اسپین میں شہری کا انوکھا احتجاج، ٹریفک پولیس پر ہزاروں شہد کی مکھیاں چھوڑ دیں

یہ غیر معمولی واقعہ کیٹیلونیا کے قصبے سرویرا کے قریب این-آئی آئی (N-II) شاہراہ پر پیش آیا

اسپین کے کیٹیلونیا صوبے میں ایک حیران کن اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب ایک 70 سالہ شہری، جو شہد کی مکھیوں کی فارمنگ سے وابستہ ہے، نے ٹریفک پولیس پر ہزاروں شہد کی مکھیوں سے حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب پولیس نے شہری کو سیٹ بیلٹ نہ پہننے اور غیر معمولی ڈرائیونگ کی وجہ سے روکا، جس پر وہ شدید غصے میں آ گیا۔

واقعہ کی تفصیلات

یہ غیر معمولی واقعہ کیٹیلونیا کے قصبے سرویرا کے قریب این-آئی آئی (N-II) شاہراہ پر پیش آیا۔ مقامی پولیس کی ایک گشتی ٹیم نے ایک وین کے ڈرائیور کو غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور سیٹ بیلٹ نہ پہننے کی وجہ سے روکا۔ جب پولیس اہلکاروں نے ڈرائیور سے رابطہ کیا تو اس نے فوری طور پر جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کہا، "میں تمہیں کچل دیتا!” اس کے بعد، پولیس کو شبہ ہوا کہ ڈرائیور نشے کی حالت میں ہے، جس پر انہوں نے اس سے بریتھلائزر ٹیسٹ لینے کا مطالبہ کیا۔ ابتدائی ٹیسٹ میں الکحل کی سطح 0.38 ملی گرام فی لیٹر پائی گئی، جو قانونی حد سے زائد ہے۔

جب پولیس نے تصدیق کے لیے دوسرا ٹیسٹ لینے کی ہدایت کی تو شہری نے شدید غصہ ظاہر کیا اور دوبارہ ٹیسٹ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بجائے، اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا، "اب میں تمہیں مار ڈالوں گا!” اس سے پہلے کہ پولیس کوئی ردعمل ظاہر کرتی، شہری نے اپنی وین کے پچھلے دروازے کھولے اور ہزاروں شہد کی مکھیوں کو آزاد کر دیا، جو فوری طور پر پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہو گئیں۔

پولیس اہلکاروں پر حملہ اور نقصان

شہد کی مکھیوں کے اچانک حملے سے پولیس اہلکار بے یار و مددگار رہ گئے۔ غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار نہ ہونے کی وجہ سے دونوں اہلکاروں کو مکھیوں کے کاٹنے سے زخمی ہونا پڑا۔ وہ فوری طور پر قریبی ریسٹورنٹ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، جہاں مقامی افراد نے ان کی ابتدائی مدد کی۔ تاہم، مکھیوں کے ڈنک سے دونوں اہلکاروں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، اور انہیں علاج کے لیے قریبی پرائمری کیئر سینٹر منتقل کیا گیا۔

شہری کی گرفتاری اور الزامات

مکھیوں کو قابو کرنے کے بعد، کیٹیلونیا کی علاقائی پولیس، موسوس ڈی ایسکادرا (Mossos d’Esquadra)، نے شہری کو گرفتار کر لیا۔ اس پر متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پولیس اہلکاروں پر حملہ، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا، اور سیٹ بیلٹ نہ پہننے کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ گرفتاری کے بعد شہری کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا، لیکن اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

واقعے کی انفرادیت اور عالمی توجہ

یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور حیران کن واقعہ ہے، جس نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق پوسٹس وائرل ہو رہی ہیں، جہاں کچھ صارفین نے اسے ایک "فلم جیسا منظر” قرار دیا، جبکہ دیگر نے شہری کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی مذمت کی۔ کیٹیلونیا پولیس نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور ایسی خطرناک حرکتوں سے گریز کریں۔

کیٹیلونیا میں ٹریفک قوانین

کیٹیلونیا سمیت اسپین میں ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، جس کی سزا میں جرمانے سے لے کر قید تک شامل ہو سکتی ہے۔ اس واقعے نے مقامی حکام کو ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے لیے مزید چوکنا کر دیا ہے۔

اس غیر معمولی واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے تیاری کی ضرورت کو۔ شہد کی مکھیوں جیسے غیر روایتی "ہتھیار” کا استعمال پولیس کے لیے ایک نئی قسم کا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت اور وسائل کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ فی الحال، زخمی اہلکاروں کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں، جبکہ شہری کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف کیٹیلونیا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سبق ہے کہ غصے اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین