شعبہ صحت میں معمولی ٹائپنگ غلطی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے

اے آئی سسٹمز اپنی نوعیت کے اعتبار سے ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرتے ہیں

شعبہ صحت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال نے تشخیص اور علاج کے عمل کو تیز اور موثر بنایا ہے، لیکن ایک معمولی ٹائپنگ کی غلطی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، جو بعض اوقات مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طبی عملے کی جانب سے ڈیٹا انٹری میں چھوٹی سی لاپرواہی، جیسے کہ غلط ہجے یا ناقص معلومات، اے آئی سسٹمز کے تشخیصی نتائج کو مسخ کر سکتی ہے، جس سے غلط دوائیں، ناقص تشخیص، یا غیر ضروری علاج تجویز ہو سکتے ہیں۔

اے آئی سسٹمز اور درست ڈیٹا کی اہمیت

اے آئی پر مبنی نظام، جو مرض کی تشخیص، دوائیں تجویز کرنے، یا کلینیکل فیصلوں میں معاونت کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اپنی کارکردگی کے لیے مکمل طور پر درست اور قابل اعتماد ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ان سسٹمز کو غلط یا ناقص معلومات فراہم کی جائیں، تو اس کے نتیجے میں سنگین غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ یہ غلطیاں نہ صرف مریض کی صحت کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ طبی تحقیق اور پیشگوئی کے ماڈلز کو بھی غیر موثر بنا دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اے آئی سسٹمز اپنی نوعیت کے اعتبار سے ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرتے ہیں اور ان کے پاس انسانی جیسا تنقیدی تجزیہ یا سوال اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اگر ان پٹ ڈیٹا میں غلطی ہو، تو نیورل نیٹ ورکس یا ریگریشن ماڈلز غلط نتائج پیش کرتے ہیں، جو مریض کے علاج کے عمل کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔

ٹائپنگ کی غلطیوں کے سنگین نتائج

شعبہ صحت میں ٹائپنگ کی معمولی غلطیوں کے کچھ ممکنہ نتائج درج ذیل ہیں

 اگر  ہائی بلڈ پریشر کے بجائے کم بلڈ پریشردرج کر دیا جائے، تو مریض کو بلڈ پریشر کے لیے غلط دوا تجویز کی جا سکتی ہے، جو اس کی صحت کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

غلط دوائیں: دوا کا نام "Prednisone” کے بجائے "Prednisolone” لکھنے سے خوراک اور مضر اثرات کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ادویات کے استعمال اور اثرات مختلف ہیں۔

غلط مرض کا اندراج اگر مریض کی رپورٹ میں "No diabetes” کے بجائے "Diabetes” لکھ دیا جائے، تو غیر ضروری طور پر انسولین یا دیگر ذیابیطس کی دوائیں تجویز کی جا سکتی ہیں، جو صحت مند شخص کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

 مریض کا وزن 70 کلوگرام کے بجائے 700 کلوگرام درج کرنا دوائی کی خوراک میں خطرناک حد تک اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

اے آئی کی حدود اور انسانی ذمہ داری

اے آئی سسٹمز کی ایک بڑی حد یہ ہے کہ وہ ان پٹ ڈیٹا کی درستگی پر سوال نہیں اٹھاتے۔ وہ صرف وہی معلومات پر عمل کرتے ہیں جو انہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر ڈیٹا انٹری کے وقت غلطی ہو جائے، تو اس کا نتیجہ غلط تشخیص، غیر مناسب علاج، یا حتیٰ کہ مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک غلط کمانڈ یا ناقص ڈیٹا انٹری کی وجہ سے اے آئی سسٹم غلط پیشگوئی کر سکتا ہے، جو کلینیکل فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیٹا انٹری کے عمل کو سخت معیارات کے تحت کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے طبی عملے کی تربیت، ڈیٹا کی دوہری جانچ پڑتال، اور خودکار غلطیوں کی نشاندہی کے نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

ممکنہ حل اور تجاویز

ماہرین نے شعبہ صحت میں ٹائپنگ کی غلطیوں سے بچنے کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں

ڈیٹا انٹری کی تربیت: طبی عملے کو درست ڈیٹا انٹری کے لیے باقاعدہ تربیت دی جائے تاکہ انسانی غلطیوں کا امکان کم کیا جا سکے۔

دوہری تصدیق، اہم معلومات جیسے کہ مریض کی تشخیص، دوائیں، اور وزن کو دوہری جانچ کے عمل سے گزرنا چاہیے۔

خودکار الرٹس،اے آئی سسٹمز میں ایسی ٹیکنالوجی شامل کی جائے جو غیر معمولی ڈیٹا (مثلاً 700 کلوگرام وزن) کی نشاندہی کر کے الرٹ جاری کرے۔

معیاری اصطلاحات کا استعمال طبی اصطلاحات کے لیے معیاری کوڈز (جیسے ICD-10) کا استعمال کیا جائے تاکہ ہجے کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔

عالمی سطح پر تشویش

عالمی سطح پر شعبہ صحت میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ہی ڈیٹا کی درستگی سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک امریکی ہسپتال میں ٹائپنگ کی غلطی کی وجہ سے ایک مریض کو غلط دوا تجویز کی گئی، جس سے اس کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ اسی طرح، برطانیہ میں ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ 20 فیصد طبی رپورٹس میں ڈیٹا انٹری کی غلطیاں موجود ہوتی ہیں، جو علاج کے عمل کو متاثر کرتی ہیں۔

پاکستان میں بھی، جہاں اے آئی پر مبنی تشخیصی نظام تیزی سے متعارف ہو رہے ہیں، ڈیٹا کی درستگی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مقامی ہسپتالوں میں محدود وسائل اور تربیت کی کمی کی وجہ سے ٹائپنگ کی غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے وزارت صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہسپتالوں میں ڈیٹا مینجمنٹ کے لیے جدید نظام متعارف کرائے اور عملے کی تربیت پر توجہ دے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین