فارمی جانوروں کے حقوق پر پاکستان میں پہلی کانفرنس،اعلامیہ جاری

اعلامیہ میں فارمی جانوروں کے ساتھ نرمی اور رحم کو مذہبی، اخلاقی، قانونی، اور ماحولیاتی ذمہ داری قرار دیا گیا

پاکستان میں فارمی جانوروں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ زرعی معاشرے ہونے کے باوجود، جانوروں کے ساتھ سلوک، ان کی رہائش، خوراک، اور ذبح کے طریقوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اینیمل رائٹس ایڈووکیسی گروپ نے لاہور میں پہلی فارم اینیمل ویلفیئر کانفرنس کا اہتمام کیا، جس کا مقصد جانوروں کے حقوق کو مذہبی، اخلاقی، قانونی، اور ماحولیاتی نقطہ نظر سے اجاگر کرنا تھا۔

کانفرنس کا انعقاد اور اعلامیہ

لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی اس ایک روزہ کانفرنس کا اہتمام پاکستان اینیمل رائٹس ایڈووکیسی گروپ نے کیا۔ کانفرنس کے اعلامیے میں فارمی جانوروں کے ساتھ نرمی اور رحم کو مذہبی، اخلاقی، قانونی، اور ماحولیاتی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ قومی پالیسیاں اور قانون سازی کو اسلامی تعلیمات، سائنسی تحقیق، اور بین الاقوامی اداروں کی سفارشات کے مطابق تشکیل دیا جائے تاکہ جانوروں کی فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔

ممتاز شخصیات کے خطابات

کانفرنس سے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان اور ڈاکٹر محمد ارشد نے خصوصی خطاب کیا۔ دیگر مقررین میں ممتاز اسلامی اسکالر مفتی سید عدیل، ماہر ماحولیات ڈاکٹر ماہ نور فاطمہ، معروف ویٹرنری ماہر ڈاکٹر زاہد محمود، جانوروں کے حقوق کی وکیل عظمیٰ قریشی، اور کسان اتحاد کے نمائندہ چوہدری نعیم شامل تھے۔ مقررین نے جانوروں کی فلاح کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، بشمول ان کی رہائش، خوراک، صحت، اور ذبح کے انسانی طریقوں کی اہمیت۔

موجودہ چیلنجز اور تشویش

کانفرنس کے اعلامیے میں پاکستان میں جانوروں سے متعلق قوانین کے پرانے ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے نشاندہی کی کہ جانوروں کو پالنے، رکھنے، اور ذبح کرنے کے طریقوں میں جدید سائنسی اور اخلاقی معیارات کے مطابق بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، کسانوں اور ذبیحہ خانوں کے عملے کو تربیت کی شدید کمی کا سامنا ہے، جو جانوروں کی فلاح کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ جانوروں کے ساتھ نرم رویہ نہ صرف ایک اخلاقی تقاضا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ایک قانونی ذمہ داری بھی ہے۔

مباحثے اور تجاویز

کانفرنس کے دوران ہونے والے مباحثوں میں کئی اہم موضوعات زیر غور آئے، جن میں موجودہ قوانین پر نظرثانی، جانوروں کے لیے بہتر خوراک اور رہائش کے انتظامات، اسلامی اصولوں کے مطابق ذبح کے طریقے، شہد کی مکھیوں اور مقامی پودوں کے تحفظ، اور کسانوں کے لیے عملی تربیت شامل تھے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ جانوروں کی فلاح کے لیے ایک جامع قومی پالیسی بنائی جائے جو سائنسی، مذہبی، اور ماحولیاتی اصولوں پر مبنی ہو۔

ایڈووکیسی گروپ کا عزم

پاکستان اینیمل رائٹس ایڈووکیسی گروپ کی چیئرپرسن عائزہ حیدر نے کہا کہ یہ کانفرنس جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی سوچ کا آغاز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جانوروں کو صرف معاشی فائدے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے ان کے ساتھ ہمدردی اور نرمی کو معاشرے کی عظمت کی علامت بنایا جائے۔ عائزہ حیدر نے کہا کہ گروپ اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرے گا اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

مستقبل کی راہ

کانفرنس نے پاکستان میں فارمی جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئے عزم کا اظہار کیا۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ جانوروں کی فلاح کے لیے قانون سازی، تربیت، اور عوامی آگاہی کے پروگراموں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس نہ صرف جانوروں کے حقوق کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوئی بلکہ اس نے معاشرے کے تمام طبقات کو اس اہم ایشو پر متحد کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین