معروف ٹیکنالوجی ٹائیکون ایلون مسک نے 29 مئی 2025 کو ٹرمپ انتظامیہ میں بطور مشیر اور ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ اپنے عہدوں سے اچانک استعفیٰ دے دیا۔ مسک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست اطلاع دیے بغیر یہ فیصلہ کیا، جس کی تصدیق وائٹ ہاؤس نے کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور DOGE کے مشن کی مضبوطی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ استعفیٰ سے ایک روز قبل مسک نے ٹرمپ کے مجوزہ بل پر تنقید کی تھی، جسے وہ وفاقی خسارے میں اضافے اور DOGE کے مقاصد سے متصادم سمجھتے تھے۔ یہ اقدام وفاقی بیوروکریسی میں اصلاحات اور بجٹ کٹوتیوں پر مسک کو درپیش شدید تنقید کے تناظر میں سامنے آیا، جس نے عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔
ایلون مسک کا غیر متوقع استعفیٰ
29 مئی 2025 کو دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی ویژنری ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے کردار سے اچانک دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ مسک، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اور ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، نے بغیر پیشگی اطلاع کے یہ فیصلہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسک نے صدر ٹرمپ سے براہ راست رابطہ کیے بغیر اپنا عہدہ چھوڑ دیا، جس نے انتظامیہ کے اندر اور باہر ہلچل مچا دی۔
سوشل میڈیا پر اعلان
مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر لیکن معنی خیز بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے اپنی خصوصی سرکاری ملازم (Special Government Employee) کی مدت کے اختتام کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’حکومت کے خصوصی ملازم کے طور پر میرا وقت مکمل ہو چکا ہے۔ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے سرکاری اخراجات کم کرنے کا موقع دیا۔ DOGE کا مشن وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوگا کیونکہ یہ حکومت بھر میں ایک طرز زندگی بن جائے گا۔‘‘ یہ بیان نہ صرف ان کی روانگی کی تصدیق کرتا ہے بلکہ DOGE کے مستقبل کے لیے ان کے پرامید وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
DOGE کا قیام اور مسک کا کردار
ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں 20 جنوری 2025 کو ایگزیکٹو آرڈر 14158 کے ذریعے قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد وفاقی اخراجات میں کمی، بیوروکریسی کو کم کرنا، اور حکومتی اداروں کی کارکردگی بڑھانا تھا۔ مسک کو اس ادارے کی قیادت سونپی گئی تھی، اور انہوں نے وفاقی ایجنسیوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں اور ملازمتوں کی چھانٹی کی مہم شروع کی۔ تاہم، ان کے جارحانہ انداز اور غیر روایتی فیصلوں نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا، جس سے ان کی پوزیشن تنازعات کا شکار رہی۔
ٹرمپ کے مجوزہ بل پر تنقید
استعفیٰ سے صرف ایک روز قبل، 28 مئی 2025 کو، مسک نے صدر ٹرمپ کے مجوزہ قانون (Massive Beautiful Bill) پر کھلے عام تنقید کی تھی، جو ان کے لیے انتظامیہ سے دوری کا ایک اہم محرک ثابت ہوئی۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں مسک نے کہا، ’’یہ بل یا تو بڑا ہو سکتا ہے یا خوبصورت، دونوں نہیں۔‘‘ انہوں نے بل میں شامل ٹیکس کٹوتیوں، سخت گیر امیگریشن پالیسیوں، اور دیگر اخراجاتی شقوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وفاقی خسارے میں اضافے کا باعث بنیں گے، جو DOGE کے بنیادی مقصد—یعنی مالیاتی کفایت شعاری—سے متصادم ہیں۔ یہ تنقید مسک اور ٹرمپ کے درمیان پالیسی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔
عوامی اور سیاسی تنقید
مسک کی DOGE قیادت کے دوران وفاقی ایجنسیوں، جیسے کہ یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (USAID) اور وائس آف ایمرہا کی مکمل خاتمے کی تجاویز، اور تقریباً 10,000 ملازمتوں کی چھانٹی نے شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا۔ مارچ 2025 میں ہونے والے ایک پول کے مطابق، صرف 41% امریکی عوام نے DOGE کے اقدامات کی حمایت کی، جبکہ 38% نے مسک کی شخصیت کو پسند کیا۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں اور وفاقی ملازمین کے اتحادیوں نے مسک پر الزام لگایا کہ انہوں نے قانون اور عادلانہ عمل سے تجاوز کیا، جس کے نتیجے میں متعدد قانونی چیلنجز درپیش آئے۔ ان تنقیدوں نے مسک کے لیے انتظامیہ میں کام جاری رکھنا مشکل بنا دیا۔
ٹیسلا اور کاروباری دباؤ
مسک کی سرکاری ذمہ داریوں کے دوران ان کے کاروباری اداروں، خاص طور پر ٹیسلا کو شدید دھچکوں کا سامنا رہا۔ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیسلا کی فروخت میں 13% کمی اور منافع میں 70% کی گراوٹ دیکھی گئی، جس کی وجہ مسک کی سیاسی سرگرمیوں پر عوامی ردعمل اور ٹرمپ کی چین کے خلافہ عائد کردہ ٹریعز کو قرار دیا گیا۔ ٹیسلا نے خبردار کیا کہ ’’سیاسی جذبات میں تبدیلی‘‘ اس کے کاروبار کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں، مسک کا فیصلہ کہ وہ اپنا زیادہ وقت ٹیسلا کے لیے وقف کریں گے، ان کے استعفیٰ کے فیصلے کا ایک اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔
DOGE کا مستقبل
مسک کی روانگی کے باوجود، DOGE کا مشن جاری رہنے کی توقع ہے۔ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، یہ ادارہ جولائی 2026 تک فعال رہے گا۔ مسک کے مقرر کردہ اعلیٰ عہدیدار، جیسے کہ ایمی گلیسن اور اسٹیو ڈیوس، ایجنسیوں میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھیں گے۔ تاہم، مسک کے بغیر DOGE کی سمت اور تاثیر کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسک کی غیر معمولی سوشل میڈیا موجودگی اور فیصلہ سازی کے انداز کے بغیر DOGE اپنی موجودہ رفتار کھو سکتا ہے۔ دوسری جانب، مسک نے کہا کہ وہ دور سے DOGE کے لیے مشاورت جاری رکھیں گے، لیکن اس کا دائرہ محدود ہوگا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
مسک کے استعفیٰ نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر زبردست بحث کو جنم دیا۔ پاکستانی صارفین نے اسے ایک غیر متوقع پیش رفت قرار دیتے ہوئے تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ایلن مسک کی روانگی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑا دھچکا ہے، لیکن کیا DOGE اب بھی اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا؟‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’مسک نے ہمیشہ غیر روایتی فیصلے کیے، لیکن یہ واقعی حیران کن ہے۔‘‘ عالمی سطح پر، کچھ صارفین نے اسے مسک کی کاروباری ترجیحات کی فتح قرار دیا، جبکہ دیگر نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔
ایک متنازعہ دور کا اختتام
ایلون مسک کی ٹرمپ انتظامیہ سے اچانک کنارہ کشی اور DOGE کی قیادت سے استعفیٰ ایک متنازعہ دور کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے جارحانہ اصلاحات، عوامی تنقید، اور ٹرمپ کے مجوزہ بل پر اختلافات نے ان کی روانگی کو ناگزیر بنا دیا۔ اگرچہ مسک نے DOGE کے ذریعے وفاقی بیوروکریسی کو ہلانے کی کوشش کی، لیکن ان کے دعوے کردہ $500 ارب کے بجائی نتائج کی ساکھ مشکوک ہے، اور نئے اخراجات نے ان کے اثرات کو کم کیا۔ مسک کی روانگی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج ہے، لیکن یہ مسک کے لیے اپنے کاروباری سلطنت—خاص طور پر ٹیسلا اور اسپیس ایکس—پر توجہ دینے کا موقع بھی ہے۔ دنیا اب یہ دیکھنے کے لیے منتظر ہے کہ DOGE مسک کے بغیر کس سمت جاتا ہے اور مسک کا اگلا قدم کیا ہوگا۔





















