175 کھرب سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش،تعلیم کیلئے 18.5 ،دانش سکولوں کیلئے 9.8 ارب ،دفاعی اخراجات کیلئے2550 ارب روپے مختص

وفاقی وزیر خزانہ نے وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا،اپوزیشن کاایوان میں شور شرابہ، ڈیسک بجا کر نعرے لگا کر احتجاج کیا، ایجنڈا کی کاپیاں پھاڑ دیں،6501 ارب روپے خسارہ ، 8207 ارب سود کی ادائیگی پر خرچ ہونگے،8207 ارب سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے

اسلام آباد:حکومت نے مالی سال 2025-26ء کیلئے 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں 6501 ارب روپے خسارہ ہے، 8207 ارب سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے، دفاع کے لیے 2550 ارب مختص کیے گئے ہیں، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، پراپرٹی کے شعبے کو ریلیف ملا ہے، سولر پینل کی درآمد پر بھاری ٹیکس عائد کردیا گیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، نعت رسول مقبول ؐپیش کی گئی بعد ازاں تمام اراکین نے احترام میں کھڑے ہوکر قومی ترانہ پڑھا۔اقتصادی ترقی کی شرح 4.2فیصد رہنے کا امکان،افراط زر کی شرح 7.5فیصد متوقع،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.9فیصد، پرائمری سرپلس 2.4فیصد،ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 14 ہزار 131 ارب، صوبوں کا حصہ 8206 ارب ،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5147 ارب روپے اور خالص آمدنی 11072 ارب روپے،وفاقی حکومت کے کُل اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 573 ارب، سود کی مد میں 8207 ارب روپے کی ادائیگی،دفاع کیلئے 2250 ارب روپے مختص ،بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی کیلئے 1186 ارب روپے مختص،گرانٹس کیلئے 1928 ارب روپے مختص،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 716 ارب روپے مختص،ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کیلئے 1 ہزار ارب مختص،کراچی سے چمن کی شاہراہ این 25 کیلئے 100 ارب روپے مختص،زراعت کیلئے 4 ارب روپے سے زائد مختص،ہائیر ایجوکیشن کیلئے 38.5ارب روپے ،سائنس ٹیکنالوجی کے 31 جاری منصوبوں کیلئے 4.8ارب روپے مختص،تعلیم کیلئے 18.5ارب روپے مختص،دانش سکولوں کے قیام کیلئے 9.8 ارب روپے مختص،صحت کے شعبے کے 21 اہم منصوبوں کیلئے 14.3ارب روپے مختص،گورننس کیلئے 11 ارب روپے مختص کئے ہیںوزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اسپیکر کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد اپنی بجٹ تقریر کے آغاز پر کہا کہ وزیراعظم سمیت دیگر سیاسی قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ بجٹ غیر معمولی حالات میں پیش کیا جارہا ہے جب قوم نے زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا، بھارت کے خلاف قوم کے اتحاد کو تاریخ کے سنہری باب میں یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب ہماری توجہ معاشی استحکام ، ترقی کی جانب مرکوز ہے، ہم اسی خلوص اور حوصلے کے ساتھ معیشت کو مستحکم اور عوام کی فلاح کو یقینی بنائیں گے، گزشتہ ڈیڑھ سال میں ترقی کا سفر اور معاشی اصلاحایات کا سفر کامیابی سے کیا اور معیشت کو استحکام بخشتے ہوئے مستقبل کو مضبوط بنایا۔’ایسی معیشت کی تشکیل چاہتے ہیں جس کا فائدہ براہ راست ہر طبقے کو ہو اور ہر شخص کی دہلیز تک ترقی پہنچے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس دورانیے میں ہر شعبے میں ترقی کی اور پُرامید ہیں کہ ترسیلات زر کا حجم رواں مالی سال کے اختتام تک 37 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گا، ملک دیرپا ترقی کی جانب گامزن ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایف بی آر کے محصولات کے حوالے سے گزشتہ ڈیڑھ سال میں ہم نے اس شعبے میں بہت ترقی کی، ہم آدھے سے زیادہ ٹیکس سے محروم تھے اور اس خلا کو پُر کرنا ضروری تھا، ایف بی آر کو ٹرانسفارم کیے بغیر معیشت کو بہتر کرنا ناممکن تھا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی نگرانی میں ایک منصوبے کی بنیاد کی منظوری دی گئی۔ جس کے بعد محاصل میں اضافہ ہوا۔ ہم نے 78.4ارب کے وہ محاصل وصول کیے جو مشکل تھے جبکہ عدالتوں میں اے ڈی آر کے ذریعے مسئلہ حل کیا، جس سے قومی خزانے کو 77 ارب وصول ہوئے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ پاور سیکٹر میں بڑی اصلاحات لانا ضروری ہیں جس کے تحت اربوں کے نقصانات کو کم کیا گیا ہے جبکہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی بجلی کی کمپنیوں کی نجکاری کا کام مکمل کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل کرنے والی کمپنی این ٹی ڈی سی کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے، ان اداروں میں عالمی معیار کے افراد تعینات کئے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے بورڈز تشکیل دیے جو غیر سیاسی ہیں جن کے اخراجات اور نقصانات میں 140 ارب روپے کی کمی ہوئی، آزاد مارکیٹ کے قیام کیلیے اگلے تین ماہ میں عمل شروع ہوجائے گا۔وزیرخزانہ نے کہا کہ پاور سیکٹر میں بڑی اصلاحات لانا ضروری ہیں جس کے تحت اربوں کے نقصانات کو کم کیا گیا ہے جبکہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی بجلی کی کمپنیوں کی نجکاری کا کام مکمل کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل کرنے والی کمپنی این ٹی ڈی سی کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے، ان اداروں میں عالمی معیار کے افراد تعینات کیے جائیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے بورڈز تشکیل دیے جو غیر سیاسی ہیں جن کے اخراجات اور نقصانات میں 140 ارب روپے کی کمی ہوئی، آزاد مارکیٹ کے قیام کیلیے اگلے تین ماہ میں عمل شروع ہوجائے گا۔وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال2025-26 کیلئے مجموعی طور پر 17 ہزار 573 ارب روپے مالیت کے حجم پر مشتمل چھ ہزارپانچ سو ایک ارب روپے خسارے کا وفاقی بجٹ منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کردیا۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اور پنشن میں7 فیصد اضافہ کی تجویز دی گئی ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے آمدنی کی تمام سلیب میں انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے ۔گریڈ ایک تا سولہ کے ملازمین کو تیس فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی تجویز ہے جبکہ چھ لاکھ روپے سے بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والے تنخواہ دار ملازمین پر انکم ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بارہ لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملازمین پر ٹیکس کی رقم 30 ہزار روپے سے کم کرکے چھ ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بائیس لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے ملازمین پر انکم ٹیکس کی شرح پندرہ فیصد سے کم کرکے گیارہ فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے بتیس لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کیلئے انکم ٹیکس کی شرح پچیس فیصد سے کم کرکے23 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال مجموعی اخراجات 17 ہزار 573 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، مجموعی خام ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور خالص ریونیو کا ہدف 11072 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب رکھنے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5147 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور اگلے مالی سال میں اداروں کی نجکاری سے87 ارب حاصل کرنے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کیلئے تجویز کردہ چھ ہزارپانچ سو ایک ارب روپے کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اخراجات جاریہ کیلئے16286 ارب روپے، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کیلئے8207 ارب روپے، پنشن کی ادائیگیوں کیلئے 1055 ارب روپے، گرانٹس اور صووبوں کو منتقلیوں کیلئے1928 ارب روپے، سبسڈیز کیلئے1186 ارب روپے ایمرجنسی و کسفی بھی قدرتی و ناگہانی آفت کی صورت میں اخراجات کیلئے289 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔مجموعی ترقیاتی اور نیٹ لینڈنگ کیلئے1287 ارب روپے اس میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کیلئے ایک ہزار ارب روپے اور نیٹ لینڈنگ کیلئے287 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال 2025-26 کیلئے معاشی شرح نمو(جی ڈی پی) کا ہدف 4.2 فیصد جبکہ مہنگائی کا ہدف ساڑھے 7 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ برآمدات کا ہدف 35 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا ہدف 65 ارب 20 کروڑ ڈالر، ترسیلات زر کا ہدف 39 اعشاریہ 4 ارب ڈالرمقرر کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 2 اعشاریہ ایک ارب ڈالر مختص کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف 35 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا ہدف 65 ارب 20 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف چودہ ہزار131 ارب روپے سے زائد، اقتصادی ترقی کی شرح کا ہدف 4.2 فیصد رکھنے کی تجویز ہے جبکہ بجٹ میں وفاقی ترقیاتی بجٹ(پی ایس ڈی پی) کا حجم ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے۔آئندہ مالی سال 26-2025 کے سالانہ ترقیاتی پلان کے تحت طے کردہ اہدات کے مطابق مالی سال 26-2025 کا کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ جی ڈی پی کا منفی 0.5 فیصد رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، آئندہ مالی سال کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 2 اعشاریہ ایک ارب ڈالر مختص کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف 35 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا ہدف 65 ارب 20 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال میں خدمات کے شعبہ میں برآمدات کا ہدف 9 ارب 60 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ خدمات کے شعبہ کی درآمدات کا ہدف 14 ارب ڈالر مختص کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کیلئے ترسیلات زر کا ہدف 39 اعشاریہ 4 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کیلئے اشیاء اور خدمات کی برامدات کا ہدف 44 اعشاریہ 9 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ اشیاء اور خدمات کی درآمدات کا ہدف 79 اعشاریہ 2 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کے لیے مہنگائی کا سالانہ اوسط ہدف ساڑھے 7 فیصد اور معاشی شرح نمو کا ہدف 4 اعشاریہ 2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کرنے، مہنگائی کا سالانہ اوسط ہدف 7.5 فیصد اور زرعی شعبے کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں ۔اسی طرح نئے مالی سال کے لیے صنعتی شعبے کے لیے 4.3 فیصد، خدمات کے شعبے کا ہدف 4 فیصد، مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 14.7 فیصد، فکسڈ انویسٹمنٹ کے لیے 13 فیصد، پبلک بشمول جنرل گورنمنٹ انویسٹمنٹ کا ہدف 3.2

فیصد اور پرائیویٹ انویسٹمنٹ کا ہدف 9.8 فیصد کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
آئندہ مالی سال نیشنل سیونگز کا ہدف 14.3 فیصد مقرر کرنے، اہم فصلوں کا ہدف 6.7 اور دیگر فصلوں کا ہدف 3.5 فیصد، کاٹن جننگ 7 فیصد، لائیو اسٹاک 4.2 فیصد، جنگلات کا ہدف 3.5 فیصد اور فشنگ کا ہدف 3 فیصد مقرر کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔اسی طرح نئے مالی سال کے لیے مینوفیکچرنگ کا ہدف 4.7 فیصد رکھنے، لارج اسکیل 3.5، اسمال اسکیل 8.9 اور سلاٹرنگ کا ہدف 4.3 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔بجلی، گیس اور واٹر سپلائی کے لیے 3.5 فیصد کا ہدف مقررکرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ تعمیراتی شعبے کا ہدف 3.8 فیصد رکھنے، ہول سیل اینڈ ریٹیل ٹریڈ کا ہدف 3.9 فیصد، ٹرانسپورٹ، اسٹورریج اینڈ کمیونیکیشنز کا ہدف 3.4 فیصد رکھنے، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کا ہدف 5 فیصد مقرر کرنے اور فنانشل اینڈ انشورنس سرگرمیوں کا ہدف 5 فیصد رکھنے کی تجاویز ہیں۔بجٹ میں سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے درمیان مسابقت میں برابری یقینی بنانے کے لیے تجویز ہے کہ سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں سولر پینلز کی مقامی صنعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔وفاقی حکومت نے کمرشل جائیدادوں، پلاٹوں اور گھروں کی ٹرانسفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی ہے اور ٹیکس کریڈٹ کا اعلان کیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے، ودہولڈنگ ٹیکس 4 فیصد سے کم کرکے اڑھائی فیصد کرنے کی تجویز ہے۔اسی طرح دوسری سلیب میں 3.5فیصد سے کم کر کے 2 فیصد، تیسرے سلیب میں 3 فیصد سے کم کر کے ودہولڈنگ ٹیکس 1.5فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔نئے بجٹ میں کمرشل جائیدادوں، پلاٹوں اور گھروں کی ٹرانسفر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے، گزشتہ بجٹ میں 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔حکومت نے بجٹ میں 10 مرلہ تک کے گھروں اور دو ہزار مربع فٹ کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ کا اعلان کیا ہے، مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئے بجٹ میں اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹاپ پیپر ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ بھارتی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر پاکستان نے پانی کو اسٹور کرنے اور ضیاع کو روکنے کیلیے وزارت آبی وسائل کیلیے آئندہ مالی میں 133 ارب روپے مختص کیے ہیں۔حکومت نے مالی سال 2025-2026 میں کراچی میں پانی کے منصوبے کے فور کیلیے 3.2 ارب روپے مختص کیے ہیں۔دیا مر اور بھاشا ڈیم کے لیے 32.7 ارب روپے، مہمند کیلیے 35.7 ارب، آوران پنجگور سمیت بلوچستان کے دیگر 3 ڈیمز کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ پٹرول،ڈیزل استعمال کرنے والی یا ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں یکسانیت لائی جا رہی ہے، اٹھارہ فیصد سے کم سیلز ٹیکس والی تمام گاڑیوں پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ای کامرس پلیٹ فارمزترسیل کرنے والے کوریئر اور لاجسٹک خدمات فراہم کرنے والوں سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرکے جمع کرائیں گے۔بجٹ تقریر میں انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11072ارب روپے ہوگی جبکہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 5147 ارب رپے ہوگا۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 17573ارب روپے ہے، جس میں سے 8207 ارب روپے سود ادائیگی کیلیے مختص ہوں گے، وفاقی حکومت کا جاریہ اخراجات کا تخمینہ16286ارب روپے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وفاق کے پبلک سیکٹر پروگرام کیلئے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ملکی دفاع کیلئے 2550ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر کیلئے3 ارب مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 4.3 ارب مختص، 1 لاکھ 61 ہزار 500 نوجوانوں کو تعلیم دی جائے گی۔حکومت نے نئے بجٹ میں سالانہ 20کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدنی پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق نئی انرجی وہیکل پالیسی منظور کی گئی ہے جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی، الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور فروخت کو فروغ دینے کیلئے لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ لیوی معدنی تیل استعمال کرنے والی گاڑیوں کی فروخت اوردرآمد پرانجن کی طاقت کے مطابق عائد ہوگی۔وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ منی بجٹ کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا مگر کوئی منی بجٹ نہیں آیا نا کوئی نیا ٹیکس لگایا گیا۔آئندہ بجٹ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نئے ضم شدہ اضلاع کو حاصل شدہ ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی۔ وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ ضم شدہ اضلاع میں کاروبار پر آئندہ پانچ سال میں مرحلہ وار سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، ضم شدہ اضلاع میں کاروبار پر آئندہ مالی سال میں دس فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنشن اسکیم میں بھی اصلاحات کر دی گئی ہیں، قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے گی، پنشن اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس سے منسلک کردیا گیا ہے، شریک حیات کے انتقال کے بعد فیملی پنشن کی مدت دس سال تک محدود ہوگی، ایک سے زائد پنشن کا خاتمہ ہوگا، ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کی صورت میں پنشن یا تنخواہ ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین