ایران نے افزودہ یورینیم کو زیادہ محفوظ مقام پر منتقل کر دیا،ماہرین

افزودہ یورینیم کے ذخائر کی گمشدگی پر امریکا اور اسرائیل سمیت عالمی برادری میں شدید تشویش

ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی گمشدگی پر امریکا اور اسرائیل سمیت عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔حالیہ خفیہ رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکی حملوں سے ایک دن پہلے ایران کی فردو جوہری تنصیب کے قریب غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئیں اور متعدد ٹرکوں کی نقل و حرکت بھی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ایک خفیہ اور زیادہ محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے جو ممکنہ طور پر کوہ فاس میں واقع ایک نئی زیر زمین تنصیب ہے۔

حملے سے قبل ٹرکوں کی موجودگی

حال ہی میں ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکی فوج نے بی2 اسٹیلتھ بم بار طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ایران کی 3اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز، اور اصفہان پر بڑے پیمانے پر روایتی بموں سے حملے کئے تھے۔ ان حملوں کا واحد مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ و برباد کرنا تھا۔ ایران کا جوہری پروگرام مغربی ممالک کے لیے ایک طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں فردو کی زیر زمین تنصیب کے اوپر پہاڑ میں 6 سوراخ اور نطنز کی تنصیب پر کم از کم ایک گڑھا واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی صاف نشاندہی کرتا ہے۔حملوں سے پہلے فردو تنصیب کے باہر 16 ٹرکوں کی موجودگی نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے اہم ذخائر کو حملوں سے بچانے کے لیے پہلے ہی منتقل کر دیا تھا۔ برطانوی اخبار کے حوالے سے ایک ایرانی جوہری پروگرام کے ماہر نے بتایا کہ ایران نے اپنے یورینیم کے ذخائر کو ایک خفیہ مقام پر منتقل کیا، جو ممکنہ طور پر کوہ فاس میں واقع ہے۔

نئی خفیہ تنصیب

کوہ فاس جو فردو سے تقریباً 145 کلومیٹر جنوب میں اور نطنز کے قریب اصفہان صوبے میں واقع ہے، ایران کی نئی جوہری تنصیب کا ممکنہ مقام سمجھا جا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں گزشتہ چار برسوں کے دوران خاموشی سے توسیع کی گئی ہے، اور یہ تنصیب جدید حفاظتی نظام سے لیس ہے۔ اس تنصیب کی گہرائی زمین کی سطح سے تقریباً 100 میٹر نیچے بتائی جاتی ہے، جو فردو (60-90 میٹر) سے زیادہ گہری اور محفوظ ہے۔

فردو کے مقابلے میں، کوہ فاس کی تنصیب میں چار داخلی راستے ہیں—دو مشرقی اور دو مغربی سمت میں—جو اسے زیادہ لچکدار اور حملوں کے خلاف مزاحم بناتے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنصیب کے گرد پیچیدہ سرنگوں کا نیٹ ورک موجود ہے، جو اسے افزودہ یورینیم کی حفاظت اور ممکنہ طور پر افزودگی کے عمل کے لیے موزوں بناتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنصیب نہ صرف سینٹری فیوجز کی تیاری بلکہ یورینیم کی افزودگی کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال

ایران کا جوہری پروگرام طویل عرصے سے عالمی تنازع کا باعث رہا ہے۔ 2002 میں نطنز اور آراک کی خفیہ تنصیبات اور 2009 میں فردو کی تنصیب کے انکشاف کے بعد سے، ایران پر اپنے جوہری پروگرام کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران نے 2025 کے آغاز سے اپنے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر میں 133.8 کلوگرام کا اضافہ کیا، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار مقدار کے قریب ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود، ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کے دعوؤں پر شکوک پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوہ فاس کی تنصیب کی مضبوطی اور خفیہ نوعیت کی وجہ سے ایران اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھ سکتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اس تنصیب کے گرد نئے حفاظتی انتظامات کیے ہیں، جو اسے حملوں سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

عالمی ردعمل اور تشویشناک سوالات

امریکی حملوں کے بعد اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کوبرسوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے لیکن افزودہ یورینیم کی منتقلی پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ امریکی حملے واقعی ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت اب ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں کم ہے، لیکن اس کی مکمل بحالی کے امکانات کو کسی طور رد نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین