شاہد خاقان عباسی نے ن لیگ کے ساتھ چلنے کیلئے اہم شرط رکھ دی

کسی شخصیت یا عہدے سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں بلکہ اختلاف صرف اصولوں اور بیانیے کی بنیاد پر ہے

لاہور:شاہد خاقان عباسی کا شمار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنماؤں میں ہوتا رہا ہے۔ وہ نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھی اور وفادار سمجھے جاتے ہیں۔2017 میں جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ 2018 کے بعد سے جب مسلم لیگ (ن) نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ اختیار کیا، تو شاہد خاقان عباسی اس بیانیے کے پُرجوش داعی کے طور پر سامنے آئے۔

ن لیگ میں دوبارہ شامل ہو سکتا ہوں مگر؟

عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک انٹرویو میں واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کسی شخصیت یا عہدے سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں بلکہ ان کا اختلاف صرف اصولوں اور بیانیے کی بنیاد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ پر دوبارہ قائم ہو جائے تو ان کے ساتھ مل کر چلنے کیلئے تیار ہوں۔

جمہوریت کی بنیادیں

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کے حامی رہے ہیں، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی سیاسی عمل کو استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نظام اگر آئینی حدود کے مطابق نہیں چل رہا تو اسے درست کرنا چاہیے اور اگر کوئی ہائبرڈ نظام رائج ہے جو آئین سے متصادم ہو تو پھر آئین کو بھی تبدیل کرنے کی بات کھلے دل سے ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک آئین کے تحت چلنا چاہیے، اور اگر آئین ہی کمزور ہو جائے تو جمہوریت کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو یہ جنگی اقدام تصور کیا جائے گا، نائب وزیراعظم

چودھری نثار سے کوئی اختلافات نہیں

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے اختلافات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا چوہدری نثار سے اب کوئی اختلاف باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن اصل اہمیت اصولوں اور نظریات کی ہوتی ہے، شخصیات کی نہیں۔

دو تہائی اکثریت

شاہد خاقان عباسی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران اتحاد کے پاس دوتہائی اکثریت ہے، وہ چاہیں تو اسمبلی کی مدت تاحیات بھی کر سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ آئینی اصولوں کے مطابق چل رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ طاقت اور اکثریت کے باوجود اگر حکومت آئین و قانون سے انحراف کرے گی تو اس کا انجام ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

26ویں آئینی ترمیم

انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین کی روح کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم آئینی ڈھانچے کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے کے مترادف ہے اور اس سے نظام میں مزید ابہام پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے بقول ایسی ترامیم جن سے آئین کی بنیادیں ہلیں، انہیں فوری طور پر نظرثانی کے عمل سے گزارا جانا چاہیے۔

عوامی طاقت

شاہد خاقان عباسی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی عوامی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے پاس سڑکوں پر آنے کی طاقت موجود ہے اور ان کی سیاسی بصیرت کو نظر انداز کرنا حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مولانا کی باتوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کی جماعت حکومت کو مفلوج کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

آئین و قانون کی بالادستی

سابق وزیر اعظم نے موجودہ سیاسی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت ایک جامع، شفاف اور آئینی نظام کی اشد ضرورت ہے، جہاں فیصلے پارلیمان میں ہوں، نہ کہ پس پردہ قوتوں کے زیر اثر۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم واقعی جمہوریت کے تسلسل کے خواہاں ہیں تو ہمیں "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کو صرف جلسوں میں دہرانے کے بجائے اسے عملی سطح پر نافذ بھی کرنا ہوگا۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے آئین و قانون کی بالادستی کو تسلیم کریں اور ایسے فیصلے کریں جو مستقبل میں ملک کو سیاسی عدم استحکام سے نکال کر ایک مستحکم جمہوری ریاست کی طرف لے جائیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں ایک مرتبہ پھر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور عوام آئینی و جمہوری استحکام کے لیے بے چین نظر آتے ہیں۔ ایسے میں شاہد خاقان عباسی کی یہ باتیں نہ صرف سنجیدہ سیاسی حلقوں کے لیے غور و فکر کا باعث بنیں گی بلکہ آئندہ کی سیاست کا رخ بھی متعین کر سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین