زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار

ایف سی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 80 سے زائد قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا

2 جون 2025 کی رات کراچی کی ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے 216 قیدی زلزلے کے جھٹکوں کے دوران فرار ہوگئے، جسے پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک بڑا جیل بریک قرار دیا جا رہا ہے۔ زلزلے کے باعث قیدیوں کو بیرکوں سے باہر منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے ہنگامہ آرائی کی، گارڈز پر حملہ کیا، ہتھیار چھینے، اور مرکزی گیٹ توڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس، رینجرز، اور ایف سی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 80 سے زائد قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ 135 سے زائد اب بھی مفرور ہیں۔ واقعے میں ایک قیدی ہلاک اور پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے سیکیورٹی خامیوں کی تحقیقات اور مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے جامع آپریشن کا حکم دیا ہے۔ ایک جذباتی واقعے میں ایک قیدی کی والدہ نے اسے خود جیل واپس پہنچایا۔ نیشنل ہائی وے سمیت متعدد علاقوں میں ناکہ بندی اور مساجد میں اعلانات کے ذریعے مفرور قیدیوں کی تلاش جاری ہے

زلزلے سے شروع ہونے والا بحران

رپورٹس کے مطابق، کراچی میں پیر کے روز متعدد کم شدت کے زلزلے (3.2 سے 3.6 شدت) محسوس کیے گئے، جن کا مرکز لانڈھی فالٹ ایریا تھا۔ حفاظتی اقدامات کے طور پر جیل حکام نے 600 سے 1000 قیدیوں کو بیرکوں سے کھلی جگہ پر منتقل کیا۔ اس دوران قیدیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی، گارڈز پر حملہ کیا، اور ہتھیار چھین کر مرکزی گیٹ توڑ دیا۔ زلزلے سے دیواروں میں دراڑیں پڑنے کی ابتدائی اطلاعات کو سندھ کے وزیر داخلہ نے مسترد کیا، لیکن افراتفری نے قیدیوں کو فرار کا موقع فراہم کیا۔

فوری سیکیورٹی ردعمل

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز، اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی بھاری نفری جیل پہنچ گئی۔ نیشنل ہائی وے کو دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا، اور ملیر، کوہی گوٹھ، شاہ لطیف ٹاؤن، اور کیٹل کالونی سمیت اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ ڈی آئی جی جیل محمد حسن سہتو اور ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد شمریز نے جیل کا دورہ کیا اور آپریشن کی نگرانی کی۔ ہیلی کاپٹرز اور انٹیلی جنس کی مدد سے مفرور قیدیوں کی تلاش شروع کی گئی۔

گرفتاریاں اور ہلاکتیں

سپرنٹینڈنٹ جیل ارشد شاہ کے مطابق، اب تک 80 سے زائد قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں سے کئی کو سکھن تھانے کی حدود اور کوہی گوٹھ سے پکڑا گیا۔ ایک قیدی ہلاک ہوا، جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ دو پولیس اہلکار، سکندر ولد امام بخش اور شمریز، سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جنہیں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔ نو مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے فرار قیدیوں کے خلاف جیل توڑنے اور حملہ آور ہونے کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرنا شروع کر دیے ہیں۔

جذباتی لمحہ

ایک غیر معمولی واقعے نے سب کی توجہ حاصل کی جب ایک فرار قیدی کی والدہ نے خود اسے جیل واپس پہنچایا۔ ایکس پر صارفین نے اس اقدام کو والدہ کی ہمت اور ذمہ داری کے جذبے کی عکاسی قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ ماں کا پیار اور ایمانداری ہے جو معاشرے کو جوڑتی ہے۔” اس واقعے نے جیل بریک کے تاریک منظر میں ایک مثبت کہانی کو اجاگر کیا۔

جیل کی حالت اور سیکیورٹی خامیوں

ملیر جیل میں تقریباً 6000 قیدی موجود ہیں، جن میں زیادہ تر منشیات کے جرائم اور معمولی جرائم میں ملوث ہیں۔ ڈی آئی جی جیل نے بتایا کہ زلزلے کے دوران قیدیوں کی بڑی تعداد نے حالات سے فائدہ اٹھایا۔ ابتدائی تحقیقات میں سیکیورٹی پروٹوکولز میں واضح خامیاں سامنے آئی ہیں، جن میں ناکافی عملہ اور ہنگامی حالات کے لیے تیاری کا فقدان شامل ہے۔ جیل حکام قیدیوں کی گنتی اور ریکارڈ چیک کر رہے ہیں تاکہ مفروروں کی درست تعداد کا تعین کیا جا سکے۔

اعلیٰ سطح کی تحقیقات

سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنچار نے واقعے کو "انتہائی سنگین” قرار دیتے ہوئے آئی جی جیل قزی نزیر اور ڈی آئی جی جیل سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غفلت برتنے والے افسران کی شناخت کی جائے گی، اور تمام مفرور قیدیوں کو ہر حال میں گرفتار کیا جائے گا۔ وزیر جیلات سندھ علی حسن زرداری نے بھی علاقے کو مکمل طور پر گھیرنے اور تحقیقات کا حکم دیا۔ اعلیٰ سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرے گی۔

شہر گیر آپریشن

سیکیورٹی فورسز نے ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، اور ہائی ویز پر ناکہ بندی کر دی ہے۔ مساجد میں اعلانات کے ذریعے عوام سے مشکوک افراد کی اطلاع دینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رہنمائی سے لانڈھی، ملیر، اور دیگر علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، "ملیر جیل سے فرار ایک واضح انتظامی ناکامی ہے۔ شہر کی سیکیورٹی کو خطرہ ہے!”

عوامی اور سیاسی ردعمل

ایکس پر اس واقعے نے شدید بحث چھیڑ دی۔ ایک صارف نے کہا، "زلزلہ ایک فطری آفت ہے، لیکن جیل بریک انتظامی نااہلی کا نتیجہ ہے۔” دوسروں نے سیکیورٹی اداروں کی فوری کارروائی کی تعریف کی لیکن جیلوں کی حالت پر سوالات اٹھائے۔ سیاسی جماعتوں نے واقعے کو سندھ حکومت کی ناکامی قرار دیا، جبکہ حکومتی ترجمانوں نے اسے غیر متوقع قدرتی آفت سے جوڑا۔ عوام میں تشویش ہے کہ مفرور قیدی شہر کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین