڈ جیسے عالمی مقابلے سے انہیں ’’خوبصورتی کے ساتھ مقصد‘‘ (Beauty with a Purpose) کی توقع تھی، لیکن اس کے بجائے انہیں شے کی طرح پیش کیا گیا۔
مقابلہ چھوڑنے کا فیصلہ
ملا میگی نے بتایا کہ وہ ان حالات کو برداشت نہ کر سکیں اور 16 مئی 2025 کو مقابلہ ادھورا چھوڑ کر انگلینڈ واپس چلی گئیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں ایک عزت دار مقابلے میں حصہ لینے آئی تھی، نہ کہ کسی کی دل لگی یا وقت گزاری کے لیے۔ مس ورلڈ کے پلیٹ فارم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن یہ 1960 اور 70 کی دہائی کی سوچ سے آگے نہیں بڑھا۔‘‘ ان کے اس فیصلے نے مس ورلڈ کی 74 سالہ تاریخ میں ایک نیا موڑ پیدا کیا، کیونکہ وہ مقابلہ چھوڑنے والی پہلی مس انگلینڈ ہیں۔ ان کی جگہ مس انگلینڈ کی رنر اپ، شارلٹ گرینٹ نے مقابلے میں حصہ لیا۔
منتظمین کا موقف اور تنازع
مس ورلڈ آرگنائزیشن کی چیئرپرسن جولیا مورلی نے ملا میگی کے الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملا نے اپنی والدہ کی صحت سے متعلق ایمرجنسی کی وجہ سے مقابلہ چھوڑا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملا کے بھارت میں قیام کے دوران انہوں نے ایونٹ سے متعلق مثبت خیالات کا اظہار کیا تھا، اور برطانوی میڈیا کے دعوؤں کو مسترد کرنے کے لیے ویڈیوز جاری کیں۔ تاہم، ملا نے ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مقابلے میں ’’پرفارمنگ مانکیز‘‘ کی طرح پیش کیا گیا اور ان کی سماجی خدمات کے ایجنڈے کو نظر انداز کیا گیا۔
تلنگانہ حکومت کا ردعمل
ملا میگی کے الزامات کے بعد تلنگانہ کے وزیر کے ٹی راما راؤ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’ملا میگی، آپ ایک بہادر خاتون ہیں، اور مجھے افسوس ہے کہ آپ کو تلنگانہ میں اس تجربے سے گزرنا پڑا۔ ہمارے صوبے میں خواتین کے احترام کی عظیم ثقافت ہے، اور آپ کا تجربہ اس کی نمائندگی نہیں کرتا۔‘‘ انہوں نے ان الزامات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ’’وِکٹم گیس لائٹنگ‘‘ کی مذمت کی۔ تاہم، تلنگانہ کے ایک سینئر آئی اے ایس افسر جے ایش رنجن نے تحقیقات کے بعد کہا کہ ملا کے الزامات کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
ملا میگی کے انکشافات نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ صارفین نے بھارتی ایونٹس میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا، ’’یہ شرمناک ہے کہ مس ورلڈ جیسے عالمی پلیٹ فارم پر خواتین کو اس طرح کی ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ ’’بھارت کو اپنے ایونٹس کے انتظامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ خواتین کی عزت اور وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘ ان ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملا کے الزامات نے بھارتی معاشرے اور مس ورلڈ ایونٹ کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اخلاقی اقدار کی اہمیت
ملا میگی کا یہ فیصلہ نہ صرف ان کی جرات اور خودداری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی مقابلوں کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے الزامات نے مس ورلڈ کے ’’خوبصورتی کے ساتھ مقصد‘‘ کے نعرے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خواتین کے احترام اور ان کی خودمختاری کو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تحقیقات کا آغاز ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس تنازع نے عالمی سطح پر بھارت کے ایونٹس کے انتظامات اور خواتین کے ساتھ سلوک پر بحث چھیڑ دی ہے۔





















