ایرانی پارلیمنٹ نے عالمی معیشت کی شہ رگ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی معیشت کیلئے ایک بڑا خطرہ سمجھا جارہا ہے۔ ملک کے اعلیٰ ترین سکیورٹی ادارے کی منظوری کے بعد اس فیصلے کو کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت و افادیت
آبنائے ہرمز دنیا کے حساس ترین جہاز رانی راستوں میں سے ایک ہے، جس کی چوڑائی تقریباً 55 کلومیٹر ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال اس آبنائے سے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل گزرا جو عالمی پیٹرولیم استعمال کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہ آبنائے خلیجی ممالک جیسے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور عراق کے تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے کلیدی گزرگاہ ہے۔
موجودہ صورتحال
ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی منظوری کا فیصلہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ یہ فیصلہ امریکی حملوں کے جواب میں جوابی اقدامات کے طور پر زیر غور ہے۔ تاہم، ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی ادارے نے ابھی تک اس کی حتمی توثیق نہیں کی۔اس ممکنہ بندش کے پیش نظر، شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے گریز شروع کر دیا ہے، اور بحری جہازوں کے لیے انشورنس کی شرح میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس سے عالمی تجارت اور جہاز رانی کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بالآخر صارفین پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
متاثر ہونے والے ممالک
آبنائے ہرمز کی بندش سے متعدد ممالک براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات عالمی تیل کی منڈی میں بڑے کھلاڑی ہیں، جبکہ قطر LNG کی برآمدات میں عالمی رہنما ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو ان ممالک کی برآمدات بری طرح متاثر ہوں گی، جس سے ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔سعودی عرب کے پاس پیٹرو لائن (Petroline) نامی پائپ لائن ہے جو تیل کو بحیرہ احمر تک لے جا سکتی ہے، لیکن اس کی گنجائش محدود ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حبشان-فجیرہ پائپ لائن بھی متبادل ہے، لیکن یہ بھی مکمل طور پر آبنائے ہرمز کی جگہ نہیں لے سکتی۔
ایشیائی ممالک
چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا خلیجی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ہیں۔ چین عالمی تیل کی منڈی کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ان ممالک کی معیشتوں پر بوجھ ڈال سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے، جو ان ممالک کے صنعتی اور صارفین کے اخراجات کو بڑھا سکتا ہے۔
امریکا اور یورپی ممالک
اگرچہ امریکا اور یورپ براہ راست خلیجی تیل پر کم انحصار کرتے ہیں، لیکن عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ان کی معیشتوں کو متاثر کرے گا۔ امریکی صارفین کو ایندھن کی بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ یورپی ممالک، جو LNG پر انحصار کرتے ہیں، توانائی کے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔عالمی تیل کی 20 فیصد سپلائی کی بندش سے عالمی معیشت ہل سکتی ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بڑھاتا ہے۔
ایران
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران خود بھی اپنے تیل کی برآمدات اور درآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے۔ بندش سے ایران کی اپنی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا، خاص طور پر اس کے اتحادی ممالک جیسے کہ چین اور روس کو۔
عالمی ردعمل
برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔عالمی شپنگ انڈسٹری: شپنگ کمپنیاں متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں، لیکن یہ راستے مہنگے اور وقت طلب ہیں، جس سے عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا۔یہ فیصلہ نہ صرف خلیجی ممالک کی معیشتوں کو متاثر کرے گا بلکہ ایشیا، یورپ اور امریکا جیسے خطوں میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ عالمی برادری نے اس صورتحال پر گہری نظریں مرکوز کررکھی ہیں کیونکہ اس کے نتائج انتہائی خوفناک ہو سکتے ہیں





















