نیویارک: جون 2025 کے آغاز میں فوربس کی جانب سے ایک نئی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس سے معیشت اور ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے ۔ رپورٹ میں ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین شخص قرار پائے ہیں۔
یہ اضافہ صرف مالیاتی ترقی کا نہیں بلکہ مسک کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیکل برتری اور مارکیٹ پر اثراندازی کی عکاسی کرتا ہے۔ جب دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی نگاہیں AI، خودکار گاڑیوں اور خلائی تسخیر پر جمی ہوئی ہیں، تو مسک کی کمپنیوں نے ان تمام شعبوں میں اپنی موجودگی کو ثابت کرتے ہوئے مالی دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔
مارک زکربرگ کی حیران کن ترقی
اس فہرست میں دوسرا بڑا سرپرائز وہ ہے جو مارک زکربرگ نے دیا۔ فیس بک (اب میٹا) کے بانی نے نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا مقام برقرار رکھا، بلکہ حیران کن طور پر انہوں نے ایمازون کے بانی جیف بیزوس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد کا درجہ حاصل کرلیا۔ ان کی دولت میں رواں ماہ 34 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کا نیا خالص اثاثہ 224 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ ترقی کمپنی کے میٹاورس، AI اور ہولوگرافک کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا ثمر مانی جا رہی ہے۔
اسے بھی پڑھیں: ہم بہت جلد خود سے چلنے والی گاڑیاں سعودی عرب لائیں گے،ایلون مسک
جیف بیزوس اب تیسرے نمبر پر
ایمازون کے بانی اور مشہور سرمایہ کار جیف بیزوس اب اس فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ اگرچہ ان کی دولت میں بھی 19 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور مجموعی دولت 220 ارب ڈالر ہو گئی، تاہم زکربرگ کی غیر متوقع ترقی کے سبب وہ ایک درجہ نیچے آ گئے۔ ایمازون کی گلوبل لاجسٹک آپریشنز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروسز میں وسعت نے بیزوس کی آمدنی میں نمایاں اضافہ تو کیا، لیکن یہ تیز رفتاری زکربرگ کے سامنے ماند پڑ گئی۔
دیگر نمایاں تبدیلیاں
مائیکروسافٹ کے سابق سی ای او اسٹیو بالمر نے ایک اور بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اسپین کی معروف فیشن کمپنی زارا کے بانی امانسیو اورٹیگا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بالمر اب فہرست میں نویں نمبر پر آ گئے ہیں، اور ان کی مجموعی دولت 133 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔ مائیکروسافٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد ان کی سرمایہ کاریوں، خاص طور پر NBA ٹیم اور دیگر ٹیک اسٹارٹ اپس میں، انہیں دنیا کے بااثر سرمایہ کاروں میں شامل کر چکی ہے۔
وارن بفیٹ اور برنار آرنو کو نقصان
اس سال کے آغاز میں جن شخصیات کی دولت مستحکم دیکھی جا رہی تھی، ان میں سے دو ارب پتی افراد کو اس بار نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ خسارہ معروف سرمایہ کار وارن بفیٹ کو اٹھانا پڑا۔ ان کی کمپنی برکشائر ہیتھاوے” کے حصص میں 5 فیصد کی کمی کے باعث ان کی دولت میں 9 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، اور اب ان کی کل دولت 158 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ یہ کمی سرمایہ کاری مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال اور برکشائر کی کچھ بڑی ہولڈنگز میں مندی کے سبب ہوئی۔
اسی طرح، فرانس کے معروف کاروباری شخصیت برنار آرنو کو بھی مالی دھچکا لگا۔ ان کی لگژری برانڈز پر مبنی کمپنی LVMH کو درپیش چیلنجز کے باعث ان کی دولت میں 3 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی، اور وہ اب 144 ارب ڈالر کے ساتھ چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔
مجموعی دولت میں زبردست اضافہ
فوربس کے مطابق، دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی مشترکہ دولت اب 1.9 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو مئی کے مقابلے میں 140 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف انفرادی کمپنیوں کی ترقی کا مظہر ہے بلکہ دنیا کی معیشت میں واپس آنے والے اعتماد کا بھی اشارہ دیتا ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور متبادل توانائی کے شعبوں میں۔
جون 2025 میں دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی فہرست:
ایلون مسک 423 ارب ڈالر
مارک زکربرگ 224 ارب ڈالر
جیف بیزوس 220 ارب ڈالر
لیری ایلیسن 206 ارب ڈالر
وارن بفیٹ 158 ارب ڈالر
برنارڈ آرنو 144 ارب ڈالر
لیری پیج 142 ارب ڈالر
سرگی برن 136 ارب ڈالر
اسٹیو بالمر 133 ارب ڈالر
امانسیو اورٹیگا 124 ارب ڈالر





















