بھارت نے 148 سالہ ٹیسٹ کرکٹ کا شرمناک ریکارڈ اپنے نام کرلیا

یہ شکست بھارت کے لیے حالیہ ٹیسٹ سیریز میں ناکامیوں کا تسلسل ہے

بھارتی کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف لیڈز کے ہیڈنگلے گراؤنڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کی 148 سالہ تاریخ کا ایک ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ٹیم ایک ٹیسٹ میچ میں پانچ سنچریاں بنانے کے باوجود میچ ہار گئی۔ اس شکست نے بھارتی ٹیم کے لیے نہ صرف سیریز میں 0-1 کی پیچھے رہ جانے کی صورتحال پیدا کی بلکہ اس کی بولنگ اور حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

میچ کا سنسنی خیز اختتام

ہیڈنگلے میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ کے پانچویں روز انگلینڈ نے 371 رنز کے مشکل ہدف کو صرف 82 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ انگلینڈ کے اوپنر بین ڈکٹ نے 149 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ جو روٹ 53 اور جیمی اسمتھ 44 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کی اس فتح نے نہ صرف انہیں سیریز میں برتری دلا دی بلکہ بھارت کے لیے ایک تاریخی شرمندگی کا باعث بنی۔

بھارت کی بیٹنگ کا شاندار مظاہرہ

بھارت نے پہلی اننگز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 471 رنز کا مضبوط مجموعہ بنایا۔ اس اننگز میں اوپنر یشسوی جیسوال نے 159 گیندوں پر 101 رنز بنائے، جن میں 16 چوکے شامل تھے۔ کپتان شبمن گل نے 227 گیندوں پر 147 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 19 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ وکٹ کیپر بیٹر رشبھ پنت نے 178 گیندوں پر 134 رنز بنائے، جن میں 12 چوکوں اور چھ چھکوں کی بدولت اننگز کو مزید مستحکم کیا۔

دوسری اننگز میں بھی بھارت کی بیٹنگ نے شاندار تسلسل دکھایا۔ رشبھ پنت نے ایک بار پھر اپنی جارحانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے 140 گیندوں پر 118 رنز بنائے، جس میں 15 چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔ کے ایل راہول نے 247 گیندوں پر 137 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جس نے بھارت کو 370 رنز کی برتری حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس طرح بھارت نے دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 835 رنز بنائے، لیکن یہ مجموعہ میچ جیتنے کے لیے کافی نہ تھا۔

تاریخی ناپسندیدہ ریکارڈ

ٹیسٹ کرکٹ کی 148 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے ایک میچ میں پانچ سنچریاں بنائیں اور پھر بھی شکست سے دوچار ہوئی۔ اس سے قبل 1928-29 کے ایشز سیریز میں آسٹریلیا نے میلبرن میں انگلینڈ کے خلاف چار سنچریوں کے باوجود میچ گنوایا تھا، جو اس قسم کا سب سے بڑا ریکارڈ تھا۔ اس ریکارڈ کو توڑنے میں بھارت نے تقریباً 96 سال بعد ایک نئی تاریخ رقم کی، لیکن یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے کوئی ٹیم اپنے نام نہیں کرنا چاہے گی۔

رشبھ پنت کی تاریخی کارکردگی

رشبھ پنت اس میچ کے سب سے نمایاں کھلاڑی رہے، جنہوں نے دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلے بھارتی وکٹ کیپر بن گئے جنہوں نے ایک ہی میچ میں دو سنچریاں بنائیں۔ اس سے قبل صرف ایڈن فلاؤر (زمبابوے) نے یہ کارنامہ 2001 میں انجام دیا تھا۔ پنت اس فہرست میں شامل ہونے والے ساتویں کھلاڑی ہیں جنہوں نے انگلینڈ میں کسی ٹیسٹ میچ میں دونوں اننگز میں سنچریاں بنائیں۔

بھارت کی بولنگ اور فیلڈنگ کی ناکامی

بھارت کی اس شکست کی سب سے بڑی وجہ ان کی بولنگ اور فیلڈنگ میں ناکامی رہی۔ میچ میں بھارت نے چھ کیچز ڈراپ کیے، جن میں سے کئی اہم مواقع پر انگلینڈ کے بیٹرز کو زندگی ملی۔ خاص طور پر بین ڈکٹ کا ایک کیچ چھوٹنا مہنگا ثابت ہوا، جنہوں نے بعد میں میچ کی سمت بدل دی۔ بھارتی بولرز، جن میں جسپریت بمراہ، پراسدھ کرشنا، اور رویندر جڈیجہ شامل تھے، انگلینڈ کے بیٹرز کو روکنے میں ناکام رہے۔ پراسدھ کرشنا اور شاردل ٹھاکر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جڈیجہ نے ایک وکٹ لی، لیکن مجموعی طور پر بھارتی بولنگ انگلینڈ کے جارحانہ ’بیزبال‘ انداز کے سامنے بے بس دکھائی دی۔

شبمن گل کی کپتانی پر سوالات

اس میچ میں شبمن گل نے اپنی کپتانی کے پہلے ٹیسٹ میں قیادت کی، لیکن ان کے فیصلوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے تجربہ کار جسپریت بمراہ کو نظر انداز کرتے ہوئے گل کو کپتان بنانے کا فیصلہ کیا تھا، جو میچ کے بعد تنقید کی زد میں ہے۔ گل نے میچ کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ چوتھے روز 430 سے 435 رنز کی برتری کے ساتھ اننگز ڈکلیئر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن ٹیم اس ہدف تک نہ پہنچ سکی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بولنگ میں بہتری کی ضرورت ہے، لیکن ان کا خیال تھا کہ ٹیم نے بیٹنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

انگلینڈ کی جارحانہ حکمت عملی

انگلینڈ کی فتح میں ان کے ’بیزبال‘ انداز نے کلیدی کردار ادا کیا، جو کپتان بین سٹوکس اور کوچ برینڈن میک کینم کی قیادت میں تیار کیا گیا ہے۔ انگلینڈ نے 371 رنز کا ہدف صرف 82 اوورز میں حاصل کر لیا، جو انگلینڈ کی سرزمین پر دوسرا سب سے بڑا رن چیس ہے۔ 1948 میں انگلینڈ نے اسی گراؤنڈ پر 404 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ بین ڈکٹ کو ان کی شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، لیکن پنت کی دونوں اننگز میں سنچریوں نے بھی خوب سرخیاں بٹوریں۔

تاریخی تناظر اور بھارت کی موجودہ صورتحال

یہ شکست بھارت کے لیے حالیہ ٹیسٹ سیریز میں ناکامیوں کا تسلسل ہے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہارنے کے بعد بھارت نے اپنے آخری نو ٹیسٹ میچوں میں سے سات میں شکست کھائی ہے۔ یہ ناکامی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (2025-27) کے نئے سائیکل کے آغاز میں بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ٹیم اب انگلینڈ کے خلاف اگلے چار میچوں میں کم بیک کرنے کی کوشش کرے گی، لیکن بولنگ یونٹ کی کمزوری اور فیلڈنگ کی خامیوں نے شائقین اور تجزیہ کاروں کو فکر مند کر دیا ہے۔

بھارت کی اس تاریخی شکست نے ٹیسٹ کرکٹ کی غیر یقینی نوعیت کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ پانچ سنچریوں کے باوجود میچ ہارنا نہ صرف ایک ناپسندیدہ ریکارڈ ہے بلکہ یہ ٹیم کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ کرکٹ میں بیٹنگ کے ساتھ بولنگ اور فیلڈنگ کی ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ رشبھ پنت کی شاندار کارکردگی اور دیگر بیٹرز کی سنچریوں کے باوجود بھارت کی یہ شکست شائقین کے لیے ایک تکلیف دہ لمحہ ہے۔ اب تمام نظریں سیریز کے اگلے میچ پر ہیں، جہاں شبمن گل کی قیادت میں بھارت ایک مضبوط واپسی کی کوشش کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین