کسی بھی ملک کی ترقی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا کردار مرکزی ہوتا ہے، تعلیم و تحقیق کے بغیر ترقی پذیر ملکوں کا پائوں پر کھڑا ہونا ناممکن ہے، تعلیم کی ترقی سے مراد ملک بھر میں تعلیم کی مساوی ترقی اور سرگرمیاں ہیں، جب تک وفاق سمیت چاروں صوبوں میں یکساں تعلیمی ماحول قائم نہیں ہو گا قومی سطح پر اس کے خاطر خواہ نتائج ظاہر نہیں ہونگے۔ پاکستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں عدم مسابقت اور عدم تعاون ہے۔ کچھ صوبوں کے طلبہ اپنے صوبوں کی بجائے اسلام آباد اور لاہور کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اگر ان کے اپنے صوبوں کے تعلیمی ادارے معیار اور سہولتوں سے بہرہ مند ہوں تو طلبہ و طالبات کبھی بھی اپنے صوبوں کو چھوڑ کر دوسرے صوبوں میں جانا پسند نہ کریں، جامعہ پشاور ایک قدیم اور نامور یونیورسٹی کا مقام رکھتی ہے مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا تعلیمی معیار گر رہا ہے اور طلبہ و طالبات کا یہاں داخل ہونے کا رجحان دن بدن کم ہوتا چلاجارہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ایک اطلاع کے مطابق طلبہ کی عدم دلچسپی کی بڑی وجہ تعلیمی معیار گرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی فیسوں اور اخراجات میں روز افزوں بڑھتا ہوا اضافہ ہے۔ کے پی کے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لا کر عوامی و قومی وسائل کا رخ تعلیم کو سستا اور عام کرنے کی طرف موڑے۔
جامعہ پشاور
ملک کے معتبر تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والی جامعہ پشاور اس وقت اعلیٰ تعلیم کے شدید بحران سے دوچار ہے، جہاں متعدد اہم شعبے مکمل طور پر طلبہ سے خالی ہو چکے ہیں۔ یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے داخلوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، اور جدید ترین علوم میں بھی دلچسپی کا فقدان سامنے آ رہا ہے۔
اعداد و شمار کا تشویشناک منظرنامہ
جامعہ پشاور کی سرکاری دستاویزات کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران مختلف شعبہ جات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ پانچ برسوں میں کئی ایسے مضامین ہیں جن میں ایک بھی طالب علم نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان ظاہر نہیں کیا۔حیران کن طور پر، کمپیوٹر سائنس جیسے وقت کے اہم ترین مضمون میں بھی 2020 سے اب تک صرف ایک طالب علم ایم فل یا پی ایچ ڈی کی سطح پر زیرِ تعلیم ہے۔ سافٹ ویئر انجینئرنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے جدید ترین شعبہ جات میں تو کوئی طالب علم ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کر ہی نہیں رہا۔
دیگر متاثرہ شعبہ جات
ڈیٹا سائنس، فیشن ڈیزائننگ، اور انٹیریئر ڈیزائن جیسے تخلیقی اور جدید رجحانات والے مضامین میں بھی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسیں بالکل خالی پڑی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیٹیکل سائنس، سائیکالوجی، اردو، ریجنل سٹڈیز، اور فلاسفی جیسے علمی مضامین بھی نظرانداز ہو چکے ہیں۔ پشتو زبان جیسے علاقائی اور ثقافتی اہمیت کے حامل شعبے میں بھی ایک بھی طالب علم زیر تعلیم نہیں۔2020 میں یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروگرامز میں مجموعی طور پر 178 طلبہ داخل تھے، جو 2025 تک گھٹ کر محض 66 رہ گئے ہیں۔ اس وقت یونیورسٹی کے تین اہم شعبہ جات، یعنی انٹیریئر ڈیزائن، بزنس انٹیلی جنس اور جینڈر سٹڈیز میں صرف ایک ایک طالب علم زیرِ تعلیم ہے، جو اس تعلیمی زوال کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔
اسے بھی پڑھیں: دنیا میں بہترین تعلیمی نظام رکھنے والے ممالک کون سے ہیں؟
طلبہ کی مجموعی تعداد میں بھی کمی
دستاویزات کے مطابق 2022 میں جامعہ پشاور میں تمام پروگرامز میں مجموعی طور پر 4708 طلبہ زیر تعلیم تھے، تاہم یہ تعداد اب کم ہو کر 4081 ہو گئی ہے، یعنی دو سال میں 600 سے زائد طلبہ کی کمی ہوئی ہے۔ اس تنزلی کا براہِ راست اثر نہ صرف علمی ماحول بلکہ تعلیمی معیار اور تحقیق کے فروغ پر بھی پڑ رہا ہے۔
وجوہات کیا ہیں؟
یونیورسٹی حکام کے مطابق اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کی دلچسپی میں کمی کی چند بڑی وجوہات میں ملک بھر میں جامعات کی بڑھتی ہوئی تعداد، فیسوں میں بے تحاشا اضافہ، اور اسکالرشپ کے مواقع میں کمی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ اب کم قیمت اور قریبی متبادل تعلیمی اداروں کا رخ کر رہے ہیں۔
ماہرینِ تعلیم اس بحران کو نہ صرف معاشی وجوہات بلکہ تعلیمی پالیسیوں میں دور اندیشی کے فقدان، تحقیق کی حوصلہ افزائی میں کمی، اور روزگار سے جڑی اعلیٰ تعلیم کی کمزور افادیت سے بھی جوڑتے ہیں۔
جامعہ کا مؤقف
جامعہ پشاور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور داخلوں میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف اصلاحاتی منصوبے زیر غور ہیں۔ اسکالرشپ اسکیموں کی بحالی، جدید کورسز کا آغاز، اور صنعتی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرنے جیسے اقدامات بھی زیر تجویز ہیں تاکہ طلبہ میں دوبارہ اعتماد اور دلچسپی بحال کی جا سکے۔
قومی سطح پر سوالات
جامعہ پشاور جیسے مرکزی ادارے میں اعلیٰ تعلیم کی یہ زبوں حالی ملک کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان بن کر ابھری ہے۔ جب اعلیٰ سطح کی تعلیم میں دلچسپی کم ہو جائے، تو نہ صرف تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ قومی ترقی، تحقیق، اور ٹیکنالوجی کے شعبے بھی شدید دھچکے کا شکار ہوتے ہیں۔





















