غزہ :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ میرے خیال ہے غزہ میں آئندہ ہفتے تک جنگ بندی ہو جائے گی۔صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف
ایک صحافی نے سوال کیا کہ کہ اگر مستقبل میں انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی جانب سے یورینئیم کی افزودگی سے متعلق تشویشناک نتائج سامنے آئے تو کیا وہ ایران پر بمباری پر غور کریں گےاس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہااگر ایران نے اس سطح پر یورینئم افزودہ کیا جو امریکہ کے لئے باعث تشویش ہو تو ہم بالکل بمباری پر غور کریں گے۔ انہوں نے کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو حال ہی میں امریکی بمباری سے تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایٹمی توانائی ایجنسی سے اہم مطالبہ
ٹرمپ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)سمیت دیگر اداروں سے اہم مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی ان جوہری تنصیبات کا معائنہ کریں جن کو امریکہ نے بمباری سے تباہ کیا ہے ۔صدر ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان پر بھی ردعمل دینے کا عندیہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کرکے ایران نے "امریکا کے چہرے پر تھپڑ مارا۔” ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بیان پر جلد مفصل جواب دیں گے۔
اسے بھی پڑھیں: امریکہ اور چین کے درمیان نئے تجارتی معاہدے پر دستخط
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا کریڈٹ لیا۔ انہوں نے کہا، "مجھے بھارت اور پاکستان کا معاملہ حل کرنے پر بہت خوشی ہے۔ دونوں ممالک کے پاس اعلیٰ سطح کے جوہری ہتھیار ہیں، اور ہم نے اس معاملے کو تجارت کے ذریعے حل کیا۔” انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی۔
کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم
صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا سے ڈیل کرنا مشکل ہے۔انہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ تنازع کے جلد حل ہونے کی امید بھی ظاہر کی، لیکن اس بارے میں کوئی ٹھوس تفصیلات پیش نہیں کیں۔
صدارت کے خطرات
اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے صدارت کو ایک’’خطرناک عہدہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے پنسلوینیا میں اپنے کان پر گولی لگنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات لگتا ہے کہ دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے صدارت کا موازنہ منہ زور بیل پر سواری اور کار ریس کے ڈرائیورز کے پیشوں سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "منہ زور بیل پر سواری کرنے والوں اور کار ریس کے ڈرائیورز کے مرنے کا خطرہ ایک فیصد ہوتا ہے، جبکہ صدر کے لیے یہ خطرہ پانچ فیصد ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں پہلے سے اس خطرے کا علم ہوتا تو شاید وہ صدارت کے لیے دوڑ میں حصہ نہ لیتے۔ واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں 45 میں سے 4 صدور کو قتل کیا گیا، جبکہ کئی صدور اور امیدواروں پر حملے ہوئے۔صدر ٹرمپ کے ان بیانات نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ان کے دعوئوں نے۔ تاہم، ان کے کچھ دعووں کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ ان کے بیانات سے عالمی سیاست، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے تناظر میں نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔





















