امریکہ اور چین کے درمیان نئے تجارتی معاہدے پر دستخط

معاہدہ مئی 2025 میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہے،اعلیٰ عہدیدار وائٹ ہائوس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں ایک تقریب کے دوران اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدہ پر دو نوں فریقین کے دستخط بھی ہو چکے ہیں۔یہ معاہدہ دونوں عالمی معاشی طاقتوں کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے جاری معاشی تنازعات اور تجارتی جنگ کو ختم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جارہا ہے ۔ دونوں ممالک نے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

معاہدے کی تفصیلات

امریکی صدر نے گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے ایک جامع معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ معاہدہ مئی 2025 میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہے، دونوں ممالک نے ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جون 2025 میں لندن میں مزید بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا۔ اس فریم ورک کو اب حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو بتایا کہ معاہدے پر دو دن پہلے دستخط کیے گئے۔چین کی وزارت تجارت نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے فریم ورک کی تفصیلات پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق، چین برآمدی کنٹرول اشیاء کے اجازت ناموں کو قانون کے مطابق منظور کرے گا، جبکہ امریکہ چین پر عائد کردہ کچھ پابندیوں کو واپس لے گا۔امریکہ اور چین نے ابھی تک معاہدے کی مکمل تفصیلات عام نہیں کیں جس کے باعث کچھ تجزیہ کاروں نے اس معاہدے کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

معاہدے کی اہمیت

یہ معاہدہ خاص طور پر نایاب معدنیات (rare earth minerals) کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے جو امریکی ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں کے لیے اہم ہیں۔ چین نے ماضی میں معدنیات کی برآمدات کو محدود کرکے معاشی دباؤ ڈالا تھا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو ان معدنیات کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور اس کے بدلے میں چین کو امریکی مصنوعات پر عائد اضافی ٹیرف سے نجات ملے گی۔

امریکہ اور چین کے درمیان معاشی جنگ

2018ء میں امریکہ اور چین کے درمیان معاشی تنازعات اس وقت شروع ہوئے جب صدر ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر بھاری ٹیرف عائد کیے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی معیشت کو تحفظ دینا اور چین کے ساتھ تجارت میں عدم توازن کو کم کرنا تھا۔ چین نے جوابی طور پر امریکی مصنوعات، بالخصوص زرعی اشیاء، پر ٹیرف عائد کیے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مکمل تجارتی جنگ شروع ہو گئی۔

ٹیرف وار کا آغاز

2018 میں امریکہ نے چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 25 فیصد تک ٹیرف عائد کیے، جس کا نشانہ اسٹیل، ایلومینیم، اور ٹیکنالوجی مصنوعات تھیں۔ چین نے امریکی سویابین، گاڑیوں، اور دیگر اشیاء پر جوابی ٹیرف لگائے۔ اس تنازع نے عالمی سپلائی چینز کو متاثر کیا اور دونوں ممالک کی معیشتوں پر دباؤ ڈالا۔

فیز ون معاہدہ

جنوری 2020 میں، دونوں ممالک نے "فیز ون” معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت چین نے امریکی زرعی مصنوعات، توانائی، اور دیگر اشیاء کی خریداری بڑھانے پر اتفاق کیا۔ تاہم، اس معاہدے کے اہداف پورے نہ ہو سکے، اور تناؤ برقرار رہا۔

نایاب معدنیات اور ٹیکنالوجی تنازع

چین نے نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں عائد کیں، جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اہم ہیں۔ اس کے جواب میں، امریکہ نے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جیسے ہواوے، پر پابندیاں سخت کیں۔ اس دوران، دونوں ممالک نے عالمی معاشی فورمز پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات جاری کیے۔
جنیوا اور لندن مذاکرات

مئی 2025 میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ جون میں لندن میں مزید بات چیت کے بعد ایک فریم ورک تیار کیا گیا، جسے اب حتمی شکل دی گئی ہے۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں، بشمول امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک، نے حتمی شکل دی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین