بدقسمت بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ، 241 ہلاکتیں

پروازآج دوپہر 1:38 بجے احمد آباد ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی اور چند منٹوں بعد رہائشی علاقے "میگھانی نگر" پر گر کر تباہ ہو گئی

ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز AI 171 رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گئی۔ پروازآج دوپہر 1:38 بجے احمد آباد ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی اور چند منٹوں بعد "میگھانی نگر” پر گر کر تباہ ہو گئی۔بوئنگ 787-8 ڈریملائنر طیارہ ایک گنجان آباد علاقے میں کریش ہوا جس کے باعث بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد 240 سے زائد ہوگئی جن میں ہاسٹل میں رہائش پذیر طلبا بھی شامل ہیں۔

مسافروں اور عملے کی تفصیلات

طیارے میں کل 242 افراد سوار تھے، جن میں 232 مسافر اور 12 عملے کے ارکان شامل تھے۔ مسافروں میں 169 بھارتی، 52 برطانوی، ایک کینیڈین، اور سات پرتگالی شہری شامل تھے۔ اس کے علاوہ، دو شیرخوار بچے اور آٹھ ڈاکٹرز بھی پرواز میں موجود تھے۔ قابل ذکر ہے کہ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی اس پرواز میں سوار تھے۔

حادثے کی ابتدائی وجوہات

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے مطابق، طیارے نے ٹیک آف کے فوراً بعد "مے ڈے” کال دی، جو ایمرجنسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ٹیک آف کے دوران طیارہ ایک درخت سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں توازن بگڑا اور یہ کریش ہو گیا۔ مزید برآں، طیارے میں تکنیکی خرابی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم حتمی وجوہات کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو گی۔

جائے حادثہ اور نقصانات

طیارہ میگھانی نگر کے رہائشی علاقے میں گرا، جو ایئرپورٹ سے متصل شاہی باغ ایریا اور نروڑا کے سنگم پر واقع ہے۔ طیارے کا اگلا حصہ آئی جی بی کمپاؤنڈ میں واقع ایک اپارٹمنٹ بلاک کے فلیٹس کے درمیان پھنس گیا۔ کریش کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی، اور گھنا دھواں آسمان میں بلند ہوتا دیکھا گیا۔ گنجان آباد علاقے میں حادثے کے باعث جانی و مالی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

امدادی کارروائیاں اور چیلنجز

حادثے کے فوراً بعد فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ فائر آفیسر جیش کھاڈیا نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں زخمیوں کو فوری طور پر سٹی سول اسپتال منتقل کر رہی ہیں۔ تاہم، جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں شہریوں کے جمع ہونے سے ریسکیو آپریشنز میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ جائے حادثہ سے دور رہیں تاکہ امدادی کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں۔

حکومتی ردعمل

مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی رام موہن نائیڈو نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور فوری طور پر احمد آباد روانہ ہو گئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے فوری ریسکیو اور امدادی آپریشنز کی ہدایت دی اور زخمیوں کے علاج کے لیے گرین کوریڈور بنانے کے احکامات جاری کیے۔ ایئرپورٹ کے آس پاس کی تمام سڑکیں بند کر دی گئی ہیں تاکہ امدادی ٹیموں کو رسائی میں آسانی ہو۔

ایئر انڈیا کا بیان

ایئر انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: “پرواز AI171، جو احمد آباد سے لندن گیٹوک جا رہی تھی، آج 12 جون 2025 کو ایک حادثے کا شکار ہوئی۔ ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور جلد مزید معلومات فراہم کریں گے۔” ایئر انڈیا کے چیئرمین نٹراجن چندرشیکھرن نے بھی ایک بیان میں متاثرین کے اہلخانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور ایمرجنسی سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا۔

تحقیقات کا آغاز

حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے DGCA، ایئر ڈیفینس ایوی ایشن ڈیپارٹمنٹ (ADAD)، اور فلائٹ آپریشنز انسپکٹوریٹ (FOI) کے نمائندوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ٹیم نے احمد آباد میں شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ فلائٹ ریکارڈرز اور دیگر تکنیکی ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

عالمی ردعمل

برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرین کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی شہریوں کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ برطانوی ہاؤس آف  لوسی پاول نے بھی کہا کہ برطانیہ متاثرین کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

یہ حادثہ بھارت کی ایوی ایشن تاریخ کے بدترین حادثات میں سے ایک ہے۔ گنجان آباد علاقے میں طیارے کے گرنے سے جانی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ تحقیقاتی ٹیمیں حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے سرگرم ہیں۔ ایئر انڈیا اور حکومتی ادارے متاثرین اور ان کے اہلخانہ کی مدد کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین