20 جون 2025 کو لاہور سمیت پنجاب بھر میں شدید گرمی اور حبس نے شہریوں کو نڈھال کر دیا ہے۔ سورج کی تپش اور بلند نمی نے موسم کی شدت کو مزید بڑھا دیا، جس سے عوام کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ تاہم، ایک امید افزا خبر یہ ہے کہ ایک نیا موسمی نظام پاکستان میں داخل ہو چکا ہے، جو گرمی اور حبس سے نجات دلانے کا باعث بن سکتا ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آج سے 23 جون تک صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی، اور بارش کی پیش گوئی کی ہے، جو موسم کو خوشگوار بنانے کی امید جگاتی ہے۔
لاہور میں حبس کا راج
صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں خشک اور گرم موسم نے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، آج لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔ بلند نمی کی سطح نے گرمی کے احساس کو اور شدید کر دیا، جس سے شہری معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ آج شہر میں گرد آلود ہوائیں چلنے کی توقع ہے، لیکن بارش کے امکانات فی الحال کم ہیں، جو شہریوں کے لیے ایک عارضی چیلنج ہے۔
پری مون سون بارشوں کا آغاز
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے اعلان کیا کہ آج شام سے پنجاب بھر میں پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جو 23 جون تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ موسمی نظام تیز ہواؤں، آندھی، اور گرج چمک کے ساتھ بارش لائے گا، جو گرمی اور حبس کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ بارشیں نہ صرف موسم کو خوشگوار بنائیں گی بلکہ فضائی آلودگی کے ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کریں گی، جو حالیہ دنوں میں لاہور میں 151 تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
متوقع بارش کے علاقے
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 20 سے 23 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع بارش سے مستفید ہوں گے۔ شمالی اور وسطی پنجاب کے شہروں بشمول راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم، گجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا، اور میانوالی میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، 21 سے 23 جون تک جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، اور بہاولنگر بھی بارش سے متاثر ہوں گے، جو گرمی کی لہر سے نجات دلائے گی۔
پی ڈی ایم اے کا الرٹ
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ، اور لائیو اسٹاک کو ممکنہ موسمی اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بارشوں اور طوفانی حالات کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
پی ڈی ایم اے نے عوام الناس سے درخواست کی ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ خاص طور پر تیز آندھی، گرج چمک، اور آسمانی بجلی کے خطرات سے بچنے کے لیے کھلے آسمان کے نیچے جانے سے اجتناب کیا جائے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔ یہ ہدایات خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہیں جہاں طوفانی بارشوں اور جھکڑ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
فضائی آلودگی کا چیلنج
لاہور میں حالیہ گرمی اور حبس نے فضائی آلودگی کو بھی بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 151 تک پہنچ گیا، جو اسے دنیا کے آلودہ شہروں میں دوسرے نمبر پر لے آیا۔ گرد آلود ہواؤں نے شہریوں کے لیے سانس لینے میں دشواری پیدا کی ہے، اور بارشوں کا متوقع سلسلہ اس آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور دھول سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
موسم کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق، آج لاہور میں موسم جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، لیکن بارش کا امکان کم ہے۔ تاہم، شام سے پری مون سون بارشوں کا آغاز ہوگا، جو اگلے چند دنوں تک پنجاب کے مختلف حصوں میں جاری رہے گا۔ ہوا کی رفتار 10 سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رہنے کی توقع ہے، جبکہ نمی کا تناسب 58 سے 65 فیصد کے درمیان رہے گا۔ یہ موسمی تبدیلی گرمی کی شدت کو کم کرے گی اور شہریوں کو عارضی ریلیف فراہم کرے گی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر پاکستانی صارفین نے گرمی سے نجات کے لیے بارش کی پیش گوئی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "لاہور کی گرمی سے جان چھوٹے گی، بارش کا انتظار ہے!” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، "پی ڈی ایم اے کا الرٹ بروقت ہے، امید ہے بارش موسم کو ٹھنڈا کر دے گی۔” یہ ردعمل شہریوں کی گرمی سے تنگ آ کر بارش کی خواہش اور پی ڈی ایم اے کی پیش گوئی پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر
پاکستان سمیت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں نے گرمی کی لہروں اور غیر متوقع موسمی پیٹرن کو بڑھاوا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، شمال مشرقی پنجاب میں رواں سال بارش کی سطح میں 50 فیصد تک اضافے کی توقع ہے، جو پری مون سون بارشوں کے اس سلسلے سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ موسمی نظام نہ صرف گرمی سے نجات دلائے گا بلکہ زراعت اور پانی کے ذخائر کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔ تاہم، طوفانی بارشوں سے سیلاب اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔
بارشوں کی آمد سے ریلیف کی امید
لاہور سمیت پنجاب بھر میں جاری شدید گرمی اور حبس نے شہریوں کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے، لیکن پری مون سون بارشوں کا متوقع سلسلہ موسم کو خوشگوار بنانے کی نوید لے کر آیا ہے۔ 20 سے 23 جون تک تیز ہواؤں، آندھی، اور بارشوں کی پیش گوئی سے نہ صرف گرمی کی شدت کم ہوگی بلکہ فضائی آلودگی میں بھی کمی متوقع ہے۔ پی ڈی ایم اے کی بروقت تیاری اور شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات اس موسمی تبدیلی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور ایمرجنسی میں ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں تاکہ اس موسم سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔





















