شوبز انڈسٹری میں ہراسانی عام ہے، مہر بانو کا انکشاف

شوبز انڈسٹری میں طاقتور افراد کی جانب سے فنکاروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے،مہربانو

کراچی: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و رقاصہ مہر بانو نے انڈسٹری کے چمک دمک کے پیچھے چھپے تاریک پہلوؤں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے ہراسانی کے سنگین مسائل پر کھل کر بات کی ہے۔ فلم ’ٹیکسالی گیٹ‘ سے شہرت پانے والی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی فنکارہ نے انکشاف کیا کہ شوبز انڈسٹری میں فنکاروں سے کام کے بدلے ناجائز مطالبات کیے جاتے ہیں، اور یہ ہراسانی مرد و خواتین دونوں کو نشانہ بناتی ہے۔ ان کے یہ جرأت مندانہ بیانات انڈسٹری میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔

مہر بانو کا بے باک انکشاف

حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں، جس کی میزبانی تابش ہاشمی نے کی، مہر بانو نے شوبز انڈسٹری کے تلخ حقائق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پروگرام کے دوران ایک نوجوان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں طاقتور افراد کی جانب سے فنکاروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور ان سے غیر مناسب مطالبات کیے جاتے ہیں۔ مہر بانو نے واضح کیا کہ یہ مسائل صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد فنکار بھی اس ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "شوبز انڈسٹری میں خوبصورتی اور دلکشی کی وجہ سے فنکار آسانی سے ہراسانی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سیاہ پہلو ہے جس پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو اس استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو جنسی بنیاد پر ہونے والی ہراسانی کی ایک سنگین شکل ہے۔” مہر بانو کا یہ بیان انڈسٹری کے اندرونی حالات کو بے نقاب کرتا ہے، جو عام طور پر پردہ راز میں رہتے ہیں۔

شوبز انڈسٹری کا تاریک رخ

مہر بانو، جو اپنی بے باک شخصیت اور سوشل میڈیا پر متحرک موجودگی کے لیے جانی جاتی ہیں، نے پروگرام میں بتایا کہ شوبز انڈسٹری کی چمک دمک کے پیچھے کئی تلخ حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر انڈسٹری کی طرح شوبز میں بھی طاقت کا غلط استعمال عام ہے، جہاں نئے آنے والوں اور کمزور فنکاروں کو طاقتور افراد کے ہاتھوں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کام کے مواقع دینے کے عوض ناجائز مطالبات ایک عام رواج بن چکا ہے، جو فنکاروں کے لیے نہ صرف پیشہ ورانہ بلکہ نفسیاتی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔ مہر بانو نے زور دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کھلے مکالمے اور سخت پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ فنکاروں کو ایک محفوظ ماحول میسر ہو۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

مہر بانو کے اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ شائقین اور انڈسٹری سے وابستہ افراد نے ان کی جرأت کی تعریف کی ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، "مہر بانو نے وہ بات کہی جو برسوں سے انڈسٹری میں چھپی ہوئی تھی۔ ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانا ایک بہت بڑا قدم ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "شوبز میں ہراسانی کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، لیکن اسے کھل کر تسلیم کرنے کے لیے مہر بانو جیسے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے۔”

تاہم، کچھ صارفین نے خدشات کا اظہار کیا کہ اس طرح کے بیانات سے انڈسٹری کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "ہراسانی کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے، لیکن اسے انڈسٹری کی مجموعی شبیہ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں مثبت تبدیلی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔”

شوبز انڈسٹری میں ہراسانی

ہراسانی کا یہ مسئلہ صرف پاکستانی شوبز انڈسٹری تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تفریحی صنعت کا ایک سنگین چیلنج ہے۔ ہالی ووڈ میں #MeToo تحریک اور بالی ووڈ میں ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے والی اداکاراؤں کے واقعات نے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں کئی فنکاراؤں نے ہراسانی کے تجربات شیئر کیے ہیں، لیکن اسے ابھی تک ایک منظم طریقے سے حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بن سکی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں ہراسانی کے خاتمے کے لیے سخت قوانین، شکایتی نظام، اور شفاف تحقیقات کے عمل کو متعارف کروانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، نئے فنکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تربیتی پروگرامز اور آگاہی مہمات بھی شروع کی جانی چاہئیں۔

مہر بانو کی بے باک شخصیت

مہر بانو اپنی جرات مندانہ اداکاری اور بے باک بیانیوں کے لیے مشہور ہیں۔ فلم ’ٹیکسالی گیٹ‘ میں ان کی اداکاری کو ناقدین نے خوب سراہا، اور انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی کھری باتوں سے بھی ایک منفرد شناخت بنائی ہے۔ وہ اکثر سماجی مسائل، خواتین کے حقوق، اور انڈسٹری کے چیلنجز پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ ان کا حالیہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو شوبز انڈسٹری میں مثبت تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

مہر بانو کے انکشافات نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کے ایک اہم اور حساس مسئلے کو منظر عام پر لا دیا ہے۔ ہراسانی، جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو متاثر کرتی ہے، انڈسٹری کا ایک تاریک پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے اس بہادرانہ بیان نے نہ صرف اس موضوع پر کھلے مکالمے کی راہ ہموار کی ہے بلکہ دیگر فنکاروں کو بھی اپنے تجربات شیئر کرنے کی ہمت دی ہے۔ یہ وقت ہے کہ شوبز انڈسٹری میں ایک محفوظ اور منصفانہ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ فنکار اپنی صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر پیش کر سکیں اور انڈسٹری کی ساکھ کو تقویت ملے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین