جنگ بندی کے بعد ایران پر امریکی پابندیاں ختم ہونے اور اربوں ڈالر امداد ملنے کا امکان

ہم پرامید ہیں کہ ایک پائیدار امن معاہدہ طے پا سکتا ہے،اسٹیو وٹکاف

واشنگٹن: ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ سیزفائر کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے ہفتے ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات متوقع ہیں، جس میں ایک اہم معاہدے کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فوج کے حالیہ حملوں کے بعد سفارتی رابطوں میں تیزی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کو پرامن جوہری توانائی کے پروگرام کے لیے 20 سے 30 ارب ڈالر کی مالی امداد اور پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات زیرِ غور ہیں۔

ٹرمپ کا نیٹو اجلاس میں اہم اعلان

نیٹو کے سربراہی اجلاس کے دوران ہیگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ اگلے ہفتے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم ایران سے بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور شاید ہم کوئی معاہدہ طے کر لیں۔ کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن اگر کوئی ٹھوس دستاویز سامنے آتی ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہوگی۔” ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکی فوج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، جنہیں پینٹاگون نے ایک کامیاب آپریشن قرار دیا۔

سفارتی رابطوں میں تیزی

امریکی مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے رواں ہفتے کہا کہ ایران کے ساتھ ابتدائی رابطوں نے حوصلہ افزا اشارے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم پرامید ہیں کہ ایک پائیدار امن معاہدہ طے پا سکتا ہے، جو ایران کو عالمی برادری میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔” وٹکاف کے مطابق، مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کو ایک غیر افزودہ (non-enriched) سول جوہری پروگرام کی طرف راغب کرنا ہے، جو پرامن توانائی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو۔

وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان مذاکرات کی جگہ یا شرکا کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ تاہم، سینئر امریکی اہلکار کرولین لیویٹ نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے کا بنیادی ہدف ایران کو ایسی جوہری صلاحیت سے روکنا ہے جو ہتھیاروں کی تیاری کا باعث بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد تک محدود ہونا چاہیے، اور اس کے لیے یورینیم کی افزودگی پر مکمل پابندی ایک غیر مذاکراتی شرط ہے۔

مالی امداد اور پابندیوں میں نرمی کی تجویز

امریکی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو 20 سے 30 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ رقم براہِ راست امریکی فنڈز سے نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے امریکی اتحادی ممالک، جیسے کہ قطر، سعودی عرب، یا متحدہ عرب امارات، کی جانب سے دی جا سکتی ہے۔ اس امداد کا مقصد ایران کے پرامن جوہری توانائی کے پروگرام کی تعمیر نو اور ترقی میں مدد فراہم کرنا ہے، جس میں فردو جوہری تنصیب کو سول استعمال کے لیے دوبارہ تیار کرنے کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

مزید برآں، ایران کو اس کے 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے اور موجودہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔ یہ اثاثے، جو مختلف ممالک میں منجمد ہیں، ایران کی معیشت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جو برسوں سے پابندیوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا بیان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سی بی ایس کے پروگرام "فیس دی نیشن” میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ "اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں، تو ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔” روبیو نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام آج اس حالت میں نہیں ہے جو ایک ہفتہ قبل تھی، اور یہ کہ صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت نے ایران کی جوہری صلاحیت کو نمایاں طور پر کمزور کیا ہے۔

روبیو نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران سفارتی راستہ اپناتا ہے، تو اسے عالمی برادری کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوسرا راستہ چنا، تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

حالیہ تنازع اور سیزفائر کا پس منظر

یہ پیش رفت ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ شدید تصادم کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے دوران امریکی فوج نے ایران کی جوہری تنصیبات، بشمول فردو، نطنز، اور اصفہان، پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ ان حملوں کو صدر ٹرمپ نے "کامیاب” قرار دیا، حالانکہ ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ان حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت صرف چند ماہ کے لیے متاثر ہوئی۔

اس تنازع کے بعد قطر کی ثالثی میں ایک نازک سیزفائر معاہدہ طے پایا، جسے دونوں فریقین نے قبول کیا، لیکن دونوں نے ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔ سیزفائر کے بعد سفارتی رابطوں میں تیزی آئی، اور اب امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک طویل مدتی معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ایران کا موقف اور چیلنجز

ایران نے ابھی تک ان مذاکرات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ انہیں اگلے ہفتے کے مذاکرات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اور مذاکرات کے شیڈول کی تفصیلات ابھی طے کی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے ماضی میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق کو تسلیم کرنے اور پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار کئی عوامل پر ہے، جن میں ایران کی یورینیم افزودگی پر مکمل پابندی، بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں (IAEA) کو مکمل رسائی، اور ایران کی علاقائی سرگرمیوں پر پابندی جیسے نکات شامل ہیں۔ تاہم، ایران کے لیے ان شرائط کو قبول کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ وہ اپنی خودمختاری اور جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی سے جوڑتا ہے۔

معاشی اور سفارتی امکانات

اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو ایران کی معیشت، جو برسوں سے پابندیوں کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے، کو نمایاں ریلیف مل سکتا ہے۔ 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی ایران کی معاشی بحالی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل دونوں کے پاس امن کے ذریعے ترقی اور خوشحالی حاصل کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا، "دونوں ممالک کے پاس بہت کچھ جیتنے کے لیے ہے، لیکن اگر وہ غلط راستہ چنتے ہیں تو بہت کچھ کھو سکتے ہیں۔”

ایران اور امریکہ کے درمیان اگلے ہفتے متوقع مذاکرات عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف ایران کی معیشت کو بحال کرنے کا موقع ملے گا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل مدتی امن کا امکان بھی پیدا ہوگا۔ تاہم، دونوں فریقین کے درمیان گہرے عدم اعتماد اور پیچیدہ شرائط کی موجودگی میں یہ مذاکرات ایک چیلنج ہوں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے الفاظ میں، "اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔” یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ایران سفارت کاری کا راستہ اپناتا ہے یا خطے میں کشیدگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین