بھارتی فوج نے پہلی بار پاک فوج کے ہاتھوں اپنے کئی جنگی طیارے تباہ ہونے کا اعتراف کر لیا

جنرل چوہان نے طیاروں کی تعداد یا اقسام کی بجائے ان کے گرنے کی وجوہات کو اہم قرار دیا

بھارتی فوج نے پہلی بار 6 سے 10 مئی 2025 کو پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپوں میں اپنے متعدد لڑاکا طیاروں کے نقصان کا سرکاری طور پر اعتراف کیا ہے۔ یہ تاریخی بیان ہندوستانی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے 31 مئی 2025 کو سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران بلومبرگ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ اگرچہ طیاروں کی تعداد اور اقسام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تین رافیل، ایک مگ-29، اور ایک سخوئی-30 سمیت پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔ اس اعتراف نے بھارتی فوج کی تکنیکی برتری کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں اور پاک-بھارت تعلقات میں نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے

شنگری لا ڈائیلاگ میں چونکا دینے والا انکشاف

بھارتی مسلح افواج نے پہلی بار سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپوں کے دوران اس کے متعدد لڑاکا طیارے تباہ ہوئے۔ یہ غیر معمولی بیان ہندوستانی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے 31 مئی 2025 کو سنگاپور میں منعقدہ شنگری لا ڈائیلاگ کے موقع پر بلومبرگ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ اس اعتراف نے نہ صرف عالمی توجہ حاصل کی بلکہ بھارتی فوج کی تکنیکی برتری کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

جھڑپوں کا پس منظر

6 سے 10 مئی 2025 کو پاک-بھارت سرحد پر ہونے والی فضائی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا تھا۔ بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں میزائل حملے کیے، جسے اس نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا جواب قرار دیا۔ پاکستان نے ان حملوں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ شروع کیا، جس کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی حکام کے مطابق، انہوں نے تین رافیل، ایک مگ-29، اور ایک سخوئی-30 سمیت پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔

بھارتی اعتراف کی اہمیت

جنرل انیل چوہان نے اگرچہ تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد یا اقسام کی وضاحت نہیں کی،جنرل چوہان نے طیاروں کی تعداد یا اقسام کی بجائے ان کے گرنے کی وجوہات کو اہم قرار دیا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارتی فوج نے اپنی غلطیوں کو فوری طور پر پہچانا اور دو دن کے اندر حکمتِ عملی کو بہتر کیا۔چوہان نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے دو دن بعد دوبارہ اپنے تمام طیاروں کو آپریشنل کیا اور دور سے حملوں کی حکمتِ عملی اپنائی اور پاکستان پر حملہ کیا ،لیکن ان کا یہ بیان کہ ’’نقصانات جنگ کا حصہ ہیں اور تعداد سے زیادہ وجہ اہم ہے‘‘، پاکستانی دعوؤں کی جزوی تصدیق کرتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی فوج نے پاکستان کے ہاتھوں اپنے جنگی طیاروں کے نقصان کو سرکاری طور پر تسلیم کیا، جو بھارتی فضائیہ کی ناقابلِ تسخیر شبیہ کے لیے ایک دھچکا ہے۔ اس سے قبل بھارتی حکام نے ان نقصانات کی تردید کی تھی یا انہیں ’’تکنیکی خرابی‘‘ قرار دیا تھا۔

پاکستانی فضائیہ کی کارکردگی

پاک فضائیہ نے اپنی جوابی کارروائی کے دوران نہ صرف بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا بلکہ جدید چینی ساختہ J-10C طیاروں اور PL-15 میزائلوں کی بدولت فضائی برتری بھی حاصل کی۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھارتی رافیل طیاروں سمیت پانچ جنگی جہازوں کو مار گرایا، جن کے ثبوت ڈی جی آئی ایس پی آر نے 9 مئی 2025 کو پریس کانفرنس میں پیش کیے۔ ان ثبوتوں میں طیاروں کا ملبہ، نمبرز، اور تباہ ہونے کی لوکیشنز شامل تھیں۔ امریکی اور جرمن میڈیا نے بھی پاکستانی دعوؤں کی جزوی تصدیق کی، جس نے بھارتی بیانیے کو کمزور کیا۔

بھارتی میڈیا اور حکومتی ردعمل

ابتدائی طور پر بھارتی میڈیا نے طیاروں کے نقصان کی خبروں کو دبانے کی کوشش کی، لیکن ’انڈیا ٹوڈے‘ سمیت کچھ چینلز نے جموں و کشمیر کے علاقوں پامپور اور رام بن میں طیاروں کے گرنے کی اطلاعات دیں۔ بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے 11 مئی 2025 کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’نقصانات لڑائی کا حصہ ہیں‘‘، لیکن تفصیلات دینے سے گریز کیا۔ جنرل چوہان کا تازہ بیان اسی سلسلے کی کڑی ہے، جو بھارتی فوج کے بیانیے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

عالمی ردعمل اور تجزیات

بھارتی فوج کے اعتراف نے عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا کہ پاکستان کی جوابی کارروائی میں بھارت کو ’بھاری نقصان‘ اٹھانا پڑا، اور کم از کم دو طیاروں کے ملبے کی تصدیق ہوئی۔ جرمن میڈیا نے اسے بھارت کے لیے ’شرمناک فوجی ناکامی‘ قرار دیا، جبکہ فرانسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن کے شیئرز رافیل طیاروں کی تباہی کی خبروں سے متاثر ہوئے۔ عالمی ماہرین نے پاکستانی فضائیہ کی الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں اور J-10C طیاروں کی کارکردگی کو سراہا۔

پاک-بھارت کشیدگی پر اثرات

بھارتی فوج کے اس اعتراف نے پاک-بھارت تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک نے امریکی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن اس اعتراف کے بعد دونوں جانب سے الزامات کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’’بھارت کا اعتراف پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔‘‘ دوسری جانب، بھارتی حکام نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے، جو خطے میں کشیدگی کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ایکس پر عوامی جذبات

ایکس پر پاکستانی صارفین نے بھارتی اعتراف کو پاک فضائیہ کی بڑی فتح قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’جنرل چوہان کا بیان پاکستانی عقابوں کی برتری کا اعتراف ہے۔‘‘ دوسری جانب، بھارتی صارفین نے اسے ’جنگ کا معمول‘ قرار دیتے ہوئے اپنی فوج کی حمایت کی۔ کچھ صارفین نے رافیل طیاروں کی تباہی کو بھارتی فضائیہ کے لیے ’سبق‘ قرار دیا۔ یہ ردعمل دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہری تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک نئے دور کا آغاز

بھارتی فوج کا پاک فضائیہ کے ہاتھوں لڑاکا طیاروں کے نقصان کا اعتراف نہ صرف ایک فوجی واقعہ بلکہ خطے کی جیو پولیٹیکل حرکیات میں ایک اہم موڑ ہے۔ جنرل انیل چوہان کا بیان، جو شنگری لا ڈائیلاگ جیسے عالمی فورم پر سامنے آیا، پاکستانی فضائیہ کی جدید صلاحیتوں اور بھارتی فوج کی کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے۔ اگرچہ بھارت نے نقصانات کی تعداد کو مبہم رکھا، لیکن پاکستانی دعوؤں اور عالمی میڈیا کی رپورٹس نے اس واقعے کی شدت کو اجاگر کیا۔ یہ اعتراف پاک-بھارت تعلقات کے مستقبل اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے سفارتی اور فوجی حکمت عملی پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین