کیا بجلی مزید مہنگی ہوگی؟ نئے بجٹ میں صارفین پر نیا سرچارج لگانے کا فیصلہ

اس اقدام سے گھریلو اور کمرشل صارفین پر مالی دباؤ بڑھے گا

حکومت پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں بجلی کے صارفین پر اضافی سرچارج عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اس اقدام سے گھریلو اور کمرشل صارفین پر مالی دباؤ بڑھے گا، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہیں۔ یہ فیصلہ گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

نئے بجٹ میں بجلی کی قیمتوں پر سرچارج کی تجویز

حکومت نے 10 جون 2025 کو قومی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کیا، جس میں بجلی کے بلوں پر اضافی سرچارج عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس سرچارج کی موجودہ 10 فیصد حد کو ختم کرنے اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے حکومت کو سرچارج بڑھانے کا اختیار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ترمیم سے حکومت کو حالات کے مطابق سرچارج میں اضافہ کرنے کی لچک ملے گی، جو صارفین کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث بن سکتا ہے۔

فی یونٹ سرچارج کی مجوزہ شرح

ذرائع نے انکشاف کیا کہ بجلی کے صارفین سے فی یونٹ 3 روپے 23 پیسے تک سرچارج وصول کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا، لیکن اس مجوزہ اضافے سے بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ یہ سرچارج گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین پر یکساں طور پر اثر انداز ہوگا، جس سے معاشی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کم آمدنی والے گھرانوں پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔

گردشی قرضوں کا بوجھ اور قرض کی منصوبہ بندی

حکومت نے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے 1275 ارب روپے کا کمرشل قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ قرض آئندہ 6 سال کے دوران صارفین سے وصول کیے جانے والے سرچارجز کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔ ماضی میں بھی سرچارجز کے ذریعے گردشی قرضوں کے سود کی ادائیگی کی جاتی رہی ہے، لیکن اس نئے منصوبے سے صارفین پر اضافی مالی دباؤ پڑے گا، جو پہلے ہی بلند بلوں سے پریشان ہیں۔

نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے مضمرات

نیپرا ایکٹ میں مجوزہ ترمیم سے حکومت کو بجٹ یا مالی حالات کے مطابق سرچارج عائد کرنے کی آزادی ملے گی۔ توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ترمیم بجلی کی قیمتوں میں مستقل اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جو مہنگائی کو مزید ہوا دے گی۔ اس سے نہ صرف گھریلو صارفین کی مشکلات بڑھیں گی بلکہ صنعتی اور کمرشل شعبوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھے گی، جو مجموعی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

مہنگائی اور گھریلو صارفین پر اثرات

ماہرین کے مطابق، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست تعلق مہنگائی سے ہے۔ حالیہ برسوں میں بجلی کے نرخوں میں 155 فیصد اضافہ ہوا، جس نے صارفین کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا۔ مجوزہ سرچارج سے گھریلو صارفین، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں، کو بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے، اور عوام اسے اپنی مشکلات میں اضافے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

توانائی شعبے کے چیلنجز اور عوامی ردعمل

پاکستان کا بجلی کا شعبہ ناکارہ ترسیلی نظام، بجلی کی چوری، اور پرانے پاور پلانٹس کی وجہ سے مسلسل چیلنجز کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچارجز کے بجائے توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے، جیسے کہ قابل تجدید توانائی پر سرمایہ کاری اور ترسیلی نقصانات کو کم کرنا۔ سوشل میڈیا پر عوام نے اس فیصلے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے، اور کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ ناکارہ نظام کا خمیازہ ہر بار عام آدمی کو کیوں بھگتنا پڑتا ہے۔

صارفین کے لیے نئے چیلنجز

نئے بجٹ میں بجلی پر اضافی سرچارج عائد کرنے کا فیصلہ صارفین کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔ اگرچہ حکومت کا مقصد گردشی قرضوں کو کم کرنا ہے، لیکن اس سے مہنگائی میں اضافہ اور گھریلو صارفین کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو سرچارجز کے بجائے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے، جیسے کہ شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینا۔ اس وقت صارفین کو بجلی کے بڑھتے بلوں سے بچنے کے لیے توانائی کے موثر استعمال اور متبادل ذرائع جیسے سولر پینلز پر غور کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین