ای سگریٹ سے متعلق ماہرین کی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف

یہ تحقیق جرنل اے سی ایس سینٹرل سائنس میں شائع ہوئی ہے

ایک تازہ اور چونکا دینے والی تحقیق نے ڈسپوزایبل ای سیگریٹس کے استعمال کے سنگین خطرات کو بے نقاب کیا ہے، جو خاص طور پر نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس کے ماہرین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ای سیگریٹس روایتی تمباکو سیگریٹس کے مقابلے میں زیادہ زہریلی دھاتیں خارج کرتی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہیں۔ یہ تحقیق جرنل اے سی ایس سینٹرل سائنس میں شائع ہوئی ہے اور اس نے صحت عامہ کے ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

تحقیق کے اہم انکشافات

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس کے محققین نے ڈسپوزایبل ای سیگریٹس کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ یہ آلات چند سو کش (puffs) کے دوران روایتی سیگریٹس سے کہیں زیادہ زہریلی دھاتیں، جیسے کہ سیسہ (lead) اور اینٹیمونی (antimony)، انسانی جسم میں منتقل کرتی ہیں۔ تحقیق میں شامل ایک ای سیگریٹ سے خارج ہونے والا سیسہ ایک دن میں روایتی سیگریٹ کے ایک پیکٹ (تقریباً 20 سیگریٹس) سے بھی زیادہ پایا گیا۔

سیسہ ایک خطرناک دھات ہے جو بالغ افراد میں تولیدی مسائل، ہائی بلڈ پریشر، ہائپرٹینشن، اعصابی عوارض، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، اور یادداشت و توجہ کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ بچوں کے لیے اس کے اثرات اور بھی سنگین ہیں، جن میں نشوونما میں سستی، سر درد، سیکھنے کی صلاحیت میں کمی، رویوں کے مسائل، ذہنی استعداد میں کمی، اور دماغی و اعصابی نظام کی خرابی شامل ہیں۔

تحقیق کے سینئر مصنف اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے اسسٹنٹ پروفیسر بریٹ پاؤلن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مطالعہ ڈسپوزایبل ای سیگریٹس میں چھپے سنگین خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان آلات سے خارج ہونے والی زہریلی دھاتیں، جیسے کہ سیسہ اور کارسینوجینک اینٹیمونی، نہ صرف دیگر ای سیگریٹس کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں بلکہ بعض صورتوں میں روایتی سیگریٹس سے بھی بدتر ہیں۔”

ای سیگریٹس کی مقبولیت اور خطرات

ڈسپوزایبل ای سیگریٹس، جو اپنی سہولت اور مختلف ذائقوں کی وجہ سے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، صحت کے حوالے سے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بن رہی ہیں۔ یہ آلات عام طور پر ایک بار استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان میں نیکوتین کے ساتھ ساتھ دیگر کیمیکلز اور دھاتیں شامل ہوتی ہیں جو بخارات (vapors) کی شکل میں جسم میں داخل ہوتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ای سیگریٹس کو "روایتی سیگریٹس کا محفوظ متبادل” سمجھنے کی عمومی سوچ درست نہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سے خارج ہونے والی دھاتیں جسم کے اہم اعضا، جیسے کہ دل، دماغ، اور گردوں، پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ خاص طور پر سیسہ اور اینٹیمونی جیسے مادے کینسر کا باعث بن سکتے ہیں، جو ای سیگریٹس کے استعمال کو اور بھی خطرناک بناتا ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے مختلف برانڈز کی ڈسپوزایبل ای سیگریٹس کا تجزیہ کیا اور ان کے بخارات میں موجود کیمیکلز اور دھاتوں کی مقدار کا موازنہ روایتی سیگریٹس سے کیا۔ انہوں نے پایا کہ ای سیگریٹس سے خارج ہونے والے ایروسولز (aerosols) میں سیسہ، اینٹیمونی، اور دیگر زہریلے مادوں کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ تھی۔

پروفیسر پاؤلن نے بتایا کہ ای سیگریٹس کے ڈیزائن اور ان میں استعمال ہونے والے مواد، جیسے کہ دھاتی کنڈلیوں (coils) اور بیٹریوں، کی وجہ سے یہ زہریلی دھاتیں بخارات میں شامل ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسپوزایبل ای سیگریٹس کی کم قیمت اور آسان دستیابی انہیں نوجوانوں کے لیے پرکشش بناتی ہے، لیکن ان کے صحت پر اثرات طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

صحت عامہ کے لیے مضمرات

اس تحقیق نے صحت عامہ کے ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پروفیسر پاؤلن نے زور دیا کہ ای سیگریٹس کی تیاری، فروخت، اور استعمال پر سخت ضابطوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں فوری طور پر ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جو ان آلات میں موجود زہریلے مادوں کو کنٹرول کریں اور صارفین کو ان کے خطرات سے آگاہ کریں۔”

ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ ای سیگریٹس کے لیبلز پر واضح وارننگز شامل کی جائیں، جن میں سیسہ اور دیگر زہریلی دھاتوں کے خطرات کی نشاندہی ہو۔ اس کے علاوہ، ای سیگریٹس کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد پر سخت معیار (quality control) نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زہریلے مادوں کی مقدار کو کم کیا جا سکے۔

نوجوانوں پر اثرات اور والدین کے لیے ہدایات

نوجوانوں میں ای سیگریٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے والدین اور اساتذہ کے لیے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں اور نوعمر افراد میں سیسہ کی موجودگی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما کو بھی متاثر کرتی ہے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ای سیگریٹ استعمال پر نظر رکھیں اور انہیں اس کے خطرات سے آگاہ کریں۔

ایک ماہر صحت نے کہا کہ ای سیگریٹس کے پرکشش ذائقے اور رنگین ڈیزائن نوجوانوں کو راغب کرتے ہیں، لیکن والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اس کے صحت پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات سے باخبر کریں۔ اس کے علاوہ، اسکولوں میں ای سیگریٹس کے استعمال کے خلاف سخت پالیسیاں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی اس تحقیق نے ای سیگریٹس کو ایک محفوظ متبادل سمجھنے کی سوچ کو چیلنج کیا ہے۔ ڈسپوزایبل ای سیگریٹس سے خارج ہونے والی زہریلی دھاتیں، جیسے کہ سیسہ اور اینٹیمونی، نہ صرف روایتی سیگریٹس سے زیادہ خطرناک ہیں بلکہ یہ تولیدی مسائل، دل کی بیماریوں، اور دماغی عوارض کا باعث بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں کے لیے یہ خطرات ناقابلِ قبول ہیں۔

یہ تحقیق صحت عامہ کے اداروں، پالیسی سازوں، اور عوام کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ای سیگریٹس کے استعمال کو کنٹرول کرنے اور اس کے خطرات سے آگاہی پھیلانے کی فوری ضرورت ہے۔ جیسے جیسے یہ بحث آگے بڑھتی ہے، امید کی جاتی ہے کہ نئی پالیسیاں اور اقدامات ای سیگریٹس کے نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، تاکہ آنے والی نسلیں ان کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین