سخت گرمی؛ سعودی حکومت کی حجاج کرام سے خیموں میں رہنے کی اپیل

اللہ کے مہمانوں کی سہولت اور تحفظ سعودی عرب کی اولین ذمہ داری ہے،شاہ سلمان

سعودی عرب میں حج 2025 کے دوران شدید گرمی کی پیش گوئی کے پیشِ نظر، سعودی حکومت نے عازمینِ حج سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 جون 2025 کو میدانِ عرفات میں صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک خیموں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ درجہ حرارت کے 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جس سے ہیٹ سٹروک کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں 50 ہزار مربع میٹر سایہ دار جگہیں، 400 سے زائد کولنگ یونٹس، اور جدید ایئر ایمبولینس سروس شامل ہیں۔ وزارتِ صحت نے عازمین کو مشقت سے بچنے اور پانی کی کمی سے محفوظ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

شاہ سلمان کی خصوصی ہدایات

خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عازمینِ حج کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے خصوصی انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ ان کے حکم پر وزارتِ حج و عمرہ اور دیگر اداروں نے گرمی سے بچاؤ کے جامع منصوبے تیار کیے ہیں۔ شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ اللہ کے مہمانوں کی سہولت اور تحفظ سعودی عرب کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

میدانِ عرفات میں حفاظتی ہدایت

سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے عازمین سے اپیل کی ہے کہ 5 جون 2025 کو میدانِ عرفات میں، جب درجہ حرارت عروج پر ہوگا، وہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اپنے خیموں سے باہر نہ نکلیں۔ یہ ہدایت خاص طور پر رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کے دوران گرمی سے بچاؤ کے لیے جاری کی گئی ہے، کیونکہ اس وقت عازمین کھلے آسمان تلے عبادات کرتے ہیں، جس سے ہیٹ سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

گرمی کے خطرات اور مشقت

وزارتِ صحت نے خبردار کیا کہ عرفات کے دن عازمین کو پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا ہے، جو جسمانی مشقت کا باعث بنتا ہے۔ کھلی دھوپ میں طویل وقت گزارنے سے پانی کی کمی اور گرمی لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ وزارت نے عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ ہلکی ورزش کریں، پانی اور نمکیات کا استعمال جاری رکھیں، اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نہ رہیں تاکہ صحت مند رہتے ہوئے مناسک ادا کر سکیں۔

خصوصی انتظامات کی تفصیلات

سعودی حکومت نے گرمی سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ 50 ہزار مربع میٹر اضافی سایہ دار جگہیں بنائی گئی ہیں، جبکہ 400 سے زائد کولنگ یونٹس میدانِ عرفات اور دیگر مقامات پر نصب کیے گئے ہیں۔ 40 سے زائد سرکاری اداروں اور 2.5 لاکھ اہلکاروں کو عازمین کی خدمت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

ایئر ایمبولینس اور طبی سہولیات

سعودی ہلال احمر اتھارٹی نے مکہ مکرمہ میں ایئر ایمبولینس سروس شروع کی ہے، جو ہنگامی حالات میں عازمین کو فوری طبی امداد فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ، ہسپتالوں میں طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی ہے، اور واٹر کولرز، ٹھنڈے پانی کی پھوار، اور موبائل ڈسپنسریاں بھی نصب کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات گزشتہ سال 2024 میں 1300 سے زائد ہلاکتوں کے بعد کیے گئے، جن میں سے 80 فیصد غیر قانونی عازمین تھے۔

خطبہ حج کی عالمی رسائی

سعودی حکومت نے اعلان کیا کہ میدانِ عرفات سے خطبہ حج کو 50 زبانوں میں ترجمہ کر کے نشر کیا جائے گا، جس سے ایک ارب سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ اس منصوبے کی سرپرستی شاہ سلمان کر رہے ہیں، اور یہ اب تک کا سب سے بڑا ترجمہ پروجیکٹ ہے۔ اس سے عازمین کو اپنی زبان میں خطبہ سمجھنے میں آسانی ہوگی، جو ان کی روحانی تجربے کو مزید گہرا کرے گا۔

گزشتہ سال کی ہلاکتیں اور سبق

2024 کے حج کے دوران 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد عازمین کی ہلاکت ہوئی تھی، جن میں 35 پاکستانی شامل تھے۔ ایکس پر صارفین نے گزشتہ سال کی بدانتظامی پر تنقید کی تھی، خاص طور پر واٹر کولرز کی کمی اور مکاتب میں گنجائش سے زیادہ عازمین کی موجودگی پر۔ اس سال سعودی حکام نے ان شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہ۹ سہولیات متعارف کرائی ہیں۔

ایکس پر عوامی ردعمل

ایکس پر سعودی اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "سعودی حکومت کی گرمی سے بچاؤ کی حکمت عملی قابلِ تحسین ہے، عازمین کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔” تاہم، کچھ صارفین نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی عازمین کو روکنے کے ساتھ ساتھ سرکاری حج سکیموں میں مزید سہولیات دی جائیں۔ پاکستانی صارفین نے پاکستان حج مشن سے واٹر کولرز اور سایہ دار مقامات کی تعداد بڑھانے کی اپیل کی۔

حفاظت اور عبادت کا توازن

سعودی عرب نے حج 2025 کے لیے گرمی سے بچاؤ کے جامع انتظامات کر کے عازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ میدانِ عرفات میں خیموں میں قیام کی اپیل، ایئر ایمبولینس، اور کولنگ یونٹس جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مملکت عازمین کے آرام اور صحت کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ گزشتہ سال کی ہلاکتوں سے سبق سیکھتے ہوئے کیے گئے یہ اقدامات حج کو محفوظ اور پرامن بنانے میں مدد دیں گے۔ ایکس پر عوامی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوششیں عازمین کے لیے امید کی کرن ہیں، بشرطیکہ ان پر شفاف عمل درآمد ہو

متعلقہ خبریں

مقبول ترین