5 جون 2025 کو حج 2025 کا رکنِ اعظم، وقوفِ عرفہ، ادا کیا جائے گا۔ ایک لاکھ 15 ہزار پاکستانیوں سمیت لاکھوں عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات پہنچیں گے، جہاں وہ مسجدِ نمرہ میں خطبہ حج سنیں گے اور ظہر و عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔ وقوفِ عرفہ عصر سے مغرب تک ہوگا، جس میں عازمین دعائیں مانگیں گے۔ سورج غروب ہوتے ہی عازمین مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھیں گے۔ رات کھلے آسمان تلے گزارنے کے بعد فجر کی نماز کے ساتھ عازمین منیٰ واپس آئیں گے، جہاں 10 ذوالحجہ کو رمی جمرات، قربانی، اور حلق کے بعد احرام کھولیں گے۔ 11 اور 12 ذوالحجہ کو تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی، اور طوافِ زیارت کیا جائے گا۔ 13 ذوالحجہ کو اختیاری رمی کے بعد عازمین مکہ واپس لوٹیں گے۔ حج کی تکمیل کے بعد کچھ عازمین طوافِ الوداع کر کے وطن واپس جائیں گے، جبکہ دیگر مدینہ منورہ روضہ رسولﷺ پر حاضری دیں گے
خطبہ حج اور وقوفِ عرفہ
میدانِ عرفات میں عازمین مسجدِ نمرہ میں خطبہ حج سنیں گے، جو 50 زبانوں میں ترجمہ کے ساتھ ایک ارب سے زائد افراد تک پہنچے گا۔ خطبے کے بعد عازمین ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔ عصر سے مغرب تک وقوفِ عرفہ کا مقدس عمل ہوگا، جہاں عازمین اللہ رب العزت کے حضور دعاؤں اور استغفار میں مصروف ہوں گے۔ یہ لمحات حج کی روح ہیں، جہاں گناہوں کی معافی اور دلوں کی پاکیزگی کی التجا کی جاتی ہے۔
مزدلفہ کا سفر
سورج غروب ہوتے ہی عازمین مغرب کی نماز ادا کیے بغیر میدانِ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں گے۔ مزدلفہ میں پہنچ کر وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔ رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے، جہاں عازمین کنکریاں جمع کریں گے جو رمی جمرات کے لیے استعمال ہوں گی۔ یہ رات عازمین کے لیے اللہ کی قربت اور توکل کی ایک عظیم ساعت ہوتی ہے، جو ان کے ایمان کو مزید پختہ کرتی ہے۔
منیٰ واپسی اور رمی جمرات
10 ذوالحجہ کو طلوعِ آفتاب کے بعد عازمین فجر کی نماز ادا کر کے منیٰ واپس لوٹیں گے۔ وہاں وہ رمی جمرات کا عمل انجام دیں گے، جہاں بڑے شیطان (جمراۃ العقبہ) کو 7 کنکریاں ماریں گی۔ اس کے بعد عازمین قربانی کریں گے، جو حضرت ابراہیمؑ کی سنت کی یاد دلاتی ہے۔ قربانی کے بعد مرد حلق اور خواتین بالوں کی تراش خراش کر کے احرام کھول دیں گے اور عام لباس پہنیں گے، جو ان کے لیے راحت کا لمحہ ہوگا۔
طوافِ زیارت کی ادائیگی
رمی جمرات اور قربانی کے بعد عازمین طوافِ زیارت کے لیے خانہ کعبہ جائیں گے، جو حج کا ایک اہم رکن ہے۔ 11 ذوالحجہ کو عازمین دوبارہ رمی جمرات کریں گے، اس بار تینوں شیطانوں—چھوٹے، درمیانے، اور بڑے—کو 7، 7 کنکریاں ماریں گے۔ یہ عمل شیطان کے وسوسوں کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ 12 ذوالحجہ کو زوالِ آفتاب کے بعد پھر تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی، جس کے بعد عازمین منیٰ سے اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہو سکتے ہیں۔
اختیاری رمی اور حج کی تکمیل
کچھ عازمین 13 ذوالحجہ کو منیٰ میں ایک اضافی دن قیام کریں گے اور تینوں شیطانوں کو دوبارہ کنکریاں ماریں گے۔ اس کے بعد وہ مکہ مکرمہ اپنی قیام گاہوں پر واپس لوٹیں گے۔ حج کے تمام ارکان مکمل ہونے کے بعد عازمین طوافِ الوداع کریں گے، جو ان کا خانہ کعبہ سے آخری دیدار ہوتا ہے۔ اس کے بعد کچھ عازمین اپنے وطن واپس جائیں گے، جبکہ دیگر مدینہ منورہ جا کر روضہ رسولﷺ پر حاضری دیں گے۔
سعودی انتظامات اور گرمی سے تحفظ
سعودی حکومت نے شدید گرمی (40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد) کے پیشِ نظر عازمین سے اپیل کی کہ وہ میدانِ عرفات میں صبح 10 سے شام 4 بجے تک خیموں سے باہر نہ نکلیں۔ 50 ہزار مربع میٹر سایہ دار جگہیں، 400 سے زائد کولنگ یونٹس، ایئر ایمبولینس سروس، اور 2.5 لاکھ اہلکاروں کی تعیناتی سے عازمین کی حفاظت یقینی بنائی گئی ہے۔ یہ اقدامات گزشتہ سال 1300 سے زائد ہلاکتوں کے بعد کیے گئے، جو گرمی کی شدت سے ہوئی تھیں۔
پاکستانی عازمین کی تیاری
پاکستان حج مشن نے عازمین کے لیے واٹر کولرز، سایہ دار خیموں، اور طبی سہولیات کی تعداد بڑھائی ہے۔ پاکستانی عازمین نے منیٰ میں منظم انداز میں عبادات کیں اور وقوفِ عرفہ کے لیے مکمل تیاری کی۔ ایکس پر پاکستانی صارفین نے عازمین کی دعاؤں کی قبولیت کی دعا کی اور سعودی انتظامات کی تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا، "ہر پاکستانی عازم کی دعا پاکستان کی ترقی کے لیے ہے۔”
خطبہ حج کی عالمی رسائی
سعودی حکومت نے خطبہ حج کو 50 زبانوں میں ترجمہ کر کے عالمی نشریات کا اہتمام کیا، جو شاہ سلمان کی سرپرستی میں اب تک کا سب سے بڑا ترجمہ پروجیکٹ ہے۔ اس سے عازمین اور دنیا بھر کے مسلمان خطبے کے پیغام سے فیض یاب ہوں گے۔ ایکس پر صارفین نے اس اقدام کو سراہا، ایک نے لکھا، "یہ اسلام کے عالمگیر پیغام کی عکاسی ہے۔”
روحانی سفر کی تکمیل
حج 2025 کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ آج عازمین کے لیے اللہ کی رحمتوں کا دروازہ کھولے گا۔ منیٰ سے عرفات، مزدلفہ، اور واپس منیٰ تک کا یہ سفر ایمان، صبر، اور قربانی کی عظیم داستان ہے۔ سعودی حکومت کے جامع انتظامات اور پاکستانی عازمین کی پرعزمی سے یہ حج محفوظ اور منظم انداز میں مکمل ہو رہا ہے۔ طوافِ الوداع اور مدینہ منورہ کی زیارت کے بعد عازمین اپنے وطن واپس لوٹیں گے، اپنے دلوں میں ایمان کی نئی روشنی سموئے۔ ایکس پر عازمین کی دعاؤں اور سعودی کوششوں کی پذیرائی اس روحانی سفر کی عالمگیریت کو اجاگر کرتی ہے





















