مئی 2025ء، پھلوں کی برآمدات میں نمایاں کمی

مئی 2025 میں پھلوں کی برآمدات کی مالیت 3.6 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال مئی کے مقابلے میں 2.1 ارب روپے کم ہے

پاکستان اپنے اعلیٰ معیار کے پھلوں کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے اور بڑی تعداد میں ان کو برآمد بھی کرتا ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں پھلوں کی برآمدات کی مالیت 3.6 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال مئی 2024 کے مقابلے میں 2.1 ارب روپے یا 36.84 فیصد کم ہے۔ مئی 2024 میں پھلوں کی برآمدات کا حجم 5.7 ارب روپے تھا۔

پاکستان کی عالمی پھل برآمدات میں پوزیشن

عالمی زرعی تنظیم (FAO) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا کے سب سے بڑے آم برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کا عالمی درجہ بندی میں 5واں سے 7واں نمبر آتا ہے جو کہ سالانہ پیداوار اور برآمدات کے حجم پر منحصر ہوتا ہے۔ کینو کی برآمدات میں بھی پاکستان دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپی منڈیوں میں۔ تاہم حالیہ اعداد و شمار کی عدم دستیابی کی وجہ سے مئی 2025 کے لیے درست عالمی رینکنگ دینا مشکل ہے لیکن عمومی طور پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط رہی ہے۔

پھلوں کی برآمدات بڑھانے کے طریقے

پھلوں کی برآمدات میں اضافہ پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، اور اس مقصد کے لیے کئی عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، معیار کی بہتری پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ عالمی منڈیوں، خاص طور پر یورپی یونین جیسے سخت معیار رکھنے والے خطوں میں برآمدات کے لیے کیڑے مار ادویات کی باقیات (MRL) کی حدوں کی پابندی لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلوبل گیپ (GlobalGAP) جیسے بین الاقوامی سرٹیفیکیٹس کا حصول پاکستانی پھلوں کی عالمی قبولیت کو بڑھا سکتا ہے۔ جدید کاشتکاری کے طریقے، جیسے ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن اور ڈرپ ایریگیشن، نہ صرف پیداوار بڑھاتے ہیں بلکہ معیار میں بھی بہتری لاتے ہیں۔
دوسری اہم ضرورت کولڈ چین اور لاجسٹکس کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ کولڈ اسٹوریج کی جدید سہولیات پھلوں کی شیلف لائف کو بڑھاتی ہیں اور ضیاع کم کرتی ہیں، جبکہ بندرگاہوں پر تیز رفتار کلیئرنس اور براہ راست پروازوں کی دستیابی سے ترسیل میں تاخیر کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستانی پھلوں کی برانڈنگ جیسے "پاکستان مینگو” یا "پاکستان کنو” کو عالمی سطح پر فروغ دے کر ان کی پہچان میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسی نئی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے نئے خریداروں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
حکومتی اقدامات بھی اس شعبے کی ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کسانوں کو بیج، کھاد اور زرعی مشینری پر سبسڈی دینا، ایکسپورٹ پالیسی میں ٹیکس مراعات دینا اور آسان قرضے فراہم کرنا برآمدات کے فروغ میں مددگار ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کسانوں کے لیے تربیتی پروگرامز کا انعقاد، جن میں جدید کاشتکاری کے طریقے اور عالمی معیارات کی تربیت دی جائے، زرعی پیداواری نظام کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی نئی اقسام کی تیاری اور زرعی تحقیقاتی اداروں و زرعی یونیورسٹیوں کے تعاون سے پیداوار بڑھانے کی نئی تکنیکیں متعارف کرانے سے پاکستان پھلوں کی پیداوار اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتا ہے۔ ان تمام اقدامات کے امتزاج سے پاکستان دنیا بھر میں اپنے پھلوں کی برآمدات میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔

مئی 2025 میں پھلوں کی برآمدات میں 36.84 فیصد کمی پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے ایک تشویشناک رجحان ہے۔ تاہم، معیار کی بہتری، لاجسٹکس کی مضبوطی، نئی منڈیوں کی تلاش، اور حکومتی تعاون سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اپنی مضبوط زرعی صلاحیت اور عالمی منڈیوں میں پھلوں کی مانگ کو بروئے کار لا کر نہ صرف اپنی برآمدات کو بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی درجہ بندی میں بھی اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین