
مذہبی سکالر علامہ عین الحق بغدادی
ایمان الوہی حقائق و معارف کو صدق دل سے جاننے اور ماننے کا نام ہے۔ جب تسلیم و قبولیت اپنے درجۂ کمال کو پہنچتی ہے تو یقین کی منزل حاصل ہوتی ہے۔ درحقیقت اہلِ یقین ہی حقیقی ایمان والے کہلانے کے حقدار ہوتے ہیں۔ یقین کے درجے پر فائز شخص کو اُس مقام کی حفاظت کے لئے بہت سی مشکلات و مصائب اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لرزہ دینے والے حالات میں ڈٹے رہنا استقامت کہلاتا ہے، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حق کا راستہ بہت کٹھن ہوتا ہے اور قدم قدم پر اہلِ حق کو دل میں اتر جانے والے کانٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ خار ہی اہلِ حق کا امتحان ہوا کرتے ہیں۔ تاریخ انسانی بتاتی ہے حق کے راستے پر چلنے والوں نے اپنے اپنے انداز میں کڑے امتحانوں اور آزمائشوں کا سامنا کیا، کسی داعیٔ توحیدِ ربانی کو آگ کے دریا میں اترنا پڑااور رفیقہ حیات کو بے آب و گیاہ دشت میں بے یار و مددگار چھوڑنا پڑا، کسی کے حصے میں صلیب اور سولی آئی ، کسی حق پرست کو آرے سے کٹنا پڑا کسی کو بیماری، ضعف میں صبر کا کوہ گراں بننا پڑااور محبوب فرزند کی جدائی میں سجدہ شکر بجا لانے کا اذن ملا، کسی کو مچھلی کے پیٹ میں کلمہ اعلائے حق کا ورد کرنا پڑااور کسی صاحبِ نبوت کو طائف کی وادیوں میں پتھروں کی بارش میں صبر وشکر کا مسافر بننا پڑا اور کسی صاحبِ استقامت کو غریب الوطنی کے عالم میں 3دن بھوک، پیاس کے ساتھ شہید کربلا بننا پڑا ۔دراصل ایمان، یقین اور استقامت کی تکون ہی دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی و سرفرازی کا زینہ اور اہل حق کا وطیرہ ہے ۔
باطل کے بہروپ
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ روزِ اول ہی سے حق باطل کے سامنے ڈٹا رہا ہے جبکہ باطل مصلحت کی چادر اوڑھ کر آئے روز نئے نئے روپ بدلتا رہا ہے، اس باطلانہ روش کی ابتداء ابلیس سے ہوئی، اس لعین نے دنیا میں آ کر مختلف بھیس بدلے، وہ کبھی قابیل بنا تو کبھی نمرود، کبھی شداد کا روپ دھارا تو کبھی فرعون کا، کبھی ابولہب اور ابوجہل کے لبادے میں دکھائی دیا تو کبھی یزید، ابن زیاد اور شمر لعین کی صورت میں دکھائی دیا۔ باطل تو وقت کے ساتھ ساتھ بھیس بدلتا رہا ہے مگر حق ہمیشہ سے ایک تھا، ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ حکیم الامت کہتے ہیں
حقیقتِ اَبدی ہے مقامِ شبیّری
بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی
قرآن اور عترت مصطفی ﷺ
حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے قیامت تک کے اُمتیوں کو ایمان کی سلامتی کا ایک راز عطا فرمایا کہ قرآن اور میری عترت کو تھامے رکھنا یہ کبھی حق کے راستے سے نہ ہٹیں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر دونوں اکٹھے ملیں گے اور آپ ﷺ نے فرمایا میری عترت میرے اہل بیت ہیں۔ جیسا کہ سطور بالا میں بیان کیا گیا کہ سچ اور جھوٹ، حق اور باطل کی لڑائی ابد تک رہے گی۔ پیغمبرانِ خدا نے اپنے اپنے کے یزیدوں،فرعونوں اور شمروں کے ساتھ معرکہ آرائی کی اور بالآخر حق سربلند ہوا اور باطل نیست و نابود ہوا۔ حق و باطل کا ایک زندہ و جاوید ہو جانے والا معرکہ 61ھ میں رونما ہوا جب یزید ملعون تخت پر بیٹھا تو اُس نے حقیقی وارثانِ نبوت کی شان میں نہ صرف گستاخیوں کا آغاز کیا بلکہ دینِ متین کی بنیادوں کے خلاف اپنی ریاستی طاقت کا کھلم کھلا استعمال شروع کر دیا۔ تاریخ کی کُتب یزید کے کفریہ اقدامات سے بھری پڑی ہے، وہ ہر جگہ دین کی بنیادوں کا استہزا کرتا نظر آتا ہے، اگر ملعون یزید کے دل میں دینِ مصطفی ﷺ کا احترام ہوتا تو وہ کبھی بھی وارثانِ مصطفی ﷺ پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کے گھنائونے فعل کا مرتکب نہ ہوتا اور نہ ہی واقعہ کربلا تاریخ کی کتابوں میں لہو رنگ بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رقم ہوتا۔
اہل کوفہ کے خطوط
حضرت امام حسین ؑ کو اہل کوفہ کی طرف سے ہزار ہا خطوط کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ یزید اسلام کی بنیادوں کے خلاف صف آراء ہو چکا ہے۔ مسلمہ فرائض و عقائد کو مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ان خطوط کی روشنی میں بغرض اعلائے کلمہ حق حضرت امام حسین ؑ اپنے افراد خانہ کے ہمراہ کوفہ آئے مگر خط لکھنے والے یزیدی سلطنت کے عمائدین کے ظلم و ستم اور بربریت کے ڈر سے مہر بہ لب ہو گئے۔ وہ اپنے موقف پر قائم نہ رہ سکے لیکن امام عالی مقام ؑنے اپنے خانوادہ کے ہمراہ سفر اختیار کر کے یہ ثابت کیا کہ جب اسلام کی بنیادیں ہلائی جانے کی گواہیاں مل رہی ہوں تو پھر اہل حق اس پر خاموش نہیں رہ سکتے، جب اسلام کے ستونوں کو گرانے کی کوششیں ہو رہی ہوں تو پھر حجروں اور مساجد کے صحنوں میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت اور التجا و مناجات کافی نہیں ہوتیں، ان حالات میں کفر کو چیلنج کرنا واجب ہو جاتا ہے۔
یزید کا براہ راست ملوث ہونا
یزیدی سلطنت کا چپہ چپہ یزید کے احکامات کے تابع تھا۔ سلطنت میں کوئی پتہ بھی اس کے احکامات کے بغیر جنبش نہیں کرتا تھا، خلافت مکمل طور پر ملوکیت میں تبدیل ہوچکی تھی، یزیدی فوج کے سالاروں کو علم تھا کہ سیدنا امام حسین ؑ کس ہستی کا نام ہے، وہ کوئی گمنام یا نامعلوم قافلہ نہ تھا، سب جانتے تھے اس قافلہ کی مقدس نسبت کس کے ساتھ ہے اس کے باوجود قافلہ حق کے ساتھ جو شرمناک برتائو ہوا وہ محض اتفاق نہ تھا بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھا۔ اہل بیت اطہار کے بارے میں یزیدی دربار میں جس قسم کے تبصرے ہوتے تھے یا جس خبث باطن کا اظہار کیا جاتا تھا وہ سب یزید کی افواج کے افسران، بیوروکریسی کے علم میں تھا اور ہر یزیدی شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کی کوشش میں ہوتا تھا، یزید کا بغضِ اہل بیت چھپا یا ڈھکا ہوا نہیں تھا، یزید کے براہ راست ملوث ہونے کا سب سے بڑا ثبوت شہادت امام حسینؑ کے بعد قافلہ حق کے مسافروں کے ساتھ یزیدی دربار میں ہونے والا سلوک ہے، کس طرح خانوادہ رسول کے باغ کے پھولوں کو پا بہ زنجیر کر کے دربار میں لایا گیا اور پھر جو ہتک آمیز مکالمہ ہوا وہ سب تاریخ کے اوراق کا حصہ ہے ۔واقعہ کربلا کے بعد بھی یزیدی افواج نے شہر مدینہ کو جس طرح تاراج کیا، مسجد نبویؐ کی بے حرمتی کی، خانہ کعبہ کے غلاف کو آگ لگائی، مسجد نبوی میں گھوڑے دوڑائے، مسجد نبوی میں اذان اور باجماعت نماز کی ادائیگی کا سلسلہ معطل ہوا، اصحاب رسول کا قتل عام ہوا، شہر نبوی کی مستورات کی جو بے حرمتی کی گئی یہ سارے واقعات یزید کے بغضِ اہلِ بیت بلکہ اہل بیت سے اعلانیہ دشمنی کے گواہ ہیں اور یہ سارے واقعات کتبِ احادیث اور تاریخ کی مستند اور معروف کتب میں مذکور و محفوظ ہیں۔
امام عالیٰ مقامؑ حق پر تھے
کون حق پر تھا اور کون نہیں یہ سوچ ہی کفر یہ ہے، اس سے بچیں۔ اہل بیت حق پر تھے اور یزید مردود اور اس کے مصاحبین دجل اور باطل پر تھے، جب حضور نبی اکرم ﷺ نے ببانگ دہل فرما دیا کہ قرآن اور میرے اہل بیت کبھی حق سے نہیں ہٹیں گے اور دونوں اکٹھے مجھے حوض کوثر پر ملیں گے تو پھر یہ بحث کرنا کون حق پر تھا کون غلطی پر تھا ، یا یہ کہنا کہ اللہ بہتر جانتا ہے، یہ سوچ اس دل اور دماغ میں ہی گھر کر سکتی ہے جس دل اور دماغ میں بغض اہل بیت ، بغض اسلام ، بغض خدا اور بغض رسول ہو گا۔
پیمانۂ حق کے 3 اصول
واقعہ کربلا سے اسلام کو ایک نئی زندگی ملی ۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے نہایت خوبصورت بات کرتے ہیں یزید طاقت کو حق سمجھتا تھا جبکہ امام عالی مقام نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے قیامت تک کے انسانوں کو بتایا کہ نہیں حق طاقت ہے۔ طاقت کو تو زوال آسکتا ہے مگر حق لازوال ہے۔ محرم الحرام اور واقعہ کربلا کااخلاقی سبق یہ ہے کہ جب آپ اپنے اطراف و اکناف میں ظلم و بربریت دیکھیں، بداخلاقی، بدکردار ی دیکھیں، کمزور اور طاقتور کے درمیان مکالمہ یا مقابلہ دیکھیں تو ہمیشہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دیں ، طاقتور کے مقابلے میں کمزور کا ساتھ دیں اور آپ ظلم کے خلاف جس قدر مزاحمت کر سکتے ہیں وہ لازم کریں، شریعت محمدیﷺ نے اس کے 3 اصول بتائے ہیں، ہاتھ سے روکو، اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے روکو، اگر اس کی بھی سکت نہیں ہے تو کم از کم دل میں برائی کو برا ضرور جانیں یہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔ جو لوگ واقعہ کربلا کے ضمن میں حق و باطل کی لڑائی میں ان 3 اصولوں میں کہیں کھڑے نظر نہیں آتے تو وہ اپنے ایمان کی فکر کریں ۔
اعتدال و رواداری شرط اول
محرم الحرام کے دوران فضائل اہل بیت اور مصائب اہل بیت بیان کرنے والے بسا اوقات عقیدت و جذبات میں اس حدتک آگے نکل جاتے ہیں جہاں ظلم اور تشدد شروع ہو جاتا ہے، یہ رویہ حسینی فکر کے برخلاف ہے، اس جھگڑے نے ہم سے نہایت قیمتی علماء چھین لئے، اُنہیں شہید کردیا گیا۔ کروڑوں کی املاک تباہ و بربادہو چکی ہیں۔ دشمن مسلکی فسادات کروا کر اپنے مفادات حاصل کرتا ہے، سوشل میڈیا کو آج کل باقاعدہ ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، مسلکی اختلافات ابھار کر نوجوانوں کو منتشر اور بین المسالک ہم آہنگی کی فضا کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، اس سے بچیں۔ فکر حسین ؑ کے حقیقی پیروکار کبھی بھی تشدد پسند نہیں ہو سکتے۔محرم الحرام کے مہینے میں صبر، شکر اور استقامت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔





















