پولینڈ کے ساحل سے 66 سال پرانا بوتل میں بند ’لَو لیٹر‘ دریافت

یہ خط 1959 میں ایک لڑکی نے اپنے محبوب کے نام لکھا تھا

پولینڈ کے شہر گڈانسک کے ساحل پر دو کم عمر لڑکوں کو ایک حیرت انگیز دریافت ہوئی، جب انہیں سمندر کنارے ایک بوتل میں بند 66 سال پرانا ہاتھ سے لکھا ہوا محبت بھرا خط ملا۔ یہ خط 1959 میں ایک لڑکی نے اپنے محبوب کے نام لکھا تھا۔

جنگ عظیم دوم کی فصیلوں کے قریب ہائیکنگ کے دوران انکشاف

ایریک اور کوبا نامی دونوں لڑکوں کی عمر محض 10 برس ہے۔ وہ گڈانسک کے اسٹوگی ساحل کے قریب واقع جنگ عظیم دوم کے دور کی قدیم فصیلوں کے آس پاس ہائیکنگ کر رہے تھے کہ انہیں ایک شیشے کی بوتل نظر آئی، جس کے اندر دھندلی سی تحریر موجود تھی۔ ان کی تجسس بھری نگاہوں نے جب اس بوتل کو کھولا، تو ایک منفرد اور جذباتی داستان سامنے آ گئی۔

1959 میں ’رائسیا‘ نامی لڑکی کی محبت بھری تحریر

بوتل کے اندر موجود خط میں درج تحریر نہایت دھندلی ہو چکی تھی، مگر اس میں لکھنے والی کا نام ’رائسیا‘ اور جس کے نام لکھا گیا وہ ’بنی‘ تھا۔ اس خط میں رائسیا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ عموماً خود پرست ہیں اور ہمیشہ خود سے متعلق ہی سوچتی ہیں، لیکن اس لمحے وہ صرف بنی کے متعلق سوچ رہی ہیں۔ خط سے محبت، احساس اور سادگی جھلکتی ہے۔

 بچپن، محبت اور سچائی کا عکس

خط کا لہجہ اور انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ لکھنے والی کسی نوجوان لڑکی کی سچی محبت کا اظہار کر رہی تھی۔ یہ خط صرف چند جملے نہیں، بلکہ ماضی کی ایک خاموش گواہی ہے جو سمندر کی موجوں میں چھپی رہی اور اب دہائیوں بعد منظر عام پر آئی ہے۔

مصنفہ کی تلاش کے لیے میوزیم سے رابطہ

ایریک اور کوبا اس نایاب دریافت پر نہایت پُرجوش ہیں۔ انہوں نے خط کی اصلیت اور اس کی مصنفہ کی شناخت کے لیے پولینڈ کے شہر ٹارنو کے ایک مقامی میوزیم سے رابطہ کیا ہے، تاکہ اس تاریخی اور جذباتی پیغام کی مکمل کہانی سامنے لائی جا سکے۔

ماضی کی ایک خوبصورت داستان کی تلاش

یہ منفرد واقعہ نہ صرف مقامی افراد کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے۔ لوگوں کو امید ہے کہ شاید رائسیا یا بنی اب بھی زندہ ہوں، یا ان کے خاندان کے کسی فرد سے رابطہ ہو جائے تاکہ یہ محبت نامہ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین