ذیابیطس کے مریض تربوز کھانے سے کیوں گریز کریں؟

تربوز کا بے احتیاط استعمال ذیابیطس کے انتظام کو مشکل بنا سکتا ہے

تربوز، گرمیوں کا ایک مقبول اور پانی سے بھرپور پھل، اپنی تازگی اور قدرتی مٹھاس کی وجہ سے ہر عمر کے افراد میں پسند کیا جاتا ہے۔ تاہم، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس پھل کا استعمال احتیاط طلب ہے۔ اگرچہ تربوز غذائیت سے بھرپور اور ہائیڈریشن فراہم کرنے والا پھل ہے، لیکن اس میں موجود قدرتی شکر (فرکٹوز) اور اس کا بلند گلائسیمک انڈیکس خون میں شکر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ تربوز کا بے احتیاط استعمال ذیابیطس کے انتظام کو مشکل بنا سکتا ہے۔

تربوز اور گلائسیمک انڈیکس

تربوز کا گلائسیمک انڈیکس (GI) تقریباً 72 ہے، جو اسے زیادہ گلائسیمک انڈیکس والے کھانوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔ گلائسیمک انڈیکس ایک پیمانہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کوئی غذا کتنی تیزی سے خون میں گلوکوز کی سطح کو بڑھاتی ہے۔ زیادہ GI والی غذائیں، جیسے تربوز، خون میں شکر کی سطح کو تیزی سے بڑھاتی ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں، خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مریضوں کا جسم گلوکوز کو مؤثر طریقے سے ہینڈل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہوتا ہے۔

تاہم، تربوز کا گلائسیمک لوڈ (GL) نسبتاً کم ہے، جو تقریباً 5 فی 100 گرام ہے۔ گلائسیمک لوڈ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ایک مخصوص مقدار میں کھائی جانے والی غذا خون میں شکر کی سطح پر کتنا اثر ڈالتی ہے۔ کم گلائسیمک لوڈ ہونے کے باوجود، اگر تربوز زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شکر کی سطح کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔

فرکٹوز: قدرتی مٹھاس کا خطرہ

تربوز کی مٹھاس کا بنیادی جزو فرکٹوز ہے، جو ایک قدرتی شکر ہے۔ اگرچہ فرکٹوز کو مصنوعی شکر کے مقابلے میں صحت مند سمجھا جاتا ہے، لیکن زیادہ مقدار میں اس کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ فرکٹوز جگر میں میٹابولائز ہوتا ہے اور زیادہ مقدار میں اس کا استعمال انسولین کے مؤثر عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں، جہاں جسم پہلے ہی انسولین کے خلاف مزاحمت (insulin resistance) کا شکار ہوتا ہے، فرکٹوز کا زیادہ استعمال شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے احتیاطی تدابیر

ماہرین صحت کی جانب سے ذیابیطس کے مریضوں کو تربوز کھانے سے متعلق درج ذیل تجاویز دی گئی ہیں:

  1. محدود مقدار: تربوز کو چھوٹی مقدار میں کھانا چاہیے، مثلاً ایک کپ (150-200 گرام) سے زیادہ نہ ہو، اور وہ بھی ڈاکٹر یا غذائی ماہر کی ہدایت پر۔

  2. متوازن غذا کے ساتھ استعمال: تربوز کو کم گلائسیمک انڈیکس والی غذاؤں، جیسے دہی یا گری دار میوے، کے ساتھ کھانے سے خون میں شکر کی سطح پر اس کا اثر کم کیا جا سکتا ہے۔

  3. شوگر لیول کی نگرانی: تربوز کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی سطح کو باقاعدگی سے چیک کرنا چاہیے تاکہ اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

  4. ماہر سے مشورہ: ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی غذا میں تربوز شامل کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

تربوز کے فوائد اور حدود

اگرچہ تربوز ذیابیطس کے مریضوں کے لیے احتیاط طلب ہے، لیکن اس کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ یہ پھل 92 فیصد پانی پر مشتمل ہے، جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے اور گرمیوں میں تازگی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، تربوز میں وٹامن سی، وٹامن اے، اور اینٹی آکسیڈنٹس جیسے لائکوپین موجود ہوتے ہیں، جو دل کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہیں۔ تاہم، ذیابیطس کے مریضوں کو ان فوائد سے استفادہ کرنے کے لیے تربوز کو محدود مقدار میں اور متوازن غذا کے حصے کے طور پر کھانا چاہیے۔

عالمی تحقیق اور پاکستانی تناظر

عالمی سطح پر کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ گلائسیمک انڈیکس والی غذائیں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے طویل مدتی پیچیدگیوں، جیسے کہ دل کی بیماریوں اور اعصابی مسائل، کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ امریکن ڈائبیٹس ایسوسی ایشن نے تجویز کیا ہے کہ ذیابیطس کے مریض کم گلائسیمک انڈیکس والی غذاؤں، جیسے کہ بیریز یا سیب، کو ترجیح دیں۔

پاکستان میں، جہاں ذیابیطس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے، تربوز جیسے پھلوں کا بے تحاشا استعمال ایک عام رواج ہے۔ ماہرین صحت نے پاکستانی عوام کو خبردار کیا ہے کہ گرمیوں میں تربوز کی زیادہ مقدار سے پرہیز کیا جائے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ذیابیطس یا پری-ڈائبیٹس کا شکار ہیں۔ ایک غذائی ماہر نے کہا، "تربوز ایک صحت مند پھل ہے، لیکن ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ اسے اعتدال کے ساتھ کھانا بہتر ہے۔”

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس موضوع پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، "تربوز ہمارا پسندیدہ پھل ہے، لیکن ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی خوراک پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "حکومت کو چاہیے کہ ذیابیطس کے بارے میں آگاہی مہم چلائے تاکہ لوگ اپنی غذا کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکیں۔”

تربوز ایک غذائیت سے بھرپور اور تازگی بخش پھل ہے، لیکن ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس کا زیادہ استعمال خون میں شکر کی سطح کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ اس کا بلند گلائسیمک انڈیکس اور فرکٹوز کی موجودگی ذیابیطس کے انتظام کو مشکل بنا سکتی ہے، خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے۔ ماہرین کی تجویز ہے کہ ذیابیطس کے مریض تربوز کو محدود مقدار میں اور ڈاکٹر کی ہدایت پر کھائیں، جبکہ خون میں شکر کی سطح کی باقاعدہ نگرانی کریں۔ صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، احتیاط، اور آگاہی ناگزیر ہیں تاکہ ذیابیطس کے مریض اپنی صحت کو بہتر رکھ سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین