شادی کے بعد افیئرز کا قصوروار کون؟ یاسر حسین کا بیان وائرل

آج کل کی خواتین مالی طور پر مستحکم مردوں کو ترجیح دیتی ہیں

5 جون 2025 کو پاکستانی اداکار یاسر حسین کا ایک ٹی وی شو میں دیا گیا بیان وائرل ہو گیا، جس میں انہوں نے شادی کے بعد افیئرز اور دوسری شادیوں کے لیے خواتین کو زیادہ ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کی خواتین مالی طور پر مستحکم مردوں کو ترجیح دیتی ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ شادی شدہ ہیں، پھر بھی دوسرا نکاح قبول کرتی ہیں۔ یاسر نے چار شادیوں کے تصور سے اختلاف کیا اور کہا کہ وہ محبت کی شادی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ خواتین اپنی مرضی سے دوسرا نکاح کرتی ہیں اور پہلی بیوی سے طلاق کی کوشش بھی کرتی ہیں۔

چار شادیوں پر اختلاف
یاسر حسین نے شو کے دوران مردوں کے چار نکاح کے اسلامی تصور پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس خیال کے سخت خلاف ہیں کہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اقرا عزیز سے محبت کی شادی کی اور ان کے لیے کسی دوسری عورت کی طرف دیکھنا ناقابل تصور ہے۔ یاسر نے اسے ذاتی اصول قرار دیا، جو ان کے خاندانی اور اخلاقی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔

خواتین کی ترجیحات پر تبصرہ
اپنی رائے کی وضاحت کرتے ہوئے یاسر نے کہا کہ موجودہ دور کی خواتین مالی استحکام اور بچوں کی کفالت کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، ایسی خواتین اکثر یہ جانتے ہوئے بھی کہ مرد پہلے سے شادی شدہ ہے، اس کے ساتھ دوسرا نکاح کرنے پر رضامند ہو جاتی ہیں۔ یاسر کا یہ بیان معاشرتی رجحانات پر ایک گہری نظر کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن اس نے صنفی تعصب کے الزامات کو بھی ہوا دی۔

دوسری شادیوں میں خواتین کا کردار
یاسر نے اپنے نقطہ نظر کو مزید واضح کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ خواتین نہ صرف اپنی مرضی سے دوسرے نکاح کا انتخاب کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات پہلی بیوی سے طلاق کی راہ ہموار کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی کئی خواتین سے واقف ہیں جو اس طرح کے فیصلوں میں پیش قدمی کرتی ہیں۔ یہ بیان ان کے نقطہ نظر کو تقویت دیتا ہے کہ دوسری شادیوں میں خواتین کی رضامندی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

مردوں کی ذمہ داری پر سوال
یاسر کے بیان نے مردوں کی ذمہ داری کو بھی بحث کا حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مرد دوسری شادی یا افیئر کا فیصلہ کرتا ہے، لیکن عورت کی رضامندی کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوتا۔ ان کا استدلال تھا کہ خواتین کے انتخاب اور ترجیحات اس عمل میں اہم ہیں، جو اکثر مالی یا سماجی تحفظ سے منسلک ہوتی ہیں۔ تاہم، اس نقطہ نظر کو کچھ حلقوں نے مردوں کی ذمہ داری کو کم کرنے کی کوشش سمجھا۔

ایکس پر شدید ردعمل
یاسر حسین کے بیان نے ایکس پر ایک طوفان برپا کر دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یاسر کی رائے میں وزن ہے، کیونکہ معاشرے میں مالی استحکام کی خواہش عام ہے۔” دوسرے نے تنقید کرتے ہوئے کہا، "یہ خواتین پر الزام تراشی ہے، مردوں کی ذمہ داری کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟” کچھ نے اسے پاکستانی معاشرے کی عکاسی سمجھا، جبکہ دیگر نے یاسر پر صنفی تعصب کا الزام لگایا۔ یہ بحث سماجی اقدار اور صنفی کرداروں پر گہرے اختلافات کو اجاگر کرتی ہے۔

یاسر کی ماضی کی متنازع باتیں
یاسر حسین ماضی میں بھی اپنی کھری رائے کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ 2019 میں انہوں نے ہانیہ عامر کے ایکنی کے بارے میں نامناسب تبصرہ کیا تھا، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح، ان کے ٹرانس جینڈر کرداروں پر تبصروں کو بھی غیر حساس سمجھا گیا۔ یہ تازہ بیان ان کے متنازع بیانات کی فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے، جو ان کی عوامی شبیہ کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔

معاشرتی تناظر
یاسر کا بیان پاکستانی معاشرے میں شادی اور افیئرز کے بارے میں گہرے سماجی رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف مالی استحکام کو شادی کے فیصلوں میں اہم سمجھا جاتا ہے، وہیں دوسری شادیوں کو معاشرتی اور مذہبی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یاسر کی رائے نے اس بحث کو نئی جہت دی کہ کیا دوسری شادیوں میں خواتین کا انتخاب ان کی آزاد مرضی ہے یا سماجی دباؤ کا نتیجہ۔

ماہرین کی رائے
ماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ خان نے کہا کہ شادی کے بعد افیئرز کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے یاسر کے بیان کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی دباؤ، مالی عدم تحفظ، اور جذباتی خلا جیسے عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کے بیانات صنفی تعصب کو ہوا دے سکتے ہیں اور جامع بحث کی ضرورت ہے۔

ایک متنازع بحث کا آغاز
یاسر حسین کا شادی کے بعد افیئرز اور دوسری شادیوں کے لیے خواتین کو ذمہ دار قرار دینے کا بیان ایک ایسی بحث کا پیش خیمہ بن گیا جو پاکستانی معاشرے میں صنفی کرداروں، مالی ترجیحات، اور شادی کے تقدس پر سوالات اٹھاتا ہے۔ ایکس پر جاری ردعمل سے واضح ہے کہ یہ موضوع عوام کے لیے گہری دلچسپی اور جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ یاسر کی رائے نے جہاں کچھ لوگوں کی حمایت حاصل کی، وہیں اس نے خواتین پر الزام تراشی کے الزامات کو بھی جنم دیا۔ یہ بحث سماجی اقدار کو ازسرنوو جانچنے اور شادی کے ادارے پر گہرے غور کی دعوت دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین