تنخواہ داروں پر ٹیکس میں دوبارہ رد و بدل، آڑھتیوں کے منافع پر بھی ٹیکس کی تجویز

کیش ٹو کیش ٹرانزیکشنز پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی بھی منظوری

21 جون 2025 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بجٹ 2025-26 کے تحت تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح میں ردوبدل کی منظوری دی، جبکہ آڑھتیوں کے منافع پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو قبول کر لیا۔ تاہم، کمیٹی نے کاشتکاروں کی غذائی اجناس کی فروخت پر انکم ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کر دی۔ نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نئے مالیاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی، جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدات کی روشنی میں مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ٹیکس بیس کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف

قائمہ کمیٹی نے سالانہ 6 سے 12 لاکھ روپے کی آمدن والے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو 2.5 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا گیا، جس نے 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر ٹیکس چھوٹ کو 1 فیصد تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ رواں مالی سال میں اس سلیب پر 5 فیصد ٹیکس عائد تھا، لیکن سرکاری ملازمین کے ریلیف کو 6 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کے باعث ٹیکس کی شرح کم کی گئی۔ یہ تبدیلی تنخواہ دار طبقے کے لیے مالی بوجھ کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

امرا کے لیے نئی پابندی

کمیٹی نے سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن حاصل کرنے والوں پر 5 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی، جبکہ ایک کروڑ روپے تک کی پنشن کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ ساڑھے 8 لاکھ روپے ماہانہ پنشن لینے والوں کو قومی خزانے میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے بتایا کہ بھارت سمیت متعدد ممالک میں پنشن پر ٹیکس عائد ہے۔ تاہم، قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور دیگر اراکین نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ رکن کمیٹی محمد جاوید نے کہا کہ ججوں کے علاوہ کوئی ایک کروڑ سے زائد پنشن نہیں لیتا۔

آڑھتیوں پر ٹیکس

قائمہ کمیٹی نے آڑھتیوں کے منافع پر انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی حمایت کی، جو زرعی مصنوعات کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ زرعی شعبے سے ٹیکس آمدن بڑھانے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاہم، کمیٹی نے کاشتکاروں کی غذائی اجناس کی فروخت پر انکم ٹیکس لگانے کی تجویز کو مسترد کر دیا، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ریلیف ملے گا۔ یہ فیصلہ دیہی معیشت پر غیر ضروری دباؤ سے بچنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کلبز اور بینکوں پر ٹیکس

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 10 لاکھ روپے سے زائد ممبرشپ فیس وصول کرنے والے کلبز اب انکم ٹیکس کے دائرے میں آئیں گے۔ وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ یہ کلبز "امرا کی عیاشیوں” کے مراکز ہیں اور ان کی آمدن پر ٹیکس ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، آئندہ مالی سال سے بینکوں کے منافع پر 52 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا، جو مالیاتی شعبے سے زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کی کوشش ہے۔ یہ اقدامات اعلیٰ طبقے سے ٹیکس آمدن بڑھانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

کیش ٹرانزیکشنز پر پابندیاں

کمیٹی نے رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے کیش ٹو کیش ٹرانزیکشنز پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی۔ دو لاکھ روپے تک کیش میں کاروبار کرنے والے صرف 50 فیصد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدن کو دیگر کاروباروں سے الگ کرنے کی شق منظور کی گئی، جس کے تحت پراپرٹی منافع کو کاروباری نقصانات کے مقابلے میں ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ فیصلے ٹیکس چوری روکنے اور کاروباری شفافیت بڑھانے کے لیے اہم ہیں۔

 آن لائن کاروبار میں اضافہ

ایف بی آر نے اعلان کیا کہ آن لائن فروخت پر 1 فیصد اور دکانوں پر 5 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز کو اپنے ٹرن اوور پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو ای کامرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے سے ریونیو بڑھانے کی کوشش ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو منظم کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، خاص طور پر جب آن لائن شاپنگ کا رجحان شہری علاقوں میں بڑھ رہا ہے۔

کمرشل پراپرٹی پر کرائے کی حد مسترد

کمیٹی نے کمرشل جائیدادوں پر 4 فیصد اسٹینڈرڈ کرائے کی حد مقرر کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا، جس سے پراپرٹی سیکٹر کو غیر ضروری پابندیوں سے بچایا گیا۔ تاہم، رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے نقصان کی صورت میں ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی حد کو محدود کر دیا گیا، جو ٹیکس نظام کو مزید سخت کرنے کی کوشش ہے۔ یہ فیصلہ پراپرٹی مارکیٹ کی حرکیات کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن اس سے ٹیکس چوری کے امکانات کم ہوں گے۔

ٹیکس نادہندگان سے ریکوری

کمیٹی نے ٹیکس نادہندگان سے ریکوری سے متعلق قانونی شق پر تفصیلی بحث کی۔ چیئرمین نوید قمر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ اس قانون کو مزید بہتر بنا کر دوبارہ پیش کیا جائے۔ یہ فیصلہ ٹیکس نظام کی شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کی کوشش ہے، تاکہ نادہندگان پر غیر ضروری دباؤ کے بغیر ریونیو اکٹھا کیا جا سکے۔ ایف بی آر حکام نے یقین دہانی کرائی کہ قانون کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترمیم کیا جائے گا۔

کمیٹی اراکین کے تحفظات

اجلاس کے دوران اراکین نے مختلف تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عمر ایوب نے ایف بی آر کے آپریشنز کو عالمی معیارات کے مطابق چلانے کا مطالبہ کیا، جبکہ محمد جاوید نے پنشن ٹیکس کے مستقبل میں عام پنشنرز پر اثرات کے خدشے کا ذکر کیا۔ ان تحفظات نے کمیٹی کے فیصلوں کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے حکومتی پالیسیوں پر پارلیمانی نگرانی کی اہمیت اجاگر ہوئی۔ یہ بحثیں پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر پاکستانی صارفین نے بجٹ فیصلوں پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی خوش آئند ہے، لیکن آڑھتیوں پر ٹیکس سے زرعی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، "کاشتکاروں کو ٹیکس سے استثنیٰ درست فیصلہ ہے، لیکن ایف بی آر کو چاہیے کہ امرا سے زیادہ ٹیکس وصول کرے۔” یہ ردعمل عوام کے معاشی پالیسیوں پر گہرے شعور اور حکومتی اقدامات پر کڑی نظر رکھنے کی عکاسی کرتے ہیں۔

معاشی اصلاحات کی جانب پیش قدمی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے فیصلوں نے بجٹ 2025-26 کے تحت ٹیکس نظام میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دی، جو تنخواہ دار طبقے، آڑھتیوں، اور امرا کے کلبز کو ہدف بناتے ہیں۔ 6 سے 12 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 1 فیصد کرنا اور کاشتکاروں کو ٹیکس سے استثنیٰ دینا عوامی ریلیف کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ تاہم، پنشن اور آڑھتیوں پر ٹیکس کے فیصلوں پر اراکین کے تحفظات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی اصلاحات ایک پیچیدہ عمل ہے۔ یہ فیصلے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ٹیکس بیس کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، لیکن ان کے طویل مدتی اثرات حکومتی عملداری اور شفافیت پر منحصر ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین