ایران، اسرائیل تنازعہ تیل کی قیمتوں میں خوفناک اضافے کا امکان

پاکستان اپنی تیل کی ضرورت کا 85 فیصد درآمدات پر پورا کرتا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے تنازعے نے عالمی تیل کی قیمتوں کو عروج پر پہنچا دیا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ طور پر 180 روپے فی لیٹر تک اضافے کا خدشہ ہے، جو مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور روپے کی قدر میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں خوفناک اضافے کا امکان

تفصیلات کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل مچا رہی ہے۔ اس تنازعے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 180 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ عام لوگوں کے لیے بہت بڑا معاشی دباؤ بن سکتا ہے، کیونکہ پاکستان اپنی تیل کی ضرورت کا 85 فیصد درآمدات پر پورا کرتا ہے۔

معیشت پر بھاری بوجھ

عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کی معیشت کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔ اس سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوگا بلکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ سکتا ہے، کیونکہ تیل کی درآمدات پر زیادہ اخراجات ہوں گے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے، جو درآمدات کو اور مہنگا کر دے گا۔ یہ صورتحال صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

مہنگائی کا طوفان اور روزمرہ زندگی پر اثرات

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خطرہ ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر اشیائے خوردونوش تک، ہر چیز کی قیمت بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بلند ہیں، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے زندگی کو مزید مشکل بنا دے گا۔ خاص طور پر، تیل کی قیمتوں میں اضافہ نان فوڈ اشیا کی قیمتوں پر زیادہ اثر ڈالتا ہے، جیسے کہ بجلی اور صنعتی پیداوار کے اخراجات۔

100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ قیمت کے تباہ کن نتائج

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تو پاکستان پر اس کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایندھن کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ زراعت، صنعت اور ٹرانسپورٹ سیکٹرز بھی بری طرح متاثر ہوں گے۔ تیل کی درآمدات پر بڑھتا ہوا بوجھ ملکی معیشت کو مزید کمزور کر سکتا ہے، اور غربت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

۔پالیسی تجاویز

ماہرین کا مشورہ ہے کہ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے متبادل ذرائع، جیسے کہ قابل تجدید توانائی، پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عالمی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، معاشی پالیسیوں میں استحکام اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو اس طرح کے جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین