جنگ لگواؤ، پیسہ بناؤ

دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کا ادارہ قائم ہوا مگر بعد میں بھی جنگیں ہوئیں جن میں پاک بھارت ،ویت نام، عرب اسرائیل، عراق کویت، عراق ایران جنگیں بطور خاص شامل ہیں

یکم ستمبر 1939ء کو جرمن فوجوں نے پولینڈ پر حملہ کیا، اٹلی نے غیر جانبداری کا مسلک اختیار کر لیا، برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ اُس وقت جرمنی اور روس نے فیصلہ کیا کہ پولینڈ کو تقسیم کر دیاجائے، اُس وقت جمہوریہ امریکہ کے قانون میں غیر جانبداری تھی کہ امریکہ دخل اندازی نہیں کرے گا۔ جب امریکہ نے یورپ میں جنگوں کا ماحول دیکھا تو فوراً اس قانون میں ترمیم کر دی۔ اس سے پہلے امریکہ کی جنگی مشینری نہ تو کسی ملک میں دخل دے سکتی تھی اور نہ ہی امریکی اسلحہ کسی کو بیچا جاتا تھا۔ امریکہ نے غیر جانبداری کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا مگر جیسے ہی یورپ کو دست و گریبان دیکھا تو امریکہ کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے مالکان کی رال ٹپکنے لگے، انہوں نے راتوں رات قانون میں ترمیم کروائی اور اعلان کر دیا جنگی فریقوں میں سے جو چاہے نقد پیسہ دے اور جنگی سامان خرید لے چاہے جہاز بھر بھر کر لے جائے۔ 30 نومبر 1939ء کو روس نے فن لینڈ پر حملہ شروع کردیا اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی جو مارچ 1940ء تک جاری رہی۔

جرمن فوجیوں نے ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کر دیا۔ 10 مئی 1939ء کو جرمن فوجیں بلجیم، ہالینڈ اور لکسم برگ میں داخل ہو گئیں۔ 1940ء میں فرانسیسی حکومت نے وشی اور برطانیہ نے وہران میں فرانسیسی بیڑے پر حملہ کر دیا یہ وہ جنگی حالات تھے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے اپنی اسلحہ منڈی اوپن کر دی اور جنگوں کو خوب انجوائے کیا۔ امریکہ پر دوسری جنگ عظیم میں یہ راز منکشف ہوا کہ روایتی تجارتی کاروباروں میں اتنا پیسہ نہیں کمایا جا سکتا جتنا پیسہ جنگی مشینری بیچ کر کمایا جاسکتا ہے۔ تب سے امریکہ نے اپنی اسلحہ سازی کی صنعت پر توجہ دی اور آج کے دن تک وہ جنگ لگواؤ، پیسہ بناؤ کی پالیسی پر کاربند ہے، ہر جنگ میں امریکہ ایک نیا بمب اور نیا جہاز متعارف کرواتا ہے اور پھر دنیا اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے اُس کی خریداری کے لئے امریکہ کی خوشامد شروع کر دیتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جنگ رکوانے کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے مگر اقتدار میں آتے ہی روس، یوکرین جنگ میں شدت آئی، اسرائیل فلسطین جنگ میں شدت آئی، بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور دنیا ایک نئے جنگی بخار میں مبتلا ہو گئی چونکہ امریکی کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے مالکان نے ٹرمپ پر واضح کر دیا کہ اگر صدارتی مدت کو انجوائے کرنا ہے تو پھر جنگ گریز رجحانات سے توبہ کریں، اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد جب جوابی حملے ہوئے تو اسرائیل کو پسینے آگئے، اسرائیل ہزیمت اور ذلت سے بچنے کے لئے ٹرمپ کو جنگ میں گھسیٹنے پر مجبور کرنے لگا اور ٹرمپ جنگ گریز رجحانات کا اظہار کرتے رہے مگر پھر دوبارہ امریکہ کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے مالکان نے نئے بمب ، نئے جہاز متعارف کروانے کا موقع غنیمت جانتے ہوئے جنگ میں داخل ہونے کا مشورہ دیااور یوں زیر زمین بنکرتوڑنے والا بم متعارف کروا کر امریکہ کی اسلحہ سازی کی صنعت دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ جب تک امریکہ کی معیشت کا انحصار اسلحہ ساز فیکٹریوں کی بجائے دیگر شریفانہ کاروباروں کی طرف نہیں ہوتا تب تک دنیا دائمی امن سے محروم رہے گی۔
دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد اقوام عالم نے ایک ایسی ادارے کی ضرورت محسوس کی جو بین الاقوامی تنازعات کے حل میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کر سکے اور یوں اقوام متحدہ کے ادار ے کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں جنگ رکوانے کے حوالے سے ایک نفسیاتی حربے کے طور پر کارگر رہیں لیکن یہ کہنا کہ اقوام متحدہ جنگ کا مکمل خاتمہ کر سکی تو یہ بات غلط ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کا ادارہ قائم ہوا مگر بعد میں بھی جنگیں ہوئیں جن میں پاک بھارت ،ویت نام، عرب اسرائیل، عراق کویت، عراق ایران جنگیں بطور خاص شامل ہیں۔ اب اقوام متحدہ کے ادارے کو عملاً بے وقعت کر دیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی اُن قراردادوں پر عمل ہوتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفاد میں ہوتی ہیں مگر اگر یہ قراردادیں کسی اسلامی یا غیر یورپی ملک کے مفاد میں پاس ہوں تو اُن پر سرے سے عملدرآمد ہی نہیں ہوتا۔ بھارت اور اسرائیل 7 دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے کشتیاں اور جہاز بنا کر اڑا رہا ہے مگر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔

ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے عالمی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اُنہیں ایٹمی صلاحیت کی پیش رفت کے بارے میں برابر آگاہ رکھا۔ امریکہ براہ راست ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا تو اس تمام تر تعاون کے باوجود ایران پر ایٹمی پروگرام بنانے ،چلانے کی آڑ لے کر حملہ کر دیاگیا اور تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئیں، یہ سارے ثبوت اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلحہ ساز فیکٹریاں چلانے اور کئی سو گنا منافع کمانے کی لت امن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین