پاکستان کے عظیم بہادر سپوت اور نشانِ حیدر کے حامل کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا 26واں یومِ شہادت ملک بھر میں 5 جولائی 2025 ء (بروز ہفتہ) کو عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائیگا ۔ ملک بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا اور مساجد میں قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور دعائیں کی جائیں گی، جبکہ پاک فوج کے زیراہتمام خصوصی تقاریب میں ان کی بہادری اور وطن سے محبت کو اجاگر کیا جائے گا۔
کرنل شیر خان کی زندگی پر مختصر نظر
کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے یکم جنوری 1970 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں نواں کلی (موجودہ نام: کرنل شیر کلی) میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد خیر اللہ خان نے پاک فوج سے گہری محبت کی بنا پر اپنے بیٹے کا نام تحریکِ آزادیِ کشمیر کے مجاہد کرنل شیر خان کے نام پر رکھا تاکہ یہ نام ہمیشہ زندہ رہے۔ بچپن سے ہی کرنل شیر خان میں وطن سے محبت اور بہادری کے جوہر نمایاں تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم صوابی میں حاصل کی اور بعد میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کی صلاحیتوں اور جذبے نے انہیں نمایاں کیا۔1994 میں وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) سے کمیشن حاصل کر کے پاک فوج میں کیپٹن کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ 27ویں سندھ رجمنٹ اور بعد میں 12ویں ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور عزم نے انہیں اپنے ساتھیوں اور افسران میں مقبول بنایا۔
دشمن بھی حیران رہ گیا
1999 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کارگل جنگ چھڑ گئی جو خطہ کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں میں لڑی گئی۔ یہ جنگ پاک فوج کے لیے ایک بڑا امتحان تھی کیونکہ دشمن کی پوزیشنز بلند مقامات پر تھیں اور حالات انتہائی دشوار تھے۔ کیپٹن کرنل شیر خان اس جنگ کے دوران ٹائیگر ہل کے محاذ پر تعینات تھے جو کارگل کے اہم ترین اور مشکل ترین محاذات میں سے ایک تھا۔
28 جون 1999 کو کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنی ٹیم کے ساتھ دشمن کی مضبوط پوزیشنز پر حملہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف دشمن کے متعدد بنکروں کو تباہ کیا بلکہ اپنی حکمتِ عملی اور بہادری سے بھارتی فوج کو شدید نقصان پہنچایا۔ 5 جولائی 1999 کو ایک شدید معرکے کے دوران، وہ اپنی پلاٹون کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے گھیرے میں آ گئے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور خود دشمن سے مقابلہ کیا۔ اس معرکے میں وہ سینے پر گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی شجاعت کا اعتراف دشمن نے بھی کیا۔ بھارتی فوج کے ایک جنرل نے کرنل شیر خان کی بہادری کی تعریف کی اور ان کے جسدِ خاکی کو عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا۔ یہ واقعہ ان کی بہادری کی ایسی مثال ہے جو سرحدوں سے ماورا ہے۔
نشان حیدر
کیپٹن کرنل شیر خان کی بے مثال بہادری اور قربانی کے اعتراف میں پاکستان کی حکومت نے انہیں پاک فوج کے سب سے بڑے اعزاز ’’نشانِ حیدر‘‘ سے نوازا۔ یہ اعزاز پاکستان کے ان چند سپوتوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطن کا دفاع کیا۔ کرنل شیر خان کے علاوہ کارگل جنگ میں کیپٹن لالک جان شہید کو بھی نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
وطن سے گہرا عشق
کیپٹن کرنل شیر خان کی شہادت کے پیچھے ان کا وطن سے گہرا عشق اور فوجی فرض کے تئیں غیر متزلزل عزم کارفرما تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ پاکستان کی عزت اور سلامتی کے لیے وقف کر دیا تھا۔ کارگل کے مشکل حالات میں جب وہ جانتے تھے کہ دشمن کی تعداد اور وسائل ان سے کہیں زیادہ ہیں، تب بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کی قیادت اور حکمتِ عملی نے نہ صرف ان کے ساتھیوں کو حوصلہ دیا بلکہ دشمن کے حوصلے بھی پست کر دیے۔
قوم کا خراجِ عقیدت
ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 جولائی کو کرنل شیر خان شہید کے یومِ شہادت پر پاکستانی قوم اپنے اس عظیم ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کرے گی۔ فیصل آباد میں پاک فوج کے زیراہتمام ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں فوجی افسران، سول سوسائٹی اور طلبہ شرکت کریں گے۔ صوابی میں ان کے آبائی گاؤں کرنل شیر کلی میں ان کے مزار پر پھول چڑھائے جائیں گے اور دعائیں مانگی جائیں گی۔
کرنل شیر خان کا پیغام
کیپٹن کرنل شیر خان کی شہادت سے ہمیں سبق دیتی ہے کہ اپنے فرض کی پاسبانی ہر چیز سے مقدم ہے۔ ان کی قربانی ہر پاکستانی کے لئے باعث فخر ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔





















