اسلام آباد:وفاقی حکومت نے بجلی کے صارفین کو اوور بلنگ جیسے اہم مسئلے سے نجات دلانے کے لیے ایک انقلابی اسکیم "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت صارفین خود اپنے بجلی کے میٹر کی ریڈنگ کر کے متعلقہ ایپ پر ارسال کریں گے، تاکہ بلنگ میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف اراکین نے بجلی کی قیمتوں، سبسڈی اور اوور بلنگ کے معاملات پر سوالات اٹھائے۔ اجلاس کی صدارت میں، رکن اسمبلی رانا محمد حیات نے دریافت کیا کہ آیا آئندہ مالی سال میں بجلی کے نرخوں میں کمی متوقع ہے یا نہیں؟ جس پر چیئرمین نیپرا نے وضاحت کی کہ فی الحال بجلی کے موجودہ نرخ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
صنعتی و زرعی شعبے میں سبسڈی کا فرق
رانا محمد حیات نے نشاندہی کی کہ صنعتی شعبے کو 30 فیصد ریلیف دیا گیا ہے، جب کہ زرعی شعبہ کسی قسم کی سبسڈی سے محروم ہے۔ اس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے وضاحت دی کہ صنعتی شعبے کو دی گئی سہولت دراصل کراس سبسڈی کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔ مزید بتایا گیا کہ بجلی کے شعبے میں بہتری کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں شکایات اور نظامی کمزوریوں کی نشاندہی
رکن اسمبلی راجا قمر الاسلام نے کہا کہ پاور کمیٹی کا اجلاس ہونے کے باوجود انہیں پیٹرولیم ڈویژن کے منٹس موصول ہوئے ہیں، جو انتظامی بے ترتیبی کی طرف اشارہ ہے۔ جنید اکبر نے کہا کہ انہوں نے چار ماہ قبل خود کنڈا ہٹانے کی پیشکش کی تھی، مگر اس کے باوجود لائن لاسز میں کمی نہیں آ سکی اور عوام کو روزانہ کئی گھنٹے بجلی کی عدم فراہمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کام نہیں کرتے، مگر عوامی غصہ ہمیں سہنا پڑتا ہے۔
پیسکو کی کارکردگی میں بہتری کی دعویداری
اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پیسکو نے بتایا کہ ان کے دائرہ اختیار میں اُن کے تعاون سے بہتری آئی ہے اور اگلے ماہ سے مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
سبسڈی کی فراہمی اور اصل حقداروں تک رسائی
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اجلاس میں ہدایت کی کہ سبسڈی ماہانہ بنیادوں پر دی جائے اور متعلقہ ایس ڈی او کی ذمہ داری لگائی جائے کہ وہ مستحقین تک ریلیف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سبسڈی صرف انہی لوگوں کو دی جائے جو اس کے اصل حقدار ہیں۔
100 سے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بڑی رعایت
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت نے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 56 فیصد جب کہ 101 سے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 48 فیصد تک رعایت فراہم کی ہے، جو ایک بڑا ریلیف ہے۔
اسکیم کا باضابطہ اعلان وزیر اعظم کریں گے
اویس لغاری نے کہا کہ اوور بلنگ کے مستقل حل کے لیے وزیراعظم جلد ’’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘‘ اسکیم کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ اس اسکیم کے تحت ہر صارف کو یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ اپنے موبائل فون سے میٹر کی تصویر یا ریڈنگ خود بھیجے تاکہ درست بلنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔
سبسڈی کو بی آئی ایس پی سے جوڑنے کا فیصلہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے صارفین سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ اصل مستحقین کو ہی فائدہ پہنچایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بی آئی ایس پی کے ڈیٹا کو اپڈیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی نہ ہو۔
آئی پی پیز کے معاہدوں کی منسوخی سے 3400 ارب کا فائدہ
وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے غیر موزوں معاہدے ختم کر کے عوام کو 3400 ارب روپے کا براہ راست فائدہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کو سستا کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور حکومت اس سمت میں مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔





















