پاکستان کا بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف شدید ردعمل

ہندو انتہا پسند تنظیموں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے، جو کھلے عام مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرتی ہیں، ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتی ہیں

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت، امتیازی سلوک اور ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی کارروائیاں نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

پاکستان بھارت میں اسلاموفوبیا کی شدت میں خطرناک حد تک اضافے کو مسلسل گہری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق، مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، امتیازی پالیسیاں اور معاشرتی و سیاسی محرومی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی سلب کیے جا رہے ہیں۔

بھارت میں اقلیتوں کے حالات تشویشناک

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے، جو کھلے عام مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرتی ہیں، ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتی ہیں اور مذہبی منافرت کو فروغ دیتی ہیں۔ ترجمان کے مطابق، یہ صورتحال نہ صرف اقلیتوں کے مذہبی، معاشی اور سماجی حقوق پر حملہ ہے بلکہ بھارت کے جمہوری دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

اسے بھی پڑھیں: برطانیہ میں اسلاموفوبیا خطرناک حد تک بڑھ گیا، 2024 میں 5,837 واقعات رپورٹ

پاکستان کا بھارتی حکومت سے مطالبہ

پاکستان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں تمام شہریوں کے لیے مذہبی آزادی، جان و مال کا تحفظ اور مساوی شہری حقوق کو یقینی بنائے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا مسلک سے ہو۔ ترجمان نے زور دیا کہ ریاستی مشینری کا فرض ہے کہ وہ نفرت پر مبنی بیانیے اور شدت پسند عناصر کو روکے، نہ کہ ان کی پشت پناہی کرے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت

دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا کو بین المذاہب ہم آہنگی، تحمل اور مفاہمت کی اشد ضرورت ہے، مذہبی منافرت کو سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہایت افسوسناک اور خطرناک رجحان ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ طرز عمل نہ صرف مقامی سطح پر نفرت کو جنم دیتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شدت پسندی کو فروغ دیتا ہے۔

عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کی اپیل

ترجمان نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی اور تشدد کا فوری نوٹس لیں اور بھارتی حکومت پر اقلیتوں کے تحفظ کے لیے دباؤ ڈالیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق، بھارت کی جمہوری ساکھ اس وقت شدید متاثر ہو رہی ہے، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو نہ صرف بھارت کے اندرونی حالات مزید خراب ہوں گے بلکہ یہ خطے میں کشیدگی اور بداعتمادی کا باعث بنے گا۔

بھارت میں حالیہ واقعات کی تفصیل

دفتر خارجہ کے بیان میں حالیہ کچھ واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا جن میں مسلمانوں کو محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد، دھمکیوں، بے دخلی اور دیگر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں کئی واقعات ایسے بھی ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں جن میں انتہا پسند ہندو گروہوں کی جانب سے مسلمانوں کو زبردستی "جئے شری رام” کے نعرے لگوانے، ان کے کاروبار بند کروانے اور ان پر جسمانی حملوں کی ویڈیوز دیکھی گئیں۔

بھارت میں اسلامو فوبیا کے حالیہ نمایاں واقعات

اترپردیش میں حجاب تنازع (مئی 2025): اترپردیش کے میرٹھ میں خالصہ گرلز انٹر کالج میں ایک مسلم طالبہ کو حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے ساتھ امتیازی سلوک پر بحث چھیڑ دی۔
احمد آباد میں مسلم گھروں کی مسماری (مئی 2025): گجرات کے احمد آباد میں چندولا جھیل کے قریب 7000 مسلم گھرانوں کے مکانات کو "بلڈوزر کارروائی” کے تحت مسمار کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اسے مسلم کمیونٹی کے خلاف منظم ظلم قرار دیا گیا۔
سنبھل جامع مسجد تنازع (نومبر 2024): اترپردیش کے سنبھل میں جامع مسجد پر حملہ اور اس کی بے حرمتی نے مسلم کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ یہ واقعہ مذہبی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔
نفرت انگیز تقریر میں اضافہ: 2023 کی دوسری ششماہی میں مسلم مخالف ہیٹ اسپیچ میں 63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2025 میں بھی جاری ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر۔

بالی ووڈ کا کردار: بھارتی فلمیں ہندو قوم پرست ایجنڈے کو فروغ دیتی ہیں، جو مسلم کمیونٹی کے خلاف منفی سٹیریوٹائپس کو تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین