پاکستان میں بجلی کے شعبے کو ایک لمبے عرصے سے اوور بلنگ، میٹر ریڈنگ میں غلطیوں اور صارفین کی شکایات جیسے مسائل درپیش رہے ہیں۔ سبسڈی یافتہ صارفین کو ایک یونٹ اضافی استعمال کرنے کی وجہ سے غیر معمولی بلز کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے ان کی مالی مشکلات میں خاصا اضافہ ہوتا تھا۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے وزارتِ پاور ڈویژن نے ایک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اقدام اٹھایا ہے جس کا مقصد صارفین کو بااختیار بنانا اور بلنگ کے عمل میں شفافیت لانا ہے۔ اسی تناظر میں ایک ’’پاور اسمارٹ ایپ‘‘ متعارف کرائی گئی۔
پاور اسمارٹ ایپ کا افتتاح
وزارتِ پاور ڈویژن نے بجلی کے صارفین کو بلنگ کے عمل میں شفافیت اور خودمختاری سے ہمکنار کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ’’پاور اسمارٹ ایپ‘‘ متعارف کرائی۔ اس ایپ کا باقاعدہ افتتاح 29 جون 2025 کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ایپ کے اجرا کے موقع پر وزیراعظم نے اسے صارفین کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا۔
’’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘‘
’’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘‘ منصوبے کے تحت تیار کردہ یہ ایپ صارفین کو مقررہ تاریخ پر اپنے بجلی کے میٹر کی تصویر لے کر ایپ پر اپ لوڈ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس تصویر کی بنیاد پر صارف کا ماہانہ بل تیار کیا جائے گا، جو روایتی میٹر ریڈنگ کے عمل سے ہٹ کر ایک صارف دوست حل ہے۔ اس نظام کے تحت اگر صارف مقررہ دن پر اپنی ریڈنگ اپ لوڈ کر دے تو میٹر ریڈر کی جانب سے لی گئی ریڈنگ کو ترجیح نہیں دی جائے گی، اور صرف صارف کی فراہم کردہ ریڈنگ ہی حتمی بل کے لیے استعمال ہوگی۔
صارفین کو بااختیار بنانے کی طرف ایک اہم قدم
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ ایپ بجلی کے صارفین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد صارفین کی شکایات، خصوصاً اوور بلنگ، غلط میٹر ریڈنگ اور تاخیر کے مسائل کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ ایپ صارفین کو خود اپنی ریڈنگ اپ لوڈ کرنے کی سہولت دے گی، جس سے وہ درست بل حاصل کر سکیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ایک ٹیکنالوجیکل فیچر نہیں، بلکہ گورننس میں ایک ٹھوس اصلاح ہے جو صارفین کو اپنے بلنگ کے عمل کی نگرانی کا اختیار دیتی ہے۔
سبسڈی یافتہ صارفین کے لیے خاص سہولت
یہ ایپ خاص طور پر ان صارفین کے لیے فائدہ مند ہے جو حکومتی سبسڈی کے اہل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا بل تقریباً 2,330 روپے ہوتا ہے، لیکن ایک یونٹ کے اضافے سے سبسڈی ختم ہونے کی صورت میں بل 8,104 روپے تک جا پہنچتا ہے۔ پاور اسمارٹ ایپ کے ذریعے صارفین بروقت اپنی ریڈنگ اپ لوڈ کر کے اپنی سبسڈی کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، جس سے انہیں غیر ضروری مالی بوجھ سے بچنے میں مدد ملے گی۔
شفافیت اور گورننس میں اصلاح
’’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘‘ جیسے فیچرز نہ صرف بلنگ کے عمل کو شفاف بنائیں گے بلکہ صارفین کو اپنے بجلی کے استعمال پر مکمل کنٹرول بھی دیں گے۔ اس سے نہ صرف اوور بلنگ اور ریڈنگ کی غلطیوں جیسے مسائل کا خاتمہ ہوگا، بلکہ صارفین کی شکایات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس نظام کے تحت صارفین نہ صرف اپنے بلز کی نگرانی کر سکیں گے، بلکہ وہ میٹر ریڈنگ کے عمل کے نگہبان بھی بن جائیں گے۔
ٹیم کی کاوشیں
اس جدید ایپ کی تیاری وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں عمل میں آئی۔ سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر فخر عالم اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت سے اس انقلابی حل کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ اس ایپ کے ذریعے نہ صرف بجلی کے شعبے میں شفافیت کو فروغ ملے گا، بلکہ یہ صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
پاور اسمارٹ ایپ کے اجرا سے پاکستان کے بجلی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے ۔ اس اقدام سے نہ صرف صارفین کے مالی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ بجلی کے نظام میں اعتماد بھی مزید پختہ ہو گا۔





















