اسرائیل پر جلد خیبر میزائل برسیں گے، دنیا دنگ رہ جائے گی ،ایران

خیبر میزائل ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری عسکری کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے۔ ایران کی طاقتور عسکری تنظیم پاسداران انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اسرائیل پر اپنا جدید اور تباہ کن "خیبر” میزائل داغے گی، جو اسرائیل کے لیے ایک "حیران کن مرحلہ” ثابت ہوگا۔ یہ بیان ایران کے حالیہ ’آپریشن وعدہ صادق سوم‘ کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، جس نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا سخت انتباہ

پاسداران انقلاب نے ایک سرکاری بیان میں اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل معافی ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی افواج اسرائیل کے ان اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں جو ایران، فلسطین، اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف جارحیت کا مرکز ہیں۔ IRGC نے زور دیا کہ اسرائیل کے دعوؤں کے برعکس، ایرانی میزائل اپنے اہداف کو درست نشانہ بنا رہے ہیں، اور یہ حملے اسرائیل کی حالیہ جارحیت کا بدلہ ہیں، جس میں ایرانی فوجی کمانڈرز اور شہری ہلاک ہوئے۔

خیبر میزائل، ایران کا جدید ہتھیار

ایرانی بیان میں "خیبر” میزائل کو ایک جدید اور تباہ کن ہتھیار کے طور پر پیش کیا گیا، جو اسرائیل کے لیے ایک غیر متوقع دھچکا ثابت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، خیبر میزائل ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے، جو درست ہدف زنی اور بھاری تباہی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل اسرائیلی فضائی دفاع، بشمول آئرن ڈوم، کو بے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کا استعمال اسرائیل کی فوجی تنصیبات اور اسلحہ ساز فیکٹریوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا جائے گا۔

آپریشن وعدہ صادق سوم، جاری حملوں کا تسلسل

پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’آپریشن وعدہ صادق سوم‘ کے تحت اسرائیل کے فوجی اڈوں، اسلحہ سازی کے مراکز، اور دیگر اسٹریٹجک تنصیبات پر حملے جاری ہیں۔ یہ آپریشن ایران کے جوابی حملوں کا ایک حصہ ہے، جو اسرائیل کے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کے جواب میں شروع کیا گیا، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ IRGC نے دعویٰ کیا کہ ان کے میزائل اور ڈرونز نے تل ابیب، یروشلم، اور گش دان میں اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچا۔

ایران کی سرخ لکیر، سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں

ایرانی فوج نے واضح کیا کہ اس کی قومی سلامتی ایک "سرخ لکیر” ہے، جسے عبور کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاسداران انقلاب کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ جارحیت، جس میں ایرانی فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدان، اور شہری ہلاک ہوئے، نے ایران کو سخت جوابی کارروائی پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اپنی جارحانہ پالیسی جاری رکھی تو ایران کے حملے مزید شدید اور وسیع ہوں گے، اور اسرائیل کے لیے کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا۔

اسرائیل پر حملوں کا مقصد

IRGC کے بیان کے مطابق، ایرانی حملوں کا بنیادی مقصد اسرائیل کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اسے خطے میں جارحیت سے روکنا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین، لبنان، اور شام میں اپنی کارروائیوں کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کیا ہے، اور ایران پر حالیہ حملوں نے اسے جواب دینے پر مجبور کیا۔ خیبر میزائل کا استعمال اسرائیل کی فوجی تنصیبات، خاص طور پر اس کے جوہری تحقیقی مراکز اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جائے گا، جو ایران کے مطابق خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔

 خطے میں جنگ کا خطرہ

ایران کے اس بیان نے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سعودی عرب، عمان، اور اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک نے اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کی تھی، اور اب ایران کے خیبر میزائل کے اعلان نے تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ عسکری تصادم جاری رہا تو مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور امن پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے۔

اسرائیل کا ردعمل

ایران کے بیان کے بعد اسرائیل نے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے، اور تل ابیب، یروشلم، اور دیگر شہروں میں سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، اور اس کا فضائی دفاع خیبر میزائل جیسے خطرات سے بچاؤ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، ایرانی میزائلوں کی حالیہ کامیابیوں نے اسرائیلی دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

خیبر میزائل کی اہمیت

خیبر میزائل کا نام تاریخی طور پر خیبر کی جنگ سے منسوب ہے، جو اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ ایران نے اس میزائل کا نام منتخب کرکے نہ صرف اپنی عسکری طاقت بلکہ اپنے عزم کو بھی ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ میزائل 2,000 کلومیٹر تک کے فاصلے پر درست ہدف زنی کر سکتا ہے، اور اس کی تیز رفتار اور جدید ٹیکنالوجی اسے اسرائیلی دفاع کے لیے ایک سنگین چیلنج بناتی ہے۔ اگر ایران اس میزائل کو استعمال کرتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے ایک نیا اور غیر متوقع خطرہ ہوگا۔

مشرق وسطیٰ کا نازک موڑ

ایران کا خیبر میزائل کے ذریعے اسرائیل کو دھمکی دینا مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازع کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں لے جا رہا ہے۔ ’آپریشن وعدہ صادق سوم‘ کے تحت جاری ایرانی حملے اور اسرائیل کے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ نے دونوں ممالک کو ایک تباہ کن تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ خیبر میزائل کے ممکنہ استعمال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور یہ حملہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا۔ سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت ہے، ورنہ یہ تنازع عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین