گرمیوں کے موسم میں کافی کے استعمال سے متعلق کئی غلط فہمیاں عام ہیں، جن کی وجہ سے لوگ اسے گرمی میں نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، سائنسی تحقیق اور ماہرین کی آراء ان خیالات کی نفی کرتی ہیں۔ آئیے گرمیوں میں کافی پینے سے جڑی ان غلط فہمیوں کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں اور ان کی حقیقت جانتے ہیں۔
غلط فہمی نمبر 1:
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کافی میں موجود کیفین جسم سے پانی نکال دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ کیفین ہلکی پیشاب آور خاصیت رکھتی ہے، لیکن روزانہ 3 سے 4 کپ کافی پینے سے جسم میں پانی کی کمی کا خطرہ نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق، اعتدال میں کافی کا استعمال جسم کے ہائیڈریشن لیول کو متاثر نہیں کرتا۔
غلط فہمی نمبر 2:
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گرمیوں میں گرم مشروبات پینا جسم کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گرم کافی جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ پسینے کے عمل کو تحریک دیتی ہے، جو جسم کو ٹھنڈا کرنے کا قدرتی طریقہ ہے۔ تاہم، اگر ماحول میں زیادہ حبس ہو تو اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔
غلط فہمی نمبر 3:
کافی کو سردیوں کا مشروب سمجھنے کی سوچ کافی حد تک پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن گرمیوں میں آئسڈ یا کولڈ کافی نہ صرف تازگی بخشتی ہے بلکہ توانائی کی سطح کو بھی بڑھاتی ہے۔ کولڈ کافی گرمی کے دنوں میں ایک مقبول اور خوشگوار انتخاب ہے جو ذائقے کے ساتھ ساتھ چستی فراہم کرتی ہے۔
غلط فہمی نمبر 4:
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گرمیوں میں کافی کا استعمال دل کی دھڑکن یا بلڈ پریشر پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند افراد کے لیے روزانہ 2 سے 3 کپ کافی پینا کسی بھی موسم میں محفوظ ہے۔ تاہم، اگر کسی کو ہائی بلڈ پریشر یا دل سے متعلق کوئی بیماری ہے تو انہیں کیفین کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
گرمیوں میں کافی کا معتدل استعمال نہ صرف محفوظ ہے بلکہ یہ جسم کو توانائی اور تازگی بھی فراہم کر سکتا ہے۔ چاہے آپ گرم کافی کے شوقین ہوں یا کولڈ کافی کے دیوانے، اس مشروب سے لطف اندوز ہونے کے لیے موسم کی کوئی قید نہیں۔ بس اعتدال کو ملحوظ خاطر رکھیں اور اپنی صحت کے مطابق فیصلہ کریں





















