جنوبی ایشیا میں ایٹمی تصادم کا خدشہ برقرار ہے، جنرل شمشاد مرزا

قومی سلامتی کمیٹی پانی کے بہاؤ کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کرے گی

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے 22ویں شنگری لا ڈائیلاگ 2025 میں خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر تصادم کے خطرے سے خبردار کیا اور مسئلہ کشمیر کو پاک-بھارت کشیدگی کی جڑ قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ جنرل مرزا نے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے حل، اور برابری پر مبنی مستقل امن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھارت پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر عالمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ پاکستان نے عالمی برادری سے باضابطہ مذاکراتی فریم ورک کی بحالی کا مطالبہ کیا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

نیوکلیئر تصادم کا بڑھتا خطرہ

پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے 1 جون 2025 کو سنگاپور میں 22ویں شنگری لا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر تصادم کے بڑھتے خطرات سے عالمی برادری کو خبردار کیا۔ انہوں نے پاک-بھارت کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کو قرار دیا اور اس کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کو خطے کے امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ جنرل مرزا نے زور دیا کہ ایشیا پیسیفک خطہ عالمی طاقت کا مرکز بن چکا ہے، اور تنازعات سے بچاؤ بحران کے بعد کی کوششوں سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔

پانی کا ہتھیار بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی

جنرل مرزا نے بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی پانی کے بہاؤ کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کرے گی۔ یہ بیان سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں اہم ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔ بھارت کی حالیہ اقدامات نے اس معاہدے کی روح کو چیلنج کیا ہے، جو خطے میں نئی کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔

مذاکرات کی ناگزیریت

جنرل مرزا نے خطے کی سلامتی کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات برابری، احترام، اور حساسیت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ باعزت اور مساوی شراکت داری پر مبنی پائیدار امن کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے موجودہ دوطرفہ، علاقائی، اور عالمی مکالماتی فریم ورکس کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔ جنرل مرزا نے عالمی نظام کو خودمختاری اور ضبط و تحمل کے اصولوں پر استوار کرنے کی وکالت کی۔

پہلگام بحران کے بعد خطرات

جنرل مرزا نے مئی 2025 کے پہلگام بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بحران سے نمٹنے کے مؤثر نظام کے فقدان کی وجہ سے عالمی طاقتیں بروقت مداخلت سے قاصر ہیں، جس سے تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی کی جھڑپوں نے نیوکلیئر خطرات کے دہانے پر لے جا کر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کیا، جس کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی

جنرل مرزا نے بھارت پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، خاص طور پر مئی 2025 کے واقعات کے دوران عام شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ عالمی امن کے اصولوں کے منافی ہیں۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ جنرل مرزا نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر توجہ دے اور خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرے۔

پاکستانی موقف اور عالمی کردار

جنرل مرزا نے پاکستان کے اصولی موقف کو دہرایا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے لیکن اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل بھارت اور عالمی برادری سے باضابطہ مذاکراتی نظام کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اعتماد کی کمی اور حساسیت کے فقدان نے موجودہ بحرانوں کو مزید پیچیدہ بنایا ہے، جس کا حل صرف کھلے اور منصفانہ مکالمے سے ممکن ہے۔

شنگری لا ڈائیلاگھ کی اہمیت

شنگری لا ڈائیلاگ، جو عالمی سیکورٹی کے اہم مسائل پر بحث کا ایک معتبر فورم ہے، نے جنرل مرزا کے خطاب کے ذریعے پاک-بھارت کشیدگی کو عالمی توجہ دلائی۔ ان کے بیانات نے نہ صرف پاکستان کے موقف کو واضح کیا بلکہ نیوکلیئر خطرات، پانی کے تنازع، اور کشمیر کے حل کی ضرورت کو عالمی ایجنڈے پر پیش کیا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کریں اور مذاکراتی عمل کو فروغ دیں۔

ایکس پر عوامی ردعمل

جنرل مرزا کے بیان نے ایکس پر بڑے پیمانے پر بحث کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’جنرل مرزا نے بھارت کے پانی کے ہتھیار کو بے نقاب کر دیا، عالمی برادری کو ایکشن لینا چاہیے۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’کشمیر کا حل ہی خطے کے امن کی کنجی ہے، پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔‘‘ کچھ صارفین نے نیوکلیئر خطرے پر تشویش کا اظہار کیا اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ردعمل پاکستانی عوام کے جذبات اور خطے کی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔

امن کے لیے مذاکرات ناگزیر

جنرل ساحر شمشاد مرزا کا شنگری لا ڈائیلاگ 2025 میں خطاب جنوبی ایشیا کے نیوکلیئر خطرات، پانی کے تنازع، اور کشمیر کے حل کی اہمیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کے پانی کو ہتھیار بنانے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان کا برابری اور احترام پر مبنی امن کا مطالبہ خطے کے استحکام کے لیے ایک واضح راستہ پیش کرتا ہے۔ تاہم، اس امن کے حصول کے لیے بھارت کی جانب سے مذاکرات کی بحالی اور عالمی برادری کی فعال شرکت ضروری ہے۔ جنرل مرزا کا خطاب نہ صرف پاکستان کے اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کے بغیر عالمی استحکام ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین