نیویارک :پاکستان کے اعلیٰ سطحی سفارتی مشن نے بین الاقوامی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانا اور پانی روکنا خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور بھارت کے جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے کے خلاف پاکستان کا موقف پیش کیا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پاک بھارت جنگ بندی میں سہولت کاری پر امریکی انتظامیہ اور صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
بھارت کے جھوٹے الزامات اور سرحد پار حملوں کی مذمت
پاکستانی سفارتی مشن نے بتایا کہ بھارت نے جھوٹے الزامات کو سرحد پار حملوں کا جواز بنایا، جو ناقابل قبول ہے۔ وفد نے واضح کیا کہ امن کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔ بلاول بھٹو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے اور بھارت کے پروپیگنڈے کو مسترد کرے۔
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر تشویش
اقوام متحدہ میں امریکی مندوب ڈورتھی شیا سے ملاقات میں پاکستانی وفد نے بھارت کی جانب سے دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیوں کو یو این چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ مودی سرکار پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے کروڑوں انسانوں کو سزا دینا چاہتی ہے۔ بھارت کی طرف سے دریاؤں کا پانی روکا گیا تو یہ اعلان جنگ تصور ہو گا،انہوں نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ ماضی کے تنازعات کے دوران بھی قائم رہا، اور اس کی معطلی خطے میں غذائی بحران اور ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کا اعتراف
بلاول بھٹو نے امریکی وفد سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں رہا ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام حل طلب مسائل، بالخصوص سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے معاملے پر بامعنی مکالمے کے آغاز میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے جنگ بندی میں سہولت کاری پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اسے بھی پڑھیں: پاکستان کا بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف شدید ردعمل
او آئی سی کے ساتھ پاکستانی وفد کی ملاقات
پاکستانی پارلیمانی وفد نے اقوام متحدہ میں او آئی سی کے سفیروں کو پاک-بھارت کشیدگی اور اس کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ او آئی سی نے جنوبی ایشیا میں بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور سندھ طاس معاہدے کے تقدس کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ بلاول بھٹو نے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے لیے او آئی سی کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
بھارت کا پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال
بلاول بھٹو نے او آئی سی کے سامنے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل کو معمول بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ او آئی سی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور شفاف بریفنگ کی تعریف کی اور کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
سلامتی کونسل کے اراکین سے ملاقاتیں
پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین، بشمول چین، روس، ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، الجزائر، گیانا، جاپان، جنوبی کوریا، سیرا لیون، اور سلووینیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ بلاول بھٹو نے بھارتی پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کو دلائل کے ساتھ مسترد کیا اور کہا کہ بغیر تحقیق کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ناقابل قبول ہے۔
خطے کے امن کے لیے بھارت کی جارحیت خطرہ
وفد نے سلامتی کونسل کے اراکین کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازع سے قبل حل تلاش کرنے کی کوشش کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔
پاکستانی وفد کے آئندہ دورے
واضح رہے کہ بلاول بھٹو کی قیادت میں 9 رکنی پاکستانی وفد واشنگٹن ڈی سی، لندن، اور برسلز کا بھی دورہ کرے گا تاکہ عالمی برادری کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا جا سکے اور بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا جا سکے۔





















