19 جون 2025 کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دو ہفتوں کے اندر فوجی کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے اسرائیل پر اپنا اب تک کا سب سے بڑا میزائل حملہ کیا، جس سے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ کی سفارتی حل کی خواہش اور ایرانی جوہری پروگرام کو روکنے کی ترجیح نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔
سفارت کاری یا طاقت
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی حل نکالنے کے خواہشمند ہیں، لیکن ان کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ دو ہفتوں میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات اور حقائق کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے۔ لیویٹ نے زور دیا کہ ٹرمپ ایک "امن پسند لیڈر” ہیں جو سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ یہ بیان امریکی پالیسی کے دوہرے رخ کو عیاں کرتا ہے۔
سیجل میزائل کا استعمال
ایران نے آپریشن وعدہ صادق سوم کے تحت اسرائیل پر اپنی 11ویں لہر میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، جس میں جدید سیجل میزائلز اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، یہ میزائلز انتہائی بلندی پر پرواز کر کے درست اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ حملوں نے تل ابیب، حیفہ، اور بیئرشیوا سمیت متعدد شہروں میں تباہی مچائی، جس سے 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور متعدد عمارتیں، بشمول اسٹاک ایکسچینج اور سوروکا اسپتال، نقصان کا شکار ہوئیں۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے سوروکا اسپتال میں قائم مبینہ فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
خامنہ ای کو دھمکی
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ اب خامنہ ای کے خاتمے پر ختم ہوگی۔ اسرائیلی فوج نے ایران کے اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر اور تہران میں وزارت دفاع سمیت متعدد عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اسرائیل نے پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف جنرل محمد کاظمی اور 20 سے زائد کمانڈرز کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٖ کیا، جس کی ایران نے جزوی تصدیق کی۔ ان حملوں سے تہران میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند کر دی گئیں، جسے سائبر حملوں سے تحفظ کا اقدام قرار دیا گیا۔
خامنہ ای کا اعلان جنگ
آیت اللہ خامنہ ای نے ایکس پر دو پوسٹس کے ذریعے اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، کہتے ہوئے کہ "صہیونی دہشت گرد ریاست پر رحم کا وقت ختم ہو چکا ہے” اور "جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔” ایک پوسٹ میں خیبر کے قلعے کی فتح کی علامتی تصویر شامل تھی، جو مذہبی اور تاریخی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بیانات ٹرمپ کے اس انتباہ کے جواب میں سامنے آئے کہ وہ خامنہ ای کے ٹھکانے سے آگاہ ہیں لیکن فی الحال انہیں نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ خامنہ ای کے اس اعلان نے تنازع کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا۔
روس کی ثالثی کی پیشکش
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش کی، جسے امریکی تھنک ٹینک کارنیگی نے روس کی ایران میں اپنے اتحادی کی حمایت سے تعبیر کیا۔ روس نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، جبکہ یوکرین نے ایران پر روس کو ڈرونز اور میزائلز فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔ روس اور ایران کے درمیان جنوری 2025 میں طے پانے والا اسٹریٹجک فوجی معاہدہ اس پیشکش کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ پوٹن کی یہ کوشش خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش ہے۔
جوہری پروگرام پر توجہ
جرمنی، فرانس، اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ 20 جون 2025 کو جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے۔ جرمن ذرائع کے مطابق، یہ مذاکرات امریکی ہم آہنگی کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ایران سے یقین دہانی مانگتے ہیں کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ یورپی سفارت کاروں نے خبردار کیا کہ ایران کے تعاون سے کشیدگی کم ہو سکتی ہے، ورنہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات ایران کے 60 فیصد یورینیم افزودگی کے دعوؤں کے تناظر میں اہم ہیں، جنہیں اسرائیل عسکری مقاصد سے جوڑتا ہے۔
ایرانی دعوے، فضائی برتری کا اعلان
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اسرائیل کا دفاعی نظام، بشمول آئرن ڈوم، ایرانی سیجل اور فتح میزائلوں کے سامنے ناکام ہو چکا ہے۔ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حیفہ کی بندرگاہ اور ایک بڑا تیل ڈپو تباہ ہو گیا، جبکہ تل ابیب میں دھماکوں سے دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ ایران کی سیکیورٹی کونسل نے خبردار کیا کہ اسرائیل کو "رات میں دن کا منظر” دکھایا جائے گا، جو اس کی عسکری حکمت عملی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسرائیل کی تباہی
ایرانی حملوں نے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس سے 14 افراد ہلاک، 200 سے زائد زخمی، اور 35 لاپتہ ہوئے۔ حیفہ کی ریفائنری بند ہو گئی، اور ڈیمونا جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے سے عالمی تشویش بڑھ گئی۔ اسرائیلی فوج نے شہریوں کو بنکرز میں پناہ لینے کی ہدایت کی، جبکہ فوجی سنسرشپ نے نقصان کی تفصیلات کو محدود کر دیا۔ اسرائیل نے جوابی حملوں میں تہران کے پانی کے نظام اور مشہد ایئرپورٹ کو نقصان پہنچایا، جس سے ایران میں شہری مشکلات بڑھ گئیں۔ ان حملوں نے دونوں ممالک کی معیشتوں کو شدید دھچکا لگایا۔
داخلی سکیورٹی
ایران نے اسرائیلی سائبر حملوں کے خدشے کے پیش نظر تہران میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کر دیں۔ ایرانی خفیہ ایجنسی نے اسلامشہر میں موساد کی مبینہ ڈرون ورکشاپ پکڑی اور دو ایجنٹس کو گرفتار کیا۔ ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں 44 اسرائیلی ڈرونز تباہ کیے گئے۔ یہ اقدامات ایران کی دفاعی تیاریوں اور داخلی استحکام کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو اس کی جنگی صلاحیت کو عیاں کرتے ہیں۔
ایران پر دباؤ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حملوں میں امریکا براہ راست ملوث ہے، جسے واشنگٹن نے مسترد کیا۔ عراقچی نے خبردار کیا کہ توانائی کے ڈھانچے پر حملے خلیج فارس میں جنگ کو پھیلا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو "بے مثال” جواب دیا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے دعویٖ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ممکن ہے، جو ان کی سفارتی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بیانات امریکی پالیسی کی پیچیدگی کو عیاں کرتے ہیں۔
جنگ یا سفارت کاری کا دوراہے
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو ایک تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کے سیجل میزائل حملوں اور اسرائیل کے جوابی وار نے دونوں ممالک میں بھاری جانی و مالی نقصان کیا۔ ٹرمپ کا دو ہفتوں میں فیصلہ اور یورپی ممالک کے مذاکراتی عزائم سفارتی حل کی امید ہیں، لیکن خامنہ ای کا اعلان جنگ اور اسرائیل کی دھمکیاں حالات کو مزید پیچیدہ کر رہی ہیں۔ روس کی ثالثی اور عالمی برادری کی کوششیں اس تنازع کو روکنے کے لیے اہم ہیں، ورنہ یہ ایک عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔





















