4 جون 2025 کو بھارتی پولیس نے معروف سکھ یوٹیوبر جسبیر سنگھ کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا، جس سے سکھ برادری پر مودی حکومت کی مبینہ سخت پالیسیوں کی ایک اور مثال سامنے آئی۔ پنجاب پولیس کے ڈی جی پی گوراو یادو نے دعویٰ کیا کہ جسبیر سنگھ کا تعلق پاکستانی نیٹ ورک سے تھا اور وہ یوٹیوبر جوتی ملہوترا اور شاکر عرف جٹ رندھاوا کے ساتھ رابطے میں تھے۔ بھارتی میڈیا نے جسبیر کے 2020، 2021، اور 2024 میں پاکستان کے دوروں اور ان کے فون سے پاکستانی نمبروں کی برآمدگی کا پروپیگنڈا کیا۔ مودی حکومت پر الزام ہے کہ وہ سکھ شناخت کے سوشل میڈیا پر اظہار کو جاسوسی سے جوڑ کر دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سکھ فار جسٹس کے حامیوں پر UAPA جیسے سخت قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ خالصتان کا لفظ بولنے پر غداری کے مقدمات اور پنجاب میں عام سکھوں کو انٹیلی جنس واچ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی نیٹ ورک کے الزامات
پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل گوراو یادو نے دعویٰ کیا کہ جسبیر سنگھ ایک پاکستانی حمایت یافتہ جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جسبیر کا رابطہ ہریانہ کی یوٹیوبر جوتی ملہوترا، جو پہلے ہی جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہے، اور شاکر عرف جٹ رندھاوا نامی ایک پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹو سے تھا۔ پولیس نے یہ بھی الزام لگایا کہ جسبیر نے 2020، 2021، اور 2024 میں پاکستان کے تین دورے کیے اور ان کے الیکٹرانک آلات سے پاکستانی نمبرز برآمد ہوئے، جو اب فورنسک تجزیے کے مراحل میں ہیں۔
بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا
بھارتی میڈیا، جو اکثر مودی حکومت کے ایجنڈے کی ترجمانی کا الزام کھاتا ہے، نے جسبیر سنگھ کے خلاف پروپیگنڈے کی مہم تیز کر دی۔ میڈیا نے دعویٰ کیا کہ جسبیر نے پاکستان کے نیشنل ڈے کی تقریب میں شرکت کی، جہاں ان کی ملاقات پاکستانی فوج کے اہلکاروں اور وی لاگرز سے ہوئی۔ مزید یہ کہ ان کا مبینہ رابطہ احسان الرحیم عرف دانش، ایک پاکستانی ہائی کمیشن کے سابق اہلکار سے تھا، جسے بھارت نے جاسوسی کے الزامات پر نکال دیا تھا۔ اس پروپیگنڈے کو سکھ برادری نے مسترد کرتے ہوئے اسے سکھ شناخت کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔
سکھ شناخت پر پابندیاں
مودی سرکار پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر سکھ شناخت کے اظہار کو جاسوسی سے جوڑ کر دبانے کی منظم کوشش کر رہی ہے۔ سکھ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کارکنان کو نگرانی میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ ان کے اکاؤنٹس بند اور پوسٹس حذف کی جا رہی ہیں۔ خالصتان تحریک سے وابستہ تنظیم "سکھ فار جسٹس” کے حامیوں پر انسداد دہشت گردی قانون (UAPA) جیسے سخت قوانین کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ خالصتان کا لفظ بولنے والوں پر غداری کے مقدمات درج ہو رہے ہیں، جو سکھ برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
پنجاب میں انٹیلی جنس واچ لسٹ
بھارتی پنجاب میں عام سکھ شہریوں کو انٹیلی جنس واچ لسٹ میں شامل کرنے کی اطلاعات نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، مودی حکومت سکھوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر ان لوگوں پر جو پنجاب کی ثقافت یا خالصتان تحریک سے متعلق مواد شیئر کرتے ہیں۔ ایکس پر صارفین نے اسے سکھوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے مودی کے ہندو قوم پرست ایجنڈے کا حصہ بتایا۔
جسبیر سنگھ کے وکیل کا دفاع
جسبیر سنگھ کے وکیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جسبیر کے بینک سٹیٹمنٹس، مالی ریکارڈ، اور فون ڈیٹا پہلے ہی پولیس کے حوالے کیے جا چکے ہیں، لیکن پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ جسبیر کس سے رابطے میں تھے یا انہوں نے کس طرح کی معلومات منتقل کیں۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ محض پاکستانی نمبروں کی موجودگی یا پاکستان کے دوروں کو جاسوسی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
خالصتان تحریک پر کریک ڈاؤن
مودی حکومت کی جانب سے خالصتان تحریک کے حامیوں پر کریک ڈاؤن کو انسانی حقوق کے کارکنوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 2023 میں ہردیپ سنگھ نجار کی کینیڈا میں قتل کے بعد سے، بھارت پر سکھ کارکنوں کو ہدف بنانے کے الزامات عروج پر ہیں۔ نجار کے قتل کو کینیڈا نے بھارتی انٹیلی جنس سے جوڑا تھا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوئے۔ اسی طرح، سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں پر نیویارک میں قاتلانہ حملے کی کوشش نے بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
ایکس پر عوامی ردعمل
ایکس پر جسبیر سنگھ کی گرفتاری نے شدید بحث چھیڑ دی۔ ایک صارف نے لکھا، "مودی سرکار سکھوں کی آواز دبانے کے لیے جاسوسی کے جھوٹے الزامات لگا رہی ہے۔” ایک اور نے کہا، "جسبیر سنگھ کی گرفتاری سکھ برادری کے خلاف مودی کا نیا ہتھکنڈا ہے۔” پاکستانی صارفین نے اسے بھارت کی اقلیت دشمن پالیسیوں کی مثال قرار دیا، جبکہ کچھ نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ گرفتاری بھارت-پاکستان کشیدگی کو مزید ہوا دے گی۔
ماضی کی مثالیں
یہ پہلا موقع نہیں کہ مودی حکومت نے سکھ برادری کو نشانہ بنایا ہو۔ 2023 میں سکھ رہنما امرت پال سنگھ کی گرفتاری اور پنجاب میں انٹرنیٹ کی معطلی نے عالمی توجہ حاصل کی تھی۔ اسی طرح، 2022 کے کسانوں کے احتجاج کو "خالصتانی” قرار دینے کی کوشش نے بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے مودی کے دور میں سکھوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مسلسل شکایات رپورٹ کی ہیں۔
سکھ برادری کا مستقبل
جسبیر سنگھ کی گرفتاری مودی سرکار کی سکھ برادری کے خلاف جاری پالیسیوں کا ایک اور مظہر ہے۔ جاسوسی کے الزامات، سوشل میڈیا پر پابندیاں، اور UAPA جیسے قوانین کے ذریعے سکھ شناخت کو دبانے کی کوششیں نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ ایکس پر جاری بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکھ برادری اس دباؤ کے خلاف متحد ہو رہی ہے۔ جسبیر سنگھ کا مقدمہ نہ صرف ان کی ذاتی آزادی بلکہ سکھوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی لڑائی کی علامت بن چکا ہے۔





















